2021ء میں دنیائے کرکٹ کے کھاتے میں کون آگے رہا؟

2021ء کے کیلنڈر ایئر میں کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کی مجموعی اور انفرادی کارکردگی کا جائزہ۔
اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2021 05:03pm

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 2021ء کرکٹ کا کھیل کورونا کی وبا پر حاوی رہا۔ اس سال ہم نے کرکٹ کی دنیا کے چند دلچسپ مقابلے دیکھے، کئی ریکارڈ بنے اور ٹوٹے مگر کرکٹ نے ہر سال کی طرح اس سال بھی پوری قوم کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ بہت سے کھلاڑیوں نے نئے سنگ میل عبور کیے اور کئی بجھے بجھے نظر آئے۔ تاہم آخر میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کو پرکھنے کے لیے اعداد و شمار کی ہی کسوٹی رہ جاتی ہے۔

چنانچہ سال کے آخر میں اس تحریر کے ذریعے نمبروں کے اعتبار سے ٹیموں اور کھلاڑیوں کی 2021ء میں مجموعی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کھیلے گئے مجموعی مقابلے

اس سال مجموعی طور پر 42 انٹرنیشنل ٹیسٹ میچ کھیلے گئے، جن میں آئی سی سی کے 12 مکمل اراکین میں سے آئرلینڈ کے سوا سبھی ممالک نے حصہ لیا۔ اگر ون ڈے انٹرنیشنل کی بات کی جائے تو 2021ء میں 20 ٹیموں نے 74 ون ڈے کھیلے۔ تاہم ٹی 20 کرکٹ میں آئی سی سی کے فل ممبران اور ایسوسی ایٹ ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس سال کُل 71 ممالک نے 331 ٹی 20 میچ کھیلے!

اس سال سب سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والا ملک انگلینڈ تھا جس نے 14 میچوں میں حصہ لیا جبکہ سب سے زیادہ ون ڈے آئرلینڈ نے کھیلے جن کی تعداد 17 تھی۔ ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کو دیگر ممالک پر ہمیشہ برتری حاصل رہی ہے۔ یہ سب سے زیادہ ٹی 20 میچ کھیلنے والا ملک رہا ہے اور اس سال بھی اس نے دیگر 70 ملکوں کے مقابلے میں زیادہ میچوں میں حصہ لیا جن کی تعداد 29 ہے۔

ذیل میں سال 2021 ء کے دوران کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں حصہ لینے والے ممالک کی کارکردگی کا ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے:

ٹیسٹ کرکٹ

ٹیم ریکارڈز

اس سال انگلینڈ نے 14، بھارت نے 13، ویسٹ انڈیز نے 10، پاکستان اور سری لنکا نے 9،9، بنگلہ دیش نے 7، نیوزی لینڈ نے 6، جنوبی افریقہ اور زمبابوے نے 5، 5، آسٹریلیا نے 4 اور افغانستان نے 2 ٹیسٹ کھیلے۔ تاہم کامیابی کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت سب سے آگے رہے۔

اگرچہ یہ دونوں ایک دوسرے کے روایتی حریف رہے ہیں مگر موجودہ سیاسی تنازعات کے باعث ایک دوسرے کے خلاف نہیں کھیل پارہے ہیں۔ دونوں نے اس سال مختلف ممالک کے خلاف کھیل کر 7، 7 فتوحات حاصل کیں جو دیگر تمام ٹیموں سے زیادہ تھیں۔ تاہم کامیابی کے تناسب کے لحاظ سے پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل رہی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت سب سے آگے رہے— فوٹو: اے ایف پی
ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت سب سے آگے رہے— فوٹو: اے ایف پی

بھارت نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے ہی برابر یعنی 7 فتوحات حاصل کیں— فوٹو: رائٹرز
بھارت نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے ہی برابر یعنی 7 فتوحات حاصل کیں— فوٹو: رائٹرز

رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا ٹوٹل بنانے کا ریکارڈ نیوزی لینڈ نے قائم کیا۔ جنوری میں کیویز نے پاکستان کے خلاف کرائسٹ چرچ میں کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں کے نقصان پر 659 رنز بنا کر اننگ ختم کرنے کا اعلان کیا جبکہ سری لنکا نے اپریل میں پالی کیلے کے مقام پر بنگلہ دیش کے خلاف 8 وکٹیں کھو کر 648 رنز (ڈیکلیئرڈ) بنائے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور 8 کے نقصان پر 510 (ڈیکلئرڈ) تھا جو اس نے مئی میں زمبابوے کے خلاف ہرارے میں بنایا تھا۔

رواں سال ایک اننگ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ نیوزی لینڈ نے قائم کیا — فوٹو: اے پی
رواں سال ایک اننگ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ نیوزی لینڈ نے قائم کیا — فوٹو: اے پی

نیوزی لینڈ نے جہاں 2021ء میں سب سے زیادہ اسکور بنانے کا ریکارڈ قائم کیا وہیں سب سے کم اسکور کا ریکارڈ بھی اسی کے نام رہا۔ ممبئی میں بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم صرف 62 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ اس سال ٹیسٹ کرکٹ میں صرف بھارت نے 100 سے کم رنز بنائے، بھارتی ٹیم نے اگست میں لیڈز کے مقام پر انگلینڈ کے خلاف صرف 78 رنز بناسکی تھی۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو قومی ٹیم کا ایک اننگ میں کم سے کم اسکور 186 رہا جو جنوری میں نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں جوڑا گیا تھا۔

2021ء کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیموں نے 7 مرتبہ اننگ سے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان یہ کارنامہ 3 مرتبہ انجام دے کر سرِفہرست رہا جبکہ دیگر ٹیموں میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور بھارت نے ایک ایک مرتبہ اننگ سے فتح حاصل کی۔ سب سے زیادہ مارجن سے کامیابی نیوزی لینڈ نے حاصل کی، یہ جنوری کی بات ہے جب کیویز نے کرائسٹ چرچ میں پاکستان کو ایک اننگ اور 176 رنز سے شکست دی جبکہ پاکستان نے اپنی سب سے بڑی فتح اپریل میں زمبابوے کے خلاف ایک اننگ اور 147 رنز سے حاصل کی۔

انفرادی ریکارڈز

2021ء کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے کا انفرادی ریکارڈ انگلینڈ کے بلے باز اور کپتان جوروٹ کے پاس ہے۔ انہوں نے 14 ٹیسٹ کھیل کر 1630 رنز اسکور کیے۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز عابد علی نے بنائے۔ انہوں نے 9 ٹیسٹ میچوں میں 695 رنز اسکور کیے۔ یاد رہے کہ عابد علی 2021ء میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے 5ویں کھلاڑی ہیں۔

اس سال کُل 57 انفرادی سنچریاں اسکور کی گئیں جن میں پاکستان کی جانب سے بنائی گئی 7 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ انگلینڈ کے جو روٹ ہی نے قائم کیا۔ انہوں نے 6 سنچریاں اسکور کیں جبکہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ انفرادی سنچریاں فواد عالم نے بنائیں جن کی تعداد 3 ہے۔ سال کے دوران سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کے لحاظ سے وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔

2021ء کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے کا انفرادی ریکارڈ انگلینڈ کے بلے باز اور کپتان جوروٹ کے پاس ہے—اے ایف پی فائل فوٹو
2021ء کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے کا انفرادی ریکارڈ انگلینڈ کے بلے باز اور کپتان جوروٹ کے پاس ہے—اے ایف پی فائل فوٹو

سری لنکا کے دمتھ کرونا رتنے نے 244 رنز بنا کر2021ء میں سب سے بڑا انفرادی اسکور جوڑا۔ انہوں نے یہ ریکارڈ اپریل میں بنگلہ دیش کے خلاف پالی کیلے میں کھیلتے ہوئے بنایا تھا۔ پاکستان کی جانب سے سب سے بڑا اسکور عابد علی نے مئی میں زمبابوے کے خلاف ہرارے کے میدان میں 215 رنز کی ناقابلِ شکست باری کھیلتے ہوئے بنایا تھا۔ یاد رہے کہ رواں سال کے دوران یہ 5واں بڑا اسکور رہا۔

2021ء میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے جو روٹ کو 50 یا اس سے زائد رنز کی سب سے زیادہ کی اننگ کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے ایسی 9 اننگز کھیلیں جبکہ پاکستان کے فواد عالم نے 5 مرتبہ 50 یا زائد رنز کی اننگز کھیلیں۔ سب سے زیادہ چھکے بھارت کے جارحانہ بلے باز رشابھ پنت نے لگائے۔ انہوں نے 11 ٹیسٹ میچوں میں 15 چھکے لگائے۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ چھکے نعمان علی نے لگائے۔ انہوں نے 7 ٹیسٹ کھیل کر 7 چھکے لگائے اور درجہ بندی میں انہوں نے 5ویں پوزیشن حاصل کی۔

اس سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھکے بھارت کے جارحانہ بلے باز رشابھ پنت نے لگائے— فوٹو: اے ایف پی
اس سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھکے بھارت کے جارحانہ بلے باز رشابھ پنت نے لگائے— فوٹو: اے ایف پی

اس سال بھارت کے آف اسپنر روی چندرن ایشون نے 52 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 8 ٹیسٹ کھیل کر یہ ریکارڈ قائم کیا۔ وہ رواں سال کے دوران وکٹوں کی نصف سنچری بنانے والے واحد گیندباز ہیں جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستان کے تیز رفتار باؤلرز شاہین شاہ آفریدی (9 ٹیسٹ میں 47) اور حسن علی (8 میچوں میں 41 وکٹیں) ہیں۔

ایک اننگ میں بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ نیوزی لینڈ کے لیفٹ آرم اسپنر اعجاز پٹیل نے کیا جنہوں نے دسمبر میں بھارت کے خلاف ممبئی میں کھیلتے ہوئے اننگ کی تمام 10 وکٹیں 119 رنز کے عوض حاصل کیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ غیر معمولی کارنامہ انجام دینے والے وہ دنیا کے صرف تیسرے اور نیوزی لینڈ کے پہلے باؤلر ہیں۔ ان سے قبل انگلینڈ کے آف اسپنر جم لیکر نے جولائی 1956ء میں آسٹریلیا کے خلاف مانچسٹر میں، اور بھارت کے لیگ اسپنر انیل کمبلے نے فروری 1999ء میں پاکستان کے خلاف دہلی میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ اننگز میں بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ آف اسپنر ساجد خان نے کیا۔ انہوں نے دسمبر میں ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے خلاف صرف 42 رنز دے کر 8 وکٹیں لیں۔ یہ اعجاز پٹیل کے بعد 2021ء کے دوران باؤلنگ میں بہترین انفرادی کارکردگی رہی۔

ٹیسٹ میں باؤلنگ کے متاثرکن اعدادوشمار میں بھی اعجاز پٹیل آگے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ میں 225 رنز دے کر 14 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ٹیسٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دوسرے باؤلر پاکستان کے ساجد خان ہیں۔ انہوں نے دسمبر میں بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکا میں 128 رنز کے عوض 12 وکٹیں لیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں رواں سال کے دوران صرف 2 ایسے باؤلرز ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ مرتبہ 5 یا اس سے زائد وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا۔ بھارت کے آکشر پٹیل نے 5 اور پاکستان کے حسن علی نے 8 میچ کھیل کر 5، 5 مرتبہ 5 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کیں جبکہ میچ میں 10 یا اس سے زائد وکٹیں لینے کا کارنامہ 10 باؤلرز نے ایک، ایک مرتبہ انجام دیا۔ ان میں پاکستان اور سری لنکا کے 3، 3، نیوزی لینڈ کے 2 اور بھارت اور افغانستان کے ایک، ایک باؤلرز شامل ہیں۔

کسی بھی میچ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دوسرے باؤلر پاکستان کے ساجد خان ہیں—— فوٹو: اے ایف پی
کسی بھی میچ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دوسرے باؤلر پاکستان کے ساجد خان ہیں—— فوٹو: اے ایف پی

وکٹوں کے پیچھے سے سب سے زیادہ شکار کرنے والے وکٹ کیپر انگلینڈ کے جوس بٹلر ہیں جنہوں نے 8 ٹیسٹ کھیل کر 40 بلے بازوں کے شکار کیے، ان میں 39 کیچ اور ایک اسٹمپنگ شامل ہیں۔ پاکستان کی جانب سے محمد رضوان نے 9 ٹیسٹ میچوں میں 27 شکار (26 کیچ اور ایک اسٹمپنگ) کیے اور سالانہ درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر آئے۔ سب سے زیادہ کیچ پکڑنے والے فیلڈر جو روٹ ہیں جنہوں نے 14 میچ کھیل کر 18 کیچ پکڑے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان کے عمران بٹ رہے جنہوں نے 6 ٹیسٹ میں 16 کیچ پکڑے۔

رواں سال کے دوران سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جو روٹ نے کھیلے جن کی تعداد 14 ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے عابد علی 9 ٹیسٹ کھیل کر چھٹے نمبر پر آئے۔ روٹ نے اپنے تمام 14 میچز میں انگلینڈ کی قیادت کی اور کپتان کی حیثیت سے بھی سب سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑی بنے جبکہ بابر اعظم 8 ٹیسٹ میں پاکستان کی کپتانی کرکے تیسرے نمبر پر رہے۔

ون ڈے کرکٹ

ٹیم ریکارڈز

2021ء کے دوران 20 ملکوں نے مجموعی طور پر 74 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے۔ سب سے زیادہ میچ کھیلنے والا ملک آئرلینڈ رہا جس نے 17 ون ڈے کھیلے۔ دیگر ملکوں میں سری لنکا نے 15، بنگلہ دیش نے 12، جنوبی افریقہ نے 10، اومان نے 10، انگلینڈ، امریکا اور ویسٹ انڈیز نے 9، 9 اور پاپوانیوگنی نے 8 میچ کھیلے۔ بھارت، نیپال، نیدرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، زمبابوے اور پاکستان نے 6، 6 ون ڈے میچوں میں حصہ لیا۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اور افغانستان نے 3، 3، اور نمیبیا اور متحدہ عرب امارات نے 2، 2 میچ کھیلے۔ تاہم سب سے زیادہ فتوحات بنگلہ دیش نے حاصل کیں جن کی تعداد 8 ہے۔

2021ء کے دوران 2 سب سے بڑے مجموعے جوڑنے کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے پاس ہے۔ جنوبی افریقہ نے 16 جولائی کو ڈبلن میں آئرلینڈ کے خلاف 50 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 346 رنز اور 4 اپریل کو جوہانسبرگ میں پاکستان کے خلاف 6 وکٹ گنوا کر 50 اوورز میں341 رنز بنائے تھے۔ اس سال پاکستان کا 50 اوورز میں زیادہ سے زیادہ اسکور 9 وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز تھا جو 13 جولائی کو برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف بنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ سال کا چھٹا بڑا اسکور ہے۔

ون ڈے میں سب سے کم ٹوٹل بنانے والی پاپوانیوگنی کی ٹیم رہی۔ یہ ٹیم 10 ستمبر کو نیپال کے خلاف الامیرات میں 19.1 اوورز میں صرف 82 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ اس سال ون ڈے میں 100 رنز سے کم اسکور بنانے والی یہ واحد ٹیم تھی۔

2021ء میں پاکستان کا سب سے کم اسکور 141 رہا جو انگلینڈ کے خلاف 8 جولائی کو کارڈف میں جوڑا گیا تھا۔ یہ پورے سال کا 13واں سب سے کم اسکور رہا۔

2021ء کے دوران 2 سب سے بڑے اسکور جوڑنے کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے پاس ہے
2021ء کے دوران 2 سب سے بڑے اسکور جوڑنے کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے پاس ہے

اس سال رنز کے سب سے بڑے مارجن سے جیتنے والا ملک نیوزی لینڈ رہا جس نے 26 مارچ کو ویلنگٹن میں بنگلہ دیش کو 164 رنز سے شکست دی۔ وکٹوں کے مارجن سے سب سے بڑی فتح 9 وکٹوں کے ساتھ انگلینڈ نے 8 جولائی کو کارڈف میں پاکستان کو ہرا کر حاصل کی۔

سب سے کم رنز کے مارجن سے جیتنے والا ملک نیدرلینڈ ہے جس نے 2 جون کو الرشٹ کے مقام پر آئرلینڈ کو صرف ایک رن سے ہرایا جبکہ سب سے کم وکٹوں کے مارجن سے کامیابی نیپال نے اس وقت حاصل کی جب وہ آل امیرات کے مقام پر پاپوا نیوگنی کو صرف 2 وکٹوں سے شکست دینے میں کامیاب رہا۔ پاکستان کی سب سے کم (3) وکٹوں سے فتح بھی جنوبی افریقہ ہی کے خلاف 2 اپریل کو سنچورین میں کھیلے گئے میچ میں حاصل کی۔

انفرادی ریکارڈز

رواں سال آئرلینڈ کے بلے باز پال اسٹرلنگ 14 میچوں میں 705 رنز بنا کر سب سے آگے رہے۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بابر اعظم نے اسکور کیے۔ انہوں نے 6 میچوں میں 405 رنز بنائے جو سال بھر کا 7واں بڑا انفرادی مجموعہ تھا۔ اس سال کی سب سے بڑی اننگ پاکستان کے فخرزمان نے کھیلی۔ انہوں نے 4 اپریل کو جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 155 گیندوں پر 193 رنز بنائے۔

رواں سال آئرلینڈ کے بلے باز پال اسٹرلنگ 14 میچوں میں 705 رنز بنا کر سب سے آگے رہے—فوٹو اے ایف پی
رواں سال آئرلینڈ کے بلے باز پال اسٹرلنگ 14 میچوں میں 705 رنز بنا کر سب سے آگے رہے—فوٹو اے ایف پی

2021ء کے دوران بننے والی انفرادی سنچریوں کی تعداد 34 رہی۔ اس فہرست میں 3 سنچریوں کے ساتھ سب سے آگے اسٹرلنگ ہیں۔ پاکستان کے بابر اعظم اور فخر زمان نے 2، 2 سنچریاں اسکور کیں۔ سب سے زیادہ نصف سنچریاں اسکور کرنے والے بلے باز بنگلہ دیش کے تمیم اقبال اور آئرلینڈ کے اسٹرلنگ رہے۔ دونوں نے 5، 5 نصف سنچریاں بنائیں جبکہ پاکستان کی طرف سے بابر اور امام الحق نے 3، 3 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ سال میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بلے باز امریکا کے جے ایس ملہوترہ تھے جنہوں نے 6 میچوں میں 21 چھکے مارے جبکہ پاکستان کی جانب سے فخر زمان نے 6 میچوں میں 13 چھکے لگائے۔

2021ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر سری لنکا کے پی وی ڈی چمیرا رہے جنہوں نے 14 میچوں میں 20 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے 14 میچوں میں 13 وکٹیں لیں۔ رواں سال ون ڈے کرکٹ میں بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ نیپال کے سندیپ لمی چھنے نے کیا، انہوں نے 10 ستمبر کو پاپوا نیوگنی کے خلاف آلا میرات میں صرف 11 رنز کے عوض 6 وکٹیں لیں۔

2021ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر سری لنکا کے پی وی ڈی چمیرا رہے
2021ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر سری لنکا کے پی وی ڈی چمیرا رہے

یہ واحد باؤلر ہیں جنہوں نے اس سال ایک روزہ مقابلوں میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی جانب سے حسن علی نے 51 رنز کے بدلے 5 وکٹیں لی تھیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ لارڈز میں 10 جولائی کو انگلینڈ کے خلاف انجام دیا۔ رواں برس مجموعی طور پر 13باؤلرز نے ون ڈے میچوں میں 4 یا اس سے زائد وکٹیں 2، 2 مرتبہ حاصل کیں۔ ان میں بنگلہ دیش کے 3 باؤلرز نسوم احمد، مستفیض الرحمٰن اور شکیب الحسن بھی شامل ہیں۔ اس سال 17 باؤلرز ایسے تھے جنہوں نے ایک، ایک مرتبہ اننگ میں 5 وکٹیں حاصل کیں، ان میں پاکستان کے حسن علی بھی شامل ہیں جبکہ انگلینڈ، آئرلینڈ اور نمیبیا کے 2، 2 گیندبازوں نے بھی یہ کارنامہ انجام دیا۔

آئرلینڈ کے لورکن ٹکر اس سال کے بہترین وکٹ کیپر ثابت ہوئے۔ انہوں نے 14ون ڈے میچوں میں 17 شکار کیے جبکہ پاکستان کی جانب سے محمد رضوان نے 6 میچوں میں 5 شکار کیے۔ سب سے زیادہ کیچ پکڑے والے فیلڈر نیپال کے خوشال بھرتل تھے۔ انہوں نے 6 میچوں میں 9 کیچز پکڑے۔

اس سال سب سے زیادہ میچ کھیلنے والوں کی تعداد 7 تھی۔ ان سب نے 14، 14 میچوں میں حصہ لیا۔ ان میں 5 آئرش، 2 سری لنکن کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ میچوں میں کپتانی کرنے والے کھلاڑی آئرلینڈ کے اینڈریو بلبرنی ہیں۔ انہوں نے 14 ون ڈے میچوں میں اپنے ملک کی قیادت کی۔ پاکستان کی طرف سے بابراعظم 6 میچوں میں قومی ٹیم کے کپتان رہے۔

ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ

2021ء کے دوران دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ سرگرمی اس کے سب سے مختصر فارمیٹ یعنی ٹی 20 کرکٹ میں نظر آئی۔ رواں سال کُل 331 ٹی 20 میچ کھیلے گئے جن میں 71 ٹیموں نے حصہ لیا۔ سب سے زیادہ میچ پاکستان نے کھیلے جن کی تعداد 29 ہے۔ دیگر ممالک میں بنگلہ دیش 27، نیوزی لینڈ 23 اور آسٹریلیا 22 میچ کھیل کر نمایاں رہے۔

ٹیم ریکارڈز

2021ء میں سب سے زیادہ اسکور کرنے والی ٹیم کینیڈا تھی جس نے 14 نومبر کو پاناما کے خلاف کولج کے مقام پر مقررہ 20 اوورز میں صرف ایک وکٹ کھو کر 245 رنز بنائے۔ 14 نومبر کو موزمبیق کے خلاف 6 وکٹوں کے نقصان پر 242 رنز اسکور کرنے والی ٹیم تنزانیہ دوسرے نمبر پر رہی۔ پاکستان کا سب سے زیادہ اسکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 232 رنز تھا جو اس نے 16 جولائی کو ناٹنگھم میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا۔ یہ اس سال کا 8واں سب سے بڑا اسکور تھا۔

کسی بھی اننگ میں سب سے کم اسکور 19 اکتوبر کو کگالی کے مقام پر دیکھنے میں آیا جب لیسو تھو کی پوری ٹیم یوگنڈا کے خلاف 12.4اوورز میں صرف 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ سب سے بڑے مارجن سے کامیابی کینیڈا نے حاصل کی جب اس نے 14 نومبر کو کولج میں پاناما کو 208 رنز سے شکست دے دی تھی۔

انفرادی ریکارڈز

اس سال سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز پاکستان کے محمد رضوان رہے جنہوں نے 29 میچوں میں 326 رنز بنائے۔ 2021ء میں ایک ہزار رنز کا سنگِ میل عبور کرنے والے وہ دنیا کے واحد بلے باز ہیں۔ اس حوالے سے دوسرے نمبر پر آنے والے کھلاڑی بھی قومی ٹیم سے ہیں، جی ہاں بابر اعظم۔ انہوں نے 29 میچوں میں 939 رنز بنائے اور صرف 61 رنز کے فرق سے ایک ہزار رنز کے سنگ میل تک نہیں پہنچ سکے۔

ٹی 20 کرکٹ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور نیدرلینڈ کے ایم پی او ڈاؤڈ نے ملائشیا کے خلاف 18 اپریل کو کرتی پور میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے 133 رنز بنا کر کیا۔ دوسرا بڑا اسکور 122رنز پاکستان کے بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے خلاف 14 اپریل کو سنچورین میں بنایا تھا۔

ٹی 20 کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز پاکستان کے محمد رضوان رہے— فائل فوٹو / پی سی بی
ٹی 20 کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز پاکستان کے محمد رضوان رہے— فائل فوٹو / پی سی بی

اس سال ٹی 20 کرکٹ میں 16 انفرادی سنچریاں اسکور کی گئیں۔ پاکستان اور انگلینڈ کی جانب سے 2، 2 سنچریاں بنائی گئیں جبکہ 12 دیگر ممالک کی طرف سے ایک، ایک سنچری اسکور کی گئی۔ سب سے زیادہ نصف سنچریاں، یعنی 50 یا زائد رنز، بنانے والے کھلاڑی پاکستان کے محمد رضوان تھے، جنہوں نے 29 میچوں میں 13 مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان ہی کے بابر اعظم تھے جنہوں نے یہ کارنامہ 10 مرتبہ انجام دیا۔

سال بھر کے دوران سب سے زیادہ چھکے لگانے والے کھلاڑی پاکستان کے محمد رضوان تھے۔ انہوں نے 42 چھکے لگائے جبکہ نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل 18 میچوں میں 41 چھکے لگا کر دوسرے نمبر پر رہے۔ ٹی 20 مقابلے میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ مشترکہ طور پر 2 کھلاڑیوں نے قائم کیا۔ انگلینڈ کے لیام لیونگسٹن نے 16 جولائی کو ناٹنگھم میں پاکستان کے خلاف 9 چھکے لگائے جبکہ اتنے ہی چھکے ویسٹ انڈیز کے ایون لیوس نے آسٹریلیا کے خلاف اسی دن گراس آئی لیٹ میں لگائے۔ پاکستان کی جانب سے محمد رضوان تیسرے نمبر پر رہے۔ انہوں نے 11 فروری کو لاہور میں جنوبی افریقہ کے خلاف 7 چھکے لگائے تھے۔

2021 ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے 2 باؤلرز ہیں: ایک سری لنکا کے ہسارنگا ڈی سلوا اور دوسرے جنوبی افریقہ کے تبریز شمسی۔ دونوں نے 36، 36 وکٹیں حاصل کیں۔ اول الذکر نے 20 اور مؤخر الذکر نے 22 میچوں میں یہ ریکارڈ قائم کیا۔ پاکستان کی جانب سے حسن علی نے 18 اور حارث رؤف نے 23 میچوں میں 25، 25 وکٹیں لیں اور دونوں 7ویں نمبر پر رہے۔

سارنگا  ڈی سلوا—اے پی
سارنگا ڈی سلوا—اے پی

تبریز شمسی—فائل فوٹو اے ایف پی
تبریز شمسی—فائل فوٹو اے ایف پی

اننگ میں باؤلنگ کی بہترین کار کردگی کا مظاہرہ نائجیریا کے پیٹر آہو نے کیا جب وہ سیرالیون کے خلاف 24 اکتوبر کو لاگوس میں صرف 5 رنز دے کر 6 وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ یوگنڈا کے دنیش نکرانی نے 19 اکتوبر کو کگالی میں لیسو تھو کے خلاف صرف 7 رنز کے عوض 6 وکٹ لیں۔ 4 یا اس سے زائد وکٹ لینے کا کارنامہ 13 مختلف باؤلرز نے 2، 2 مرتبہ انجام دیا۔ ان میں بنگلہ دیش کے 3 باؤلرز شامل ہیں۔

وکٹوں کے پیچھے سے سب سے زیادہ شکار کرنے والے وکٹ کیپر کینیا کے عرفان کریم تھے۔ انہوں نے 13 میچوں میں 23 بلے بازوں کا شکار کیا، ان میں 15 کیچ اور 8 اسٹمپنںگ شامل ہیں۔ دوسرے نمبر پر پاکستان کے محمد رضوان رہے انہوں نے 29 میچوں میں 22 شکار کیے جن میں 20 کیچ اور 2 اسٹمپنںگ شامل ہیں۔

سب سے زیادہ کیچ پکڑنے والے فیلڈر پاکستان کے بابر اعظم رہے۔ انہوں نے 29 میچوں میں 17 کیچ پکڑے جبکہ سب سے زیادہ کیچ نمیبیا کے گرہرڈ اراسمس نے پکڑے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ انہوں نے 5 اکتوبر کو دبئی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف میچ میں 4 کیچ پکڑے تھے۔ پاکستان کی جانب سے یہ ریکارڈ شاہین شاہ آفریدی نے قائم کیا جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف 16 جولائی کو ناٹنگھم میں 3 کیچ پکڑے۔

سال بھر کے دوران سب سے زیادہ ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلنے والے کرکٹر پاکستان ہی کے بابر اعظم اور رضوان تھے۔ دونوں نے 29، 29 میچ کھیلے جبکہ بابر نے ان تمام میچوں میں پاکستان کی قیادت کرکے 2021ء کے دوران سب سے زیادہ میچوں کی کپتانی کا ریکارڈ قائم کیا۔

2021ء میں سب سے زیادہ ٹی 20 میچوں کی کپتانی کا ریکارڈ بابر اعظم نے قائم کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
2021ء میں سب سے زیادہ ٹی 20 میچوں کی کپتانی کا ریکارڈ بابر اعظم نے قائم کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

یہ تھا 2021ء کے کیلنڈرایئر میں کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کی مجموعی اور انفرادی کارکردگی کا جائزہ۔

توقع ہے کہ اگلے سال کرکٹ کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور قومی کھلاڑی اپنی کامیابیوں سے ہمارا دل جیت لیں گے۔