’سال 2021 میں سائبر جرائم کی ایک لاکھ سے زائد شکایات رپورٹ ہوئیں‘

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2022
ان شکایات میں 23 فیصد شکایتیں درج کروانے کےلیے فیس بک کا استعمال کیا گیا—فائل فوٹو: ڈان
ان شکایات میں 23 فیصد شکایتیں درج کروانے کےلیے فیس بک کا استعمال کیا گیا—فائل فوٹو: ڈان

ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اسمارٹ فونز سمیت دیگر آلات کے پھیلاؤ کے ساتھ سال2021 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے( ایف آئی اے) کو ملک بھر سے موصول ہونے والیں سائبر جرائم کی شکایات ایک لاکھ سے تجاوز کر گئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اےکے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے بتایا کہ ہمیں یکم جنوری سے 31 دسمبر2021 تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 2 ہزار 356 شکایات موصول ہوئیں، 23 فیصد شکایات میں فیس بک کو بطور ذریعہ استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا ’سائبر کرائم کی شکایتیں رپورٹ ہونا قانون نافذ کرنے والے ادارے پر شہریوں کے اعتماد کی عکاسی ہے، ایف آئی اے نے عوام کے لیے ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا تھا اور کیسز رپورٹ کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ایف آئی اے سے مدد طلب کرسکتے ہیں کیونکہ یہ واحد قانونی ادارہ ہے جو سائبر جرائمز کی تحقیقات اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایف آئی اے نے سائبر جرائم میں ملوث 20 افراد کو گرفتار کرلیا

ڈیجیٹل حقوق کی رضاکار نگہت داد نے اتفاق کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے لوگوں تک پہنچنے کے لیے مضبوط اقدامات کیے ہیں۔

تاہم انہوں نے محسوس کیا کہ ضروری نہیں کہ اس سے یہ ظاہر ہو کہ لوگ ادارے پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’ میرا خیال ہے کہ انٹرنیٹ ککی مداخلت کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کے حوالے سےشعور میں اضافہ ہوا ہے اور اب مختلف شہروں میں لوگ سائبر کرائم ونگز کی موجودگی کے بارے میں جانتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال میں سائبر ونگز کی تعداد میں اضافے کے باعث بھی شکایتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ تمام تر شکایتیں مجرمانہ کیسز سے متعلق نہیں ہوتیں، ایف آئی اے پہلے ہر ایک شکایت کی تصدیق کرتا ہے اور تصدیق کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال ایک لاکھ 2 ہزار 356 شکایات درج کی گئیں، جن میں سے 80 ہزار 641 کی تصدیق کی گئی اور ان میں سے 15 ہزار 932 تحقیقات کے آغاز کے معیار پر پورا اتریں۔

برقی جرائم کی روک تھام کے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مجموعی طور پر ایک ہزار 202 کیسز درج کیے گئے جبکہ ایک ہزار300 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مالیاتی جرائم کے ملزم کی ’سہولت کاری’ پر ایف آئی اے کے سابق سربراہ سے پوچھ گچھ

سرکاری ۲اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 میں رپورٹ ہونے والی 32 فیصد شکایات طلبا کی جانب سے کی گئیں جبکہ 25 فیصد شکایات مالیاتی جرائم سے متعلق تھیں۔

تاہم مالیاتی دھوکا دہی کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ رہی، اس سلسلے میں 427 مقدمات درج کیے گئے جبکہ ان جرائم کے سلسلے میں 388 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

اس کے بعد گزشتہ سال بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کے 267 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 185 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ برس دفعہ 20 (کسی شخص کو وقار کو متاثر) کے تحت 205 کیسز ، دفعہ 21 ( ریپ/ کسی شخص کی پاکدامنی کو متاثر کرنے)کے تحت 199 کیسز، سائبر دہشت گردی/ نفرت انگیز تقاریر کے 76 کیسز جبکہ 49 کیسز چائلڈ پورنوگرافی کے درج کیے گئے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں