بابر اعظم کو جس ’بڑے‘ موقع کا انتظار تھا، بالآخر وہ مل گیا

18 مارچ 2022

2020ء میں پاکستان کا دورہ انگلینڈ وہ اہم موقع تھا جو بابر اعظم کے کیریئر کو ایک نیا موڑ دے سکتا تھا۔ شائقین اور تجزیہ کاروں کا مشترکہ خیال تھا کہ وقت آچکا ہے کہ اب ٹیسٹ بیٹسمین بابر اعظم کو دنیا کے سامنے آجانا چاہیے۔

اس سے قبل بابر اعظم انگلینڈ میں کھیلے گئے ورلڈکپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے۔ وہ ورلڈکپ سے چند ماہ قبل نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی ٹیسٹ سنچری بھی بنا چکے تھے جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف چند چھوٹی مگر اہم اننگز کھیل چکے تھے۔

ورلڈکپ 2019ء کے بعد بابر اعظم نے آسٹریلیا کے خلاف اسی کی سرزمین پر کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے دوران 2 عمدہ اننگز کھیلیں، ایک سنچری بنائی اور ایک میں نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے۔ اس دوران انہوں نے لاتعداد خوبصورت ڈرائیوز بھی کھیلیں اور آسٹریلوی کمنٹیٹرز سے بے تحاشہ تعریفیں بھی بٹوریں لیکن ایک ایسی اننگ جو بابر کے کیریئر کا رخ بدل دیتی، وہ سامنے نہ آئی۔

کسی بھی کھلاڑی کے لیے انگلینڈ یا آسٹریلیا کے میدانوں میں یا ان کے خلاف کچھ بڑا کرنا بہت ضروری ہے۔ انگلینڈ میں اس لیے کہ انگلینڈ کرکٹ کا گھر ہے اور آسٹریلیا اس لیے کہ وہ ایک بڑی ٹیم ہے، ہمارے عہد کی سب سے بڑی کرکٹ ٹیم۔ انڈیا کے خلاف کھیلنا تو پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے صرف ورلڈکپ میں ہی ممکن رہ گیا ہے۔

ہم نے بات شروع کی تھی انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کی، وہاں بابر اعظم کو کئی بار اچھا آغاز ملا لیکن اس کے بعد بابر اسے بڑے اسکور میں نہ بدل سکے۔ بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں گاہے بگاہے سنچریاں بنا رہے تھے، ٹی20 کرکٹ میں ہر دوسرے میچ میں نصف سنچری بنا رہے تھے لیکن جب تک کوئی کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین کارکردگی نہ دکھا دے، اسے بڑے کھلاڑیوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔

2021ء میں بابر اعظم نے اپنی بیٹنگ میں کچھ تبدیلیاں کیں، اسٹرائیک ریٹ کا مسئلہ تھا تو پاور ہٹنگ پر کام کیا، ون ڈے میں اسٹرائیک ریٹ بہتر ہوا اور ٹی20 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک شاندار سنچری بھی سامنے آئی۔ اس دوران قومی ٹیم نے 4 ٹیسٹ سیریز کھیلیں جن میں بابر اعظم نے 2، 3 مرتبہ مناسب اسکور بھی بنایا لیکن ایک شاندار اننگ کا انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا۔ ایک جانب محدود اوورز کی کرکٹ میں بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میں 2 اور ٹی20 میں ایک شاندار اننگ کھیلی، پھر برمنگھم کے میدان پر انہوں نے ایک روزہ میچ میں انگلینڈ کے خلاف 158 رنز کی اپنی سب سے بڑی اننگ کھیلی لیکن دوسری جانب ٹیسٹ سنچری کو بنائے اب تقریباً 2 سال ہوچکے تھے۔

بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم اور بابر اعظم نے وہ کیا جو 1992ء سے کبھی نہیں ہوسکا، لیکن ٹی20 ورلڈکپ کے بعد فارم اچانک بابر سے روٹھ گئی۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں تو ایسا لگا جیسے بابر اعظم بیٹنگ اور کپتانی سب بھول گئے ہیں۔ اگرچہ بابر اعظم خود تو رنز بنا رہے تھے مگر وہ ٹیم کے کسی کام نہیں آرہے تھے اور بعض اوقات رفتار اتنی سست رہی کہ خواہش ہوتی کہ وہ جلدی آؤٹ ہوجاتے تو وہی بہتر تھا۔

ایسے میں کسی کو اسٹرائیک ریٹ کی فکر تھی تو کسی کو کراچی کنگز کے باہر ہونے کی لیکن بہت سے میرے جیسے تھے جنہیں محض یہ پرواہ تھی کہ آسٹریلیا کے خلاف بابر اعظم کا کون سا رخ سامنے آنے والا ہے؟ کیا بابر ایک بڑی ٹیم کے خلاف ایک بڑی اننگ کھیل پائیں گے؟ کیا دن کے اختتام پر کریز پر موجود بابر اگلے دن اپنے اسکور میں اضافہ کر پائیں گے؟

پہلا ٹیسٹ آیا جو سلو وکٹ، دفاعی سوچ اور امام الحق اور عبداللہ شفیق کی بہترین بیٹنگ میں گزر گیا۔ دوسرے ٹیسٹ کا آغاز بھی ویسا ہی تھا۔ ایک ایسی سست وکٹ جس پر آسٹریلیا نے 2 دن سے زیادہ بیٹنگ کی، اب ٹیسٹ میں کیا بچا تھا؟ یعنی اگر قومی ٹیم نے اچھی بیٹنگ کی تو ایک اور ڈرا میچ ہمیں دیکھنے کو ملے گا، اور اگر خراب کھیلا تو شکست کی ندامت۔

اس ٹیسٹ میں قومی ٹیم اور بابر اعظم کے لیے اور کچھ نہیں رکھا تھا۔ اگلے 24 گھنٹے ایسے ہی تھے۔ پہلی اننگ میں جب پوری ٹیم 148 رنز پر ڈھیر ہوگئی تو آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے اس مایوسی میں مزید اضافے کے لیے دوبارہ کھیلنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیکن کمنز کا یہ فیصلہ شاید آسٹریلیا سے زیادہ پاکستان کے حق میں تھا۔ ایک حوصلہ ہاری ہوئی بیٹنگ لائن کو اگر اس وقت 17 اوور فیلڈنگ کے بجائے بیٹنگ کرنی پڑجاتی تو شاید میچ اختتام کے پاس پہنچ سکتا تھا۔

کمنز نے پاکستان کو 172 اوورز میں 506 رنز کا ہدف دیا تو خیال تھا کہ چوتھے دن شام تک یا پانچویں دن لنچ تک میچ ختم ہوجائے گا۔ جس وقت بابر کریز پر آئے تو ابھی پاکستان کو 150 اوورز مزید بیٹنگ کرنی تھی۔ میچ کی چوتھی اننگ میں بابر اعظم کا اس وقت تک زیادہ سے زیادہ اسکور 59 تھا جو 2018ء میں آئرلینڈ کے خلاف بنا تھا۔ لیکن یہاں رنز بنانے سے زیادہ اہمیت دیر تک وکٹ پر وقت گزارنے کی تھی۔

بابر اعظم کے ٹیم میں آنے کے بعد صرف 2 ایسے بیٹسمین آئے جنہیں دیکھ کر لگا کہ یہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل ہوسکتے ہیں۔ ایک حیدر علی اور دوسرے عبداللہ شفیق۔ حیدر علی تو خیر، اب تک امیدوں پر پورا نہیں اتر سکے، لیکن عبداللہ شفیق نے اس سیریز میں بتادیا کہ ان پر بھروسہ بالکل ٹھیک کیا جارہا تھا۔

ویسے تو عبداللہ شفیق جو ڈیڑھ سال سے ٹیم کے ساتھ تھے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مشہور اوپننگ بلے باز کو اس فارمیٹ میں پہلا موقع بنگلہ دیش کے خلاف ملا۔ ان پر بے شمار اعتراضات تھے کہ عبداللہ شفیق میں ایسا کیا خاص ہے کہ صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کی بنیاد پر انہیں ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب زیادہ تر لوگ مان گئے ہیں کہ اگر ٹیم کے ساتھ رکھا تھا تو کچھ وجہ بھی تھی۔

عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کو ساتھ کھیلتے دیکھنے کا ارمان تب سے دل میں تھا جب نیشنل ٹی20 کپ 2020ء میں عبداللہ شفیق نے سنچری کی تھی۔ لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ دونوں ایسے وقت میں ساتھ کھڑے ہوں گے جب پاکستان کو ٹیسٹ بچانے کے لیے ابھی 150 اوورز کھیلنے تھے۔

جو لوگ ابتدائی 2 دن میچ سے دُور رہے تھے اب انہوں نے بھی میچ میں دلچسپی لینا شروع کردیا، اور جو پہلے صرف اسکور دیکھ رہے تھے وہ اب میچ دیکھنے لگ گئے تھے۔

تیسرے سیشن کا آغاز بابر اعظم کی نصف سنچری سے ہوا اور اختتام سے ذرا پہلے سنچری مکمل ہوگئی۔ چوتھے دن کا خاتمہ ہوا تو بہت سے سوال شائقین کے دلوں میں اور زبانوں پر تھے۔ کیا پاکستان میچ جیت سکتا ہے؟ کیا بابر اعظم ڈبل سنچری بنا پائیں گے لیکن سب سے بڑا سوال تھا کہ کیا نیا دن ایک بار پھر بابر کی وکٹ تو نہیں لے جائے گا؟

بابر اعظم نے دن کا پہلا رنز بنایا تو بے شمار لوگوں نے سکون کا سانس لیا، پھر پہلا گھنٹہ گزرا تو بات میچ بچانے سے میچ جیتنے کے بارے میں ہونے لگی لیکن دونوں بیٹسمین نہایت پُرسکون تھے۔ پھر عبداللہ شفیق نے ایک غلطی کی اور ٹیسٹ سنچری کے بہت قریب آکر محروم رہ گئے۔ لیکن کپتان بابر اعظم کریز پر موجود تھے اور ساتھ ہی میچ بچانے کا امکان بھی۔

فواد عالم کی وکٹ گری تو میدان میں محمد رضوان کی آمد ہوئی۔ اب کریز پر وہ جوڑی تھی جو پچھلے سال ٹی20 میں تین بار 150 سے زائد کی شراکت قائم کرچکی تھی۔

بابر اعظم کے 150 رنز ہوچکے تھے لیکن ابھی پاکستان کو مزید 53.3 اوورز کھیلنا تھے اور فتح کے لیے 229 رنز درکار تھے لیکن فتح کا خیال شاید دُور دُور تک دونوں کے ذہنوں میں نہیں تھا، اور ہوتا بھی کیسے کہ ایک وکٹ مزید گرتے ہی لائن لگنے کا قوی امکان تھا۔

چائے کے وقفے سے قبل 2 مسلسل گیندوں پر بابر اعظم کے 2 کیچ گرے، پھر ایک ایل بی ڈبلیو کی اپیل سے بچے تو ایسے میں جیت کی سوچ اگر تھی بھی تو ذہن سے نکل چکی تھی۔ چائے کے وقفے کے بعد 2 اوورز میں 20 رنز بنے تو اس کی وجہ جیت کی کوشش کے بجائے باؤلرز کو حاوی ہونے سے روکنا تھا۔ بابر اعظم میچ پاکستان کے لیے تقریباً بچا ہی چکے تھے اور اب سبھی کو بابر کی پہلی ٹیسٹ ڈبل سنچری کا انتظار تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ وکٹ مشکل ہوتی جارہی تھی اور گیند بیٹ پر ٹھیک سے آنے کے بجائے نیچے رہ رہی تھی اور کچھ باؤلنگ بھی دفاعی تھی کہ بابر اعظم کافی سست ہوگئے۔ اسکور اب روانی سے نہیں بن رہا تھا، شاید 130 سے زائد اوورز تک مسلسل بیٹنگ نے تھکا بھی دیا تھا۔ ایسے میں نیتھن لیون کی ایک گیند ذرا زیادہ اچھلی، گلووز اور پھر پیڈز سے ٹکرائی اور اس بار مارنس لبوشین نے کوئی غلطی نہیں کی۔ بابر اعظم ڈبل سنچری تو نہ کرسکے لیکن ایک بڑی اننگ ضرور کھیل گئے تھے کہ جس کا اعتراف ساری آسٹریلوی ٹیم کی داد تھی۔

بابر اور رضوان جیت کے لیے کیوں نہیں گئے، اس سوال کا جواب اگلی ہی گیند پر فہیم کی وکٹ کی صورت میں سب کے سامنے تھا۔ رضوان نے ساجد خان اور پھر نعمان علی کے ساتھ مل کر میچ کو ڈرا کروا ہی لیا، اسی دوران رضوان کی سنچری بھی مکمل ہوگئی مگر ذہنوں پر ابھی تک بابر اعظم کی اننگ ہی چھائی ہوئی تھی۔

اگرچہ بابر اعظم اپنی ڈبل سنچری نہ کرسکے اور پاکستان کے لیے ایک تاریخی فتح بھی حاصل نہ کرسکے لیکن جیسی اننگ بابر اعظم نے کھیلی ہے اس سے بابر کے ٹیسٹ کیریئر میں ایک نیا رنگ ضرور بھر چکا ہے۔ بابر اعظم جو ابھی تک محدود اوورز کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوا چکے تھے، اب ایک بہترین ٹیسٹ بیٹسمین بن کر بھی سامنے آئیں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں