اسلام آباد کا ’آئرن تھرون‘ اور ’بادشاہ رچرڈ‘

لکھاری مصنف ہیں۔
لکھاری مصنف ہیں۔

میوزیکل چیئرز ایک ایسا کھیل ہے جسے تیار تو بچوں کے لیے کیا گیا ہے لیکن اسے کھیلتے سیاستدان ہیں۔ پاکستانی سیاست کے بازیچہ اطفال یعنی اسلام آباد میں ایک عالم دین، ایک سابق صدر، کچھ نوآموز کھلاڑی اور یہاں تک کہ ایک سابق وزیرِاعلیٰ بھی اس آخری کرسی کے حصول کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

جو لوگ اس مسند پر بیٹھ چکے ہیں انہیں معلوم ہے کہ یہ اختیارات سے زیادہ بس ایک نمائشی چیز ہے۔ یہ دراصل اس افسانوی ’آئرن تھرون‘ کا جدید متبادل ہے جو جارج آر آر مارٹن کے ناول پر بنے ڈرامہ سیریز ’گیمز آف تھرونز‘ میں دکھایا گیا ہے۔

یہ تخت آہن (آئرن تھرون) ایک افسانوی فاتح ایجن تارگیریئن کے حکم پر ’شکست خوردہ لوگوں کی ہزاروں تلواروں کو موم بتیوں کی طرح آپس میں پگھلا کر‘ بنایا گیا تھا۔

ڈرامے کا ایک کردار اسٹینس اس کے بارے میں کہتا ہے کہ اس کی ’پشت پر کانٹے ہیں، فولاد کی مڑی ہوئی پٹیاں اور تلواروں اور چاقوؤں کے نوکیلے سرے آپس میں الجھے ہوئے ہیں‘۔ وہ کہتا ہے کہ ’یہ ایسی نشست نہیں ہے جس پر کوئی شخص آرام سے بیٹھ سکے۔ بعض اوقات مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آخر میرے بھائی اسے اتنی شدت سے کیوں چاہتے ہیں‘۔

مزید پڑھیے: سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر عمل کیوں کرتی ہیں؟

اسلام آباد کا آئرن تھرون حاصل کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اسے اپنے قابو میں رکھنا بھی ایک تھکا دینے والا کام ہے اور اسے چھوڑنا ایک ذلت آمیز سزا۔ اس کے باوجود بھی 1947ء سے اب تک سیاستدانوں کی کئی نسلوں نے اس کے حصول کے لیے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا اور اپنے مستقبل کی قربانی دی ہے۔

ہمارے پریشان وزیرِاعظم کی صورتحال بھی شیکسپیئر کے کردار بادشاہ رچرڈ سوم سے ملتی جلتی ہے۔ رچرڈ سوم کا جملہ ’ایک گھوڑا، ایک گھوڑا! ایک گھوڑے کے بدلے میری بادشاہی!‘ بحرانی صورتحال میں مایوسی کا مترادف بن گیا ہے۔ پچھلے 3 سالوں سے اسلام آباد میں اس جملے کے معنی کچھ بے وقار سے ہوگئے ہیں۔

جب وزیرِاعظم کو اپنے منتخب وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے کہا گیا تو وزیرِاعظم عمران خان نے اصرار کیا کہ عثمان بزدار ناگزیر ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہیں۔ انہوں نے اپنے سابق اے ٹی ایم جہانگیر ترین کی طرف سے بھی بزدار کی برطرفی کے مطالبات کو نظر انداز کردیا۔ وزیرِاعظم نے ان لوگوں کے انتباہات کو بھی نظر انداز کردیا جنہوں نے وزیرِاعظم کو کسی ایسے شخص کی اندھی حمایت سے خبردار کیا تھا جس کی واحد قابلیت صرف اطاعت تھی۔ لیکن وزیرِاعظم ضد میں اپنی پوری بادشاہی کو کسی گھوڑے کے لیے نہیں بلکہ ایک تابعدار مخلوق کے لیے داؤ پر لگانے کو تیار نظر آئے۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے جمع ہونے کے بعد عمران خان نے بھی مبجوراً اپنے طرزِ عمل کو تبدیل کیا۔ اتحادیوں کی تلاش کے دوران ایسا لگا جیسے وہ خود بھی اسی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے مخالفین پر تنقید کرتے تھے۔ اس موقع پر حکومتی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی نے موقع ملتے ہی اپنی چال چل دی۔ پھر عثمان بزدار نے بھی تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔

آسکر 2022ء کی تقریب میں اہلیہ سے متعلق طنزیہ گفتگو پر غصے کا اظہار کرنے والے اداکار ول اسمتھ کی طرح وزیرِاعظم عمران خان کو بھی اپنے غصے پر قابو پانا ہوگا۔ یہاں ایک اور نکتہ ریاستی اداروں کے حوالے سے وزیرِاعظم کا رویہ ہے جو عثمان بزدار کی طرح تابعدار نہیں ہوتے۔

ہفتے کے روز پنجاب کے شہر کمالیہ میں ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے خبردار کیا کہ ’اگر نواز شریف ملک واپس آئے تو وہ عدلیہ کو تقسیم کردیں گے‘۔ اس کے بعد ججوں کے غصے کا سامنا کرنے کا کام انہوں نے اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیا۔

مزید پڑھیے: کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟

اسی طرح وزیرِاعظم نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان میں بیرونی پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں‘۔ تاہم یہ الزامات بھی بہت پرانے ہوچکے ہیں۔ ماضی میں بھی کئی حکمران یہ چال چل چکے ہیں۔ بلاشبہ اب دفترِ خارجہ کو اس غیر ذمہ دارانہ بیان کی وضاحت کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے بھی وزیرِاعظم کے شبہات آسانی سے ختم نہیں ہوسکتے۔ پاکستان میں آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے ایک آزاد الیکشن کمیشن کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو الیکشن کمیشن کو اپنی لونڈی سمجھتی ہیں اور جب اقتدار میں نہیں ہوتی تو الیکشن کمیشن کو عدم اعتماد کی نظر سے دیکھتی ہیں۔

ان سیاسی جماعتوں کو بھارتی چیف الیکشن کمشنر ایم ایس گِل (ایم ایس گِل نے ہی بھارت بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں متعارف کروائی تھیں) کو بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی کی طرف سے دیا گیا جواب یاد رکھنا چاہیے۔

ایم ایس گِل نے 2001ء میں بھارتی الیکشن کمیشن کی گولڈن جوبلی تقربیات میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو مدعو کرنے کے لیے وزیرِاعظم سے درخواست کی۔ اس درخواست پر بھارتی وزیرِاعظم نے جواب دیا کہ ’انہیں آپ کو ضرور مدعو کرنا چاہیے۔ آپ صرف حکومت میں موجود جماعت کے لیے نہیں بلکہ بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کام کرتے ہیں‘۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں کب کب آئین کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا گیا؟

اسلام آباد کے آئرن تھرون پر جو بھی براجمان ہوگا اسے بے پناہ آبادی کے ساتھ ساتھ کم تعلیم یافتہ، آسانی سے گمراہ ہوجانے والے اور ناقص قیادت کے پیچھے چلنے والے شہریوں جیسی حقیقت سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ایسی تقریریں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جن کا آغاز وعدوں اور اختتام غصے پر ہو۔

اپنی خود ساختہ مصیبتوں کے حوالے سے ہم پاکستانی تنہا نہیں ہیں۔ 2010ء میں مصر میں کروائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ عوام ’انصاف اور سیاسی استحکام، مہنگائی میں کمی اور صاف پانی تک رسائی‘ چاہتے ہیں۔

گیم آف تھرونز کا یہ مکالمہ موجودہ حالات کی بالکل درست ترجمانی کرتا ہے کہ ’عوام تو بس بارش، صحت مند اولاد اور کبھی نہ ختم ہونے والا موسمِ گرما چاہتے ہیں۔ اگر ان کی زندگی پُرامن رہے تو انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ حکمران تخت کے لیے چالیں چلتے رہیں‘۔ لیکن یہاں مسئلہ یہی ہے کہ ’ایسا ہوتا نہیں ہے‘۔


یہ مضمون 31 مارچ 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں