اشو لال کے بعد مستنصر حسین تارڑ کی بھی ادبی ایوارڈ لینے سے معذرت

04 اپريل 2022
اصولوں کی خلاف ورزی پر مستنصر حسین نے ایوارڈ لینے سے انکار کیا—فائل فوٹو: عائشہ ولانی
اصولوں کی خلاف ورزی پر مستنصر حسین نے ایوارڈ لینے سے انکار کیا—فائل فوٹو: عائشہ ولانی

سرائیکی زبان کے معروف شاعر اور ادب محمد اشرف المعروف ڈاکٹر اشو لال کے بعد معروف ناول اور سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (اکادمی ادبیات پاکستان) سے ’کمال فن‘ ایوارڈ لینے سے معذرت کرلی۔

اشو لال نے چند دن قبل اکیڈمی کے اعلان کے فوری بعد انعام لینے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد اب مستنصر حسین تارڑ نے بھی ایوارڈ وصول کرنے سے معذرت کرلی۔

’ڈان‘ اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیے جانے کے ضوابط اور روایات کو توڑنے کی بنیاد پر ایوارڈ نہ لینے کا اعلان کیا۔

اپنی مختصر ویڈیو میں مستنصر حسین تارڑ نے بتایا کہ اس بار اکیڈمی نے ایوارڈ دینے کی 20 سے 21 سالہ روایات کو تبدیل کرتے ہوئے ’کمال فن‘ ایوارڈ کو دو شخصیات کو دینے کا اعلان کیا، جو کہ مضحکہ خیز بات ہے۔

ناول نگار کے مطابق آج تک مذکورہ ایوارڈ ایک ہی ادبی شخصیت کو دیا جاتا رہا ہے مگر اس بار روایات سے ہٹ کر ایوارڈ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا جو کہ ناقابل قبول بات ہے۔

سفر نامہ نگار کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ کچھ دن قبل اشو لال نے بھی اپنے نظریات کی بنیاد پر مذکورہ ایوارڈ لینے سے انکار کردیا تھا جو کہ ان کا بنیادی حق تھا اور ان کے خیال میں سرائیکی شاعر نے اپنے حساب سے ٹھیک کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ریاست کی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث شاعر اشو لال کا ایوارڈ لینے سے انکار

مستنصر حسین تارڑ کے مطابق ان کی عمر 83 سال ہوچکی ہے اور انہوں نے 60 سال تک ادب کی ختم کی ہے اور وہ نصف ایوارڈ وصول نہیں کر سکتے۔

انہوں نے دلیل دی کہ روایات سے ہٹ کر ’کمال فن‘ ایوارڈ ایک کے بجائے دو شخصیات کو دینا دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے ان افراد کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے پاکستان لیٹرز اکیڈمی میں انہیں ایوارڈ دینے کے لیے ووٹ دیا۔

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے 31 مارچ کو ’کمال فن‘ کے ایوارڈ کا اعلان کیا تھا، جس کے فوری بعد سرائیکی شاعر اشو لال نے ریاست کی عوام دشمن اور فاشسٹ پالیسیوں کے بعد ایوارڈ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

ڈاکٹر اشو لال نے پہلے ہی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا تھا—فائل فوٹو:  ڈان
ڈاکٹر اشو لال نے پہلے ہی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا تھا—فائل فوٹو: ڈان

اشو لال نے کہا تھا کہ حالیہ حکومت میں ان کے نوجوان لاپتا کیے جا رہے ہیں، فاشسٹ حکومت مقامی افراد کے وسائل پر قابض ہے اور ریاست لوگوں کے دماغوں پر ڈاکا ڈالنے میں مصروف ہے، ایسی صورتحال میں وہ ایوارڈ نہیں لے سکتے۔

پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی جانب سے ’کمال فن‘ ایوارڈ 1997 سے دیا جا رہا ہے، اب تک مذکورہ ایوارڈ ایک ہی ادیب کو دیا جاتا رہا ہے، تاہم اس بار دو ادیبوں کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس بار ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے دیگر ادیبوں میں کشور ناہید، اصغر ندیم سید، محمود شام، محمد اظہار الحق، ڈاکٹر انور احمد، ڈاکٹر راؤف پاریکھ، پروین ملک، ڈاکٹر ریاض مجید، حفیظ خان، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر اباسین یوسف زئی، ناصر علی سید، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈاکٹر ذوالفقار سیال، تاج جویو، ڈاکٹر ضیا الحسن، ڈاکٹر روبینہ شاہین، ڈاکٹر قاسم نسیم، حارث خالق اور ڈاکٹر واحد بخش بزدار شامل تھے۔

مستنصر حسین تارڑ اس سے قبل حکومت پاکستان کی جانب سے 2016 میں ستارہ امتیاز ایوارڈ بھی لے چکے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

اختر علی خان Apr 04, 2022 04:48pm
مستنصر حسین تارڑ کے مطابق ان کی عمر 83 سال ہوچکی ہے اور انہوں نے 60 سال تک ادب کی ختم کی ہے اور وہ نصف ایوارڈ وصول نہیں کر سکتے۔ ایسی فحش غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں بالخصوص ادبی خبروں میں