• KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:22pm
  • LHR: Asr 5:02pm Maghrib 7:06pm
  • ISB: Asr 5:10pm Maghrib 7:16pm
  • KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:22pm
  • LHR: Asr 5:02pm Maghrib 7:06pm
  • ISB: Asr 5:10pm Maghrib 7:16pm

کراچی : ہیٹ ویو کی آمد کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں بھی اضافہ

شائع May 10, 2022
کے ای نے شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافے کی وجہ بجلی کی قلت کو قرار دیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
کے ای نے شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافے کی وجہ بجلی کی قلت کو قرار دیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

محکمہ موسمیات کی جانب سے کراچی سمیت سندھ بھر میں بدھ سے ’ہیٹ ویو‘ کی شدت میں اضافے کا الرٹ جاری ہوتے ہی کراچی الیکٹرک (کے ای) نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات کی جانب سے بتایا گیا کہ سندھ کے وسطی اور بالائی علاقوں میں موجودہ شدید گرمی کی لہر 11 مئی سے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے گی جو 16 مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں 11 مئی سے شدید ’ہیٹ ویو‘ کا امکان

محکمہ موسمیات نے کہا کہ سکھر، دادو، لاڑکانہ، جیکب آباد، شہید بینظٰر آباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، شکارپور اور گھوٹکی میں دن کی اوقات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے جبکہ جامشورو، حیدر آباد، بدین، ٹھٹہ، میرپورخاص، عمرکوٹ میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ کراچی میں 13 سے 14 مئی تک زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے۔

ادارے کی ہیٹ ویو ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ شدید گرم اور خشک موسم فصلوں، سبزیوں اور باغات پر دباؤ کا سبب بن سکتا ہے اور بجلی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے فصلوں کے لیے انتظام کریں، عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ خاص طور پر تیز دھوپ کے اوقات میں جتنا ممکن ہو سکے گھر سے نکلنے سے گریز کریں۔

کراچی میں گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ نمی کا تناسب 61 فیصد رہا۔

یہ بھی پڑھیں: گرمی کی غیرمعمولی لہر سے بھارت، پاکستان میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ

بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ

جہاں شہر کراچی میں کچھ روز سے موسم گرم ہے وہیں کے-الیکٹرک نے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافہ کردیا ہے۔

تاہم کے ای نے شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافے کی وجہ بجلی کی قلت کو قرار دیا ہے جو 300 سے 400 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

زیادہ نقصان والے علاقے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں وقفے وقفے سے 12 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رکھی جارہی ہے، لوڈ منیجمنٹ سے مستثنیٰ علاقوں کو بھی 24 گھنٹوں میں کم از کم 2 بار 2 گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کراچی کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی میں 300 میگاواٹ کی کٹوتی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ

تاہم بجلی کی فراہمی میں ایک ہزار میگاواٹ اضافہ ہونے کے بعد کچھ روز کے لیے صورتحال میں بہتری آئی تھی۔

کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ ایندھن کی قلت کے باعث پیداواری صلاحیت متاثر ہونے کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں 2 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کرنی پڑی۔

مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ کے-الیکٹرک نے انہیں مطلع کیا ہے کہ منگل (آج) سے ان کے علاقوں میں 2 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوگی۔

کارٹون

کارٹون : 21 جولائی 2024
کارٹون : 20 جولائی 2024