افغانستان: کابل میں خواتین کا نقاب کے حکم کے خلاف احتجاج

اپ ڈیٹ 10 مئ 2022
درجن بھر خواتین نے انصاف انصاف کے نعرے لگائے—فوٹو: اے ایف پی
درجن بھر خواتین نے انصاف انصاف کے نعرے لگائے—فوٹو: اے ایف پی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں درجن بھر خواتین نے طالبان کی جانب سے خواتین کو مکمل طور پر اپنا جسم اور چہرہ ڈھانپنے کا حکم جاری کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کابل کے وسطی کے علاقے میں درجن بھر خواتین نے ‘انصاف، انصاف’ کے نعرے لگائے اور احتجاج کیا، جن میں سے اکثر نے نقاب نہیں کیا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’عورت ہوں یہ بھول جائیں، بحیثیت انسان میری آزادی چھین لی گئی‘

قبل ازیں افغانستان کے سپریم لیڈر اور طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں حکم جاری کیا تھا کہ خواتین روایتی برقعے سے مکمل طور پر خود کو ڈھانپ لیں۔

طالبان کی جانب سے گزشتہ برس اگست میں حکومت میں واپس آنے کے بعد شروع کی جانے والی پابندیوں میں سے ایک ہے۔

مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ‘برقع ہمارا حجاب نہیں ہے’، یہ ان کا ہیڈ اسکارف کے مقابلے میں مکمل چھپانے والے برقعے پر اپنے اعتراض کی طرف اشارہ تھا۔

خواتین نے انصاف انصاف کے نعرے لگائے—فوٹو: اے ایف پی
خواتین نے انصاف انصاف کے نعرے لگائے—فوٹو: اے ایف پی

رپورٹ کے مطابق مختصر احتجاج کے بعد مارچ کو طالبان کے جنگجووں کی جانب سے ختم کرادیا گیا، جنہوں نے واقعے کی رپورٹنگ سے صحافیوں کو بھی روک دیا تھا۔

مزید پڑھیں: افغانستان: طالبان کا خواتین کو عوامی مقامات پر برقع پہننے کا حکم

ہیبت اللہ اخونزادہ کے حکم میں خواتین کو ضروری کام کے علاوہ گھروں میں رہنے کا بھی ذکر تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

مظاہرے میں شریک خاتون سائرہ سما عالمیار کا کہنا تھا کہ ‘ہم انسانوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں جانوروں کی طرح گھر کے ایک کونے میں قید ہو کر نہیں’۔

طالبان لیڈر نے حکم نامے میں نئے ڈریس کوڈ پر عمل نہیں کرنے والی خواتین سرکاری ملازمین کو برطرف اور جن مردوں کی بیویاں اور بیٹیاں اس حکم پر عمل کرنے میں ناکام ہوں تو انہیں معطل کرنے کا کہا تھا۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ان دو ادوار کے درمیان 20 برسوں میں خواتین نے تعلیم اور کام کرنے کی طرف پیش رفت کی لیکن روایتی طور طریقے تاحال جاری ہیں۔

ملک کے کئی علاقوں میں ان 20 برسوں کے دوران بھی روایتی برقع پہنتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس حکومت حاصل کرنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ 1996 سے 2001 کے دوران کیے گئے سخت اقدامات کے مقابلے میں نرمی برتی جائے گی لیکن اس کے باوجود کئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان نے اپنے سخت ناقد معروف پروفیسر کو 4 روز بعد رہا کردیا

چند افغان خواتین نے ابتدائی طور پر حکومت پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا جہاں انہوں نے تعلیم اور کام کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم طالبان نے کئی افراد کو حراست میں لیا تھا جبکہ ان کی گرفتاری کے حوالے سے انکار کیا تھا تاہم رہائی کے بعد ان میں سے اکثر خاموش ہیں۔

ضرور پڑھیں

رُوداد ایک مقدمے کی

رُوداد ایک مقدمے کی

وہ سب کچھ بیج کر کینیڈا چلے گئے جہاں وہ اپنی نئی بیوی کے ساتھ مل کر ایک ریسٹورنٹ چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات نہیں بھولتے۔

تبصرے (0) بند ہیں