ٹیکساس اسکول فائرنگ: پولیس کا بندوق بردار پر حملہ کرنے میں انتظار کا فیصلہ غلط تھا

اپ ڈیٹ 28 مئ 2022
رائٹرز' کے مطابق 20 کے قریب پولیس افسران کلاس میں داخل ہونے اور مسلح نوجوان کو مارنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ہال وے کے قریب انتظار کررہے تھے—فوٹو : رائٹرز
رائٹرز' کے مطابق 20 کے قریب پولیس افسران کلاس میں داخل ہونے اور مسلح نوجوان کو مارنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ہال وے کے قریب انتظار کررہے تھے—فوٹو : رائٹرز

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ٹیکساس میں قتل عام کا نشانہ بننے والی جماعت کے خوف زدہ اور پریشان بچوں نے ہنگامی امدادی نمبر 911 پر کم از کم 6 کالز کیں، جس میں پولیس سے مداخلت کی التجا کی گئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق 20 کے قریب پولیس افسران کلاس میں داخل ہونے اور مسلح نوجوان کو مارنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ہال وے کے قریب انتظار کرتے رہے۔

ٹیکساس کے محکمہ 'پبلک سیفٹی' کے ڈائریکٹر کرنل اسٹیون مک کرو کے مطابق 18 سالہ سلواڈور راموس نے 'اے آر 15' سیمی آٹومیٹک رائفل کے ساتھ کلاس میں داخل ہونے کے بعد چوتھی جماعت سے کم از کم 2 بچوں نے متعدد مرتبہ ایمرجنسی کالز کیں۔

روب ایلیمنٹری اسکول جانے سے پہلے حملہ آور نے اپنی دادی کو گولی مار کر زخمی کیا، اس کے بعد 19 بچوں اور 2 ٹیچرز کو ہلاک کر دیا، کسی امریکی اسکول میں ایک دہائی میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکساس : اسکول میں مسلح نوجوان کی فائرنگ سے 19 بچوں سمیت 21 افراد ہلاک

امریکی بارڈر پیٹرول کی ٹیکٹیکل ٹیم کے گھس کر قبضہ ختم کرانے سے 45 منٹ قبل ایک لڑکی نے 12 بج کر 3 منٹ پر فون پر سرگوشی کہ 'وہ کمرہ نمبر 112 میں ہے'۔

اسٹیون مک کرو نے بتایا کہ اسکول ضلع اولڈے ٹیکساس کے محکمہ پولیس کے چیف کے مطابق سائٹ پر موجود کمانڈر کو اس وقت یقین تھا کہ راموس کے لیے اندر رکاوٹ پیدا کردی ہے اور بچوں کو فوری طور پر خطرات نہیں ہیں جو کہ غلط فیصلہ تھا۔

گورنر گریگ ایبٹ نے ٹیکساس کے نئے نافذ کردہ بندوق کے قوانین میں ایک متنازع اقدام، چھپے ہوئے ہتھیار لے جانے کے لیے لائسنسنگ کی ضرورت کو ختم کرنے کی اس خونریزی سے تعلق ہونے تردید کی۔

انہوں نے ریاستی قانون سازوں کو ذہنی بیماری سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔

پولیس کو ابھی بھیجیں

مک کرو نے بتایا کہ 9 سے 10 سالہ طلبہ بچے بندوق بردار کے قتل عام سے بچنے میں کامیاب رہے جن میں 911 پر کال کرنے والے 2 بچے بھی شامل ہیں۔

کلاس روم سے 911 کو 12:03 سے عمارت میں داخل ہونے سے 12:50 تک کم از کم 8 بار کال کی گئی، 12 بج کر 50 منٹ پر راموس کو پولیس کی جانب سے ہلاک کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا: ہائی اسکول میں فائرنگ کرنے والے طالبعلم پر فرد جرم عائد

مک کرو کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ جائے وقوع پر انتظار کرنے والے افسران کو کالز کا معلوم تھا یہ نہیں۔

ایک لڑکی مک کرو نے جس کی شناخت نہیں کی نے 12 بج کر 16 منٹ پر پولیس کو کال کرکے بتایا کہ اب بھی 8 سے 9 طلبہ زندہ ہیں جبکہ کال کے دوران 3 گولوں کی آواز سنائی دی۔

پہلی بار کال کرنے والی لڑکی نے آپریٹر سے 12:43 پر درخواست کی کہ 'برائے مہربانی پولیس کو ابھی بھیجیں'، بعد ازاں 4 منٹ بعد دوبارہ کال کی۔

محکمہ 'پبلک سیفٹی' کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ٹیم آخری کال آنے کے 3 منٹ بعد چوکیدار کی چابی سے کلاس کا دروازہ کھول کر ٹیم اندر داخل ہوئی۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں ایک 18 سالہ بندوق بردار نے 24 مئی کلاس رومز میں جا کر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 19 بچوں سمیت 21 ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تھ گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا تھا کہ مرنے والے 2 بالغ افراد میں ایک استاد بھی شامل ہے۔

روب ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ کا یہ تازہ واقعہ،دسمبر 2012 میں نیو ٹاؤن (کنیکٹی کٹ) میں سینڈی ہک ایلیمنٹری میں ایک بندوق بردار کے ہاتھوں 20 بچوں اور 6 بالغ افراد کی ہلاکت کے بعد سے امریکی گریڈ اسکول میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلوریڈا کے اسکول میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم نے اعتراف جرم کرلیا

حملے کے کئی گھنٹے بعد بھی اہل خانہ اپنے بچوں کے بارے میں کسی بیان کا انتظار کرتے رہے، شہر کے سوک سینٹر کے باہر خاندانوں کو جمع ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

اسکول کے ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ ہال ہیرل نے کہا ’آج میرا دل ٹوٹ گیا، اسکول کی تمام سرگرمیاں فی الحال منسوخ کردی گئی ہیں، ہم ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہیں اور ہمیں اس تکلیف سے گزرنے کے لیے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے‘۔

حملے کے کئی گھنٹے بعد بھی اہل خانہ اپنے بچوں کے بارے میں کسی بیان کا انتظار کرتے رہے—فوٹو : رائٹرز
حملے کے کئی گھنٹے بعد بھی اہل خانہ اپنے بچوں کے بارے میں کسی بیان کا انتظار کرتے رہے—فوٹو : رائٹرز

مزید پڑھیں: امریکا: ہائی اسکول میں فائرنگ کرنے والے طالبعلم پر فرد جرم عائد

جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن حملے کے چند گھنٹے بعد قوم کو مخاطب کرتے ہوئے بندوق کی نئی پابندیوں کا مطالبہ کرنے کے لیے تیار نظر آئے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’بحیثیت قوم ہمیں پوچھنا ہوگا کہ خدا کے واسطے ہم کب بندوق کی لابی کے سامنے کھڑے ہوں گے؟ خدا کے واسطے ہم کب وہ کریں گے جو ہمیں بہرحال کرنا ہے؟‘

انہوں نے سوال کیا تھا ’ہم اس قتل عام کے ساتھ رہنے کو کیوں تیار ہیں؟ میں پریشان اور تھک چکا ہوں، ہمیں قدم اٹھانا ہوگا‘۔

بہت سے زخمیوں کو اوولڈے میموریل ہسپتال پہنچایا گیا جہاں عملے کے ارکان اور متاثرین کے لواحقین کو کمپلیکس سے باہر نکلتے وقت روتے ہوئے دیکھا گیا۔

تبصرے (0) بند ہیں