پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، الیکشن ایکٹ ترمیمی بل اور نیب آرڈیننس ترمیمی بل منظور

اپ ڈیٹ 09 جون 2022
الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 
 2022 وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا — فوٹو: ڈان نیوز
الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا — فوٹو: ڈان نیوز

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 اور نیب آرڈیننس 1999 ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ایوان بالا اور ایوان زیریں کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جب کہ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے مشترکہ اجلاس کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا ہے، اس لیے پی ٹی آئی کا کوئی رکن پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی شق وار منظوری دی گئی جس میں ای وی ایم اور اوورسیز ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن کو پائلٹ پروجیکٹ کرنے کا کہا گیا ہے، اس دوران گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رکن غوث بخش مہر نے بل کی مخالفت کی۔

بل کے تحت انتخابات ایکٹ 2017 میں مزید ترامیم کی گئی ہیں، بل وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا۔

مشترکہ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ صدر مملکت نے ای وی ایم اور آئی ووٹنگ سے متعلق مضحکہ خیز تجاویز دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ وہ صرف دانتوں کے ڈاکٹر ہیں، اب پتا چلا کہ وہ کمپیوٹر پی ایچ ڈی بھی ہیں، ای وی ایم کی ٹیسٹنگ کے دوران 50 فیصد کامیابی حاصل ہوئی۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے مزید کہا کہ صدر مملکت کے عہدے پر بیٹھے شخص نے سیاسی پارٹی کے کارکن کا کردار ادا کیا، آئی ووٹنگ کے لیے نادرا کا سسٹم مناسب نہیں ہے، ہم نے موجودہ قانون سازی کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے خط پر کیا ہے، اگر الیکشن کمیشن کو کسی قانون پر اعتراض ہے تو شفاف انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں مخصوص کرنے کی ترمیم پیش کی گئی، ترمیم جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے پیش کی۔

وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے جماعت اسلامی کے سینیٹر کی ترامیم کی مخالفت کی جس کے بعد پارلیمنٹ نے جماعت اسلامی کے رکن کی ترامیم مسترد کردیں۔

ایوان میں کسی منتخب رکن کی جانب سے 120 روز کے اندر حلف نہ اٹھانے پر نشست خالی قرار دینے کی بھی تجویز دی گئی۔

مشترکہ اجلاس کے دوران مجلس شوریٰ نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ بل 2022 کی منظوری دی، بل وزیر آئی ٹی امین الحق نے پیش کیا۔

نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا، بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی بل دونوں ایوانوں میں دو زبانوں میں پیش کیے گئے، ان بلز پر گھنٹوں بحث کی گئی، صدر مملکت نے اپنی سیاسی جماعت کی خواہش پر ان کو واپس بھیجا، بل کی پچاسی فیصد شقوں سے صدر مملکت متفق ہیں۔

غوث بخش مہر کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے جو ترامیم بھیجی ہیں انہیں مسترد کرنے کی بجائے متعلقہ کمیٹی کو بھیجے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ترامیم کو لیا جائے

خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین دونوں ایوان نے سیر حاصل بحث کے بعد منظور کئے ہیں، مجھے بتائیں کہ مشترکہ اجلاس کے حوالے سے کونسی کمیٹی کو یہ ترامیم بھجوائیں؟ اس کی اجازت نہ آئین دیتا ہے نہ ہی اس کی اجازت قواعد دیتے ہیں، سابق دور میں تین درجن کے قریب اس ایوان میں بل ہر چیز کو بلڈوز کرکے منظور کروائے گئے۔

سینیٹر مشتاق نے اپنی ترامیم پیش کرنے اجازت طلب کی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی آئین اور رولز اجازت نہیں دیتے تو کیسے اجازت دیں اس پر جماعت اسلامی کے ارکان مولانا عبدالاکبر چترالی اور سینیٹر مشتاق نے احتجاج کیا۔

نیب آرڈیننس میں ترمیم کے بل کی شق وار منظوری لی گئی، مجلس شوریٰ نے نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا جب کہ صدر مملکت کی جانب سے بھجوائی گئی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 جولائی بروز بدھ سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

پی ٹی آئی کی خواتین اراکین کا مظاہرہ، پارلیمنٹ کے مرکزی گیٹ پر چڑھ گئیں

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خواتین اراکین قومی اسمبلی سمیت دیگر رہنماؤں و کارکنان نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، اس دوران خواتین پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ پر چڑھ گئیں۔

پی ٹی آئی خواتین کارکنان کی جانب سے مہنگائی، ای وی ایم بل اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کا بل ختم کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے کی قیادت اراکین قومی اسمبلی عالیہ حمزہ، کنول شوزب اور ملیکہ بخاری نے کی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی خواتین رہنماؤں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

پی ٹی آئی اراکین نے احتجاج کے دوران مختلف برتن اور پلے کارڈز بھی ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

احتجاج کے دوران خواتین اراکین سمیت دیگر مظاہرین نے گیٹ توڑ کر اندر جانے کی کوشش کی، اس دوران پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین اراکین پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ پر چڑھ گئیں۔

پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ اور کنول شوزب پارلیمنٹ کے مرکزی گیٹ پر چڑھ گئیں جبکہ پی ٹی آئی خواتین اراکین گیٹ توڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں گیٹ نمبر ایک تک چلی گئیں۔

عالیہ حمزہ، کنول شوزب اور ملیکہ بخاری نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم باضابطہ طور پر ان کے استعفے منظور نہیں ہوئے ہیں۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں