شمالی وزیرستان میں سماجی تنظیم کے 4 کارکنان سمیت 6 افراد قتل

20 جون 2022
مقتولین کا تعلق یوتھ آف وزیرستان نامی سماجی تنظیم سے تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
مقتولین کا تعلق یوتھ آف وزیرستان نامی سماجی تنظیم سے تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں 2 مختلف واقعات میں ایک سماجی تنظیم کے 4 رضاکاروں سمیت 6 افراد قتل کردیے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مقامی افراد اور پولیس کا کہنا ہے کہ 2 مسلح موٹر سائیکل سواروں نے تحصیل میرعلی کے علاقے حیدرخیل میں ایک چلتی کار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سماجی تنظیم ’یوتھ آف وزیرستان‘ کے 4 رضاکار جاں بحق ہوگئے۔

جاں بحق ہونے والے رضاکاروں کی شناخت وقار احمد داوڑ، سنید احمد داوڑ، عماد داوڑ اور اسد اللہ کے نام سے ہوئی ہے، مقتولین کی لاشیں میرعلی ہسپتال منتقل کی گئیں۔

مزید پڑھیں: شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی

یوتھ آرگنائزیشن، فوجی آپریشن ضرب عضب کے بعد بنائی گئی تھی جس کا مقصد عسکریت پسندی سے متاثرہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے کام کرنا تھا، سماجی تنظیم نے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج اور دھرنا بھی دیا تھا۔

دو سال قبل دھرنا دینے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے یوتھ آف وزیرستان کے خلاف کارروائی کی تھی اور تنظیم کے بانی نور عالم دواڑ کو حراست میں لیا تھا۔

دوسری جانب اتوار کو میرعلی تحصیل کے ایک بازار سے اغوا کیے گئے دو افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں دریائے توچی کے قریب سے ملی ہیں، جسے دریائے گمبیلا بھی کہا جاتا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے دونوں افراد کو میرعلی قصبے کی کھادی مارکیٹ سے اغوا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی شہید

ابھی تک کسی گروہ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی، قتل ہونے والوں کا تعلق ضلع لکی مروت سے تھا۔ جنوبی وزیرستان میں اتوار کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔

ایک واقعہ خیسور گاؤں میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے عبدالرحمٰن نامی شخص کو گولی مار کر قتل کردیا، مقتول گاؤں میں موبائل فون کی دکان کا مالک تھا۔

دوسرے واقعے میں ضلع کے علاقے شکتوئی میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک شخص کو قتل کر دیا۔

تبصرے (0) بند ہیں