چھاچھرو سندھ کی جادوگرنی!

زور لگاؤ، زور لگاؤ۔ اور، اور، منہ بند کرکے، نیچے کی طرف، اور، اور، اور تھوڑا سا اور۔

یہ کہنے والیاں ہانپ رہی تھیں۔ سب کے جسم پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ہاتھ لرز رہے تھے، ٹانگیں کپکپا رہی تھیں۔

‘کنسلٹنٹ کو فون کرو، فوراً پہنچیں۔’

ان میں سے ایک چلّا کر بولی۔ اگرچہ ان میں سے 2 کافی سینئر تھیں مگر اب کنسلٹنٹ آن کال کو بلانے کے سوا کوئی اور حل نہیں تھا۔

کیا آپ کو علم ہے کہ گائناکالوجسٹ کی زندگی کا کونسا لمحہ اسے ساری عمر سولی پر لٹکا کر رکھتا ہے، اس کی راتوں کو بے خواب کردیتا ہے اور اسے زندگی میں آنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے؟

وہ لمحہ جب زچہ موت کی سرحد پر جا کھڑی ہو، اور بچہ پیدا کروانے کی ہر ترکیب ناکام ہوجائے۔

کنسلٹنٹ آن پہنچی تھیں۔ زچہ کے گلے کی رگیں زور لگا لگا کر پھول چکی تھیں۔ وہ زندگی کی پھسلتی ہوئی ڈور کو اپنے نحیف ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھی۔

کنسلٹنٹ نے معائنہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ بچہ الٹا تھا یعنی سر اوپر اور ٹانگیں نیچے۔ خاتون درد کے ساتھ ہسپتال آئی تھی اور بچے کو طبعی طریقے سے پیدا کروانا چاہتی تھی اگرچہ انہیں اس کی پیچیدگیوں کے بارے میں بتا دیا گیا تھا مگر وہ بضد رہی کہ اسے بچہ نارمل ہی پیدا کرنا ہے۔

درد اچھے تھے سو جلد ہی بچہ نیچے آگیا۔ پہلے ٹانگیں، پھر دھڑ، پھر گردن، اور پھر … پھر کچھ بھی نہیں۔

ہر طرح کی کوشش کرلی گئی لیکن بچے کا سر باہر نہ نکلنا تھا، سو نہیں نکلا۔

اب عالم یہ تھا کہ بچے کا جسم ویجائنا کے باہر لٹک رہا تھا اور سر اندر ۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ بچے کی موت واقع ہوچکی تھی ظاہر ہے اس پوزیشن میں بچہ 5 منٹ ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

کنسلٹنٹ نے معائنہ کیا کہ کسی طرح اسٹیل کے چمچہ نما اوزار ویجائنا میں گھسا کر سر کو کھینچ کر نکالا جائے لیکن ویجائنا کا بہت بُرا حال تھا۔ کئی جگہ سے خون رس تھا، اور اب اوزار لگنے سے ممکن تھا کہ اس قدر زخم آتے کہ خون روکنا مشکل ہوجاتا۔

آخر فیصلہ ہوا کہ آپریشن تھیٹر لے جاکر بے ہوشی کے عالم میں دیکھا جائے۔ بے ہوشی کے عالم میں پہلے نیچے سے کوشش کی گئی کہ شاید پھنسا ہوا سر نکل آئے لیکن یہ کوشش ناکام ہوئی۔ آخر سیزیرین کا فیصلہ ہوا۔

ایسے کیسز میں بچہ نکالنے کے 2 طریقے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ بچے دانی کھول کر پھنسا ہوا سر نیچے کی طرف دھکیلا جائے اور سر ویجائنا کے راستے باہر نکل جائے۔ دوسرا طریقہ یہ کہ اوپر سے سر کو پکڑ کر بچے کے جسم کو واپس کھینچا جائے اور جسم ویجائنا سے واپس ہوتا ہوا بچے دانی سے ہوکر باہر نکلے۔

یہ دونوں طریقے آزمائے گئے۔ لیکن بدقسمتی سے زچہ کے جسم کے اعضا اس قدر مجروح ہوچکے تھے کہ جس طرف سے بھی کھینچا جاتا، رگیں اور پٹھے، کسی بوسیدہ کپڑے کی طرح پھٹتے ہوئے تار تار ہوجاتے۔

آخرکار دل پر پتھر رکھ کر وہ کیا گیا جو عام انسان مشکل سے ہی سنے گا۔ لیکن ایک گائناکالوجسٹ کو یہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ بچے کا جسم جو زچہ کی ویجائنا سے باہر لٹک رہا تھا اسے گردن سے علیحدہ کردیا گیا اور سر کو اوپر بچے دانی سے نکال لیا گیا۔

ورثا کے سپرد کرنے سے پہلے بچے کے سر اور جسم کو آپس میں سی دیا گیا تھا۔

ایسے واقعات پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں عام ہیں اس لیے کہ زچگی کی سائنس کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا۔ زیادہ تر کے لیے یہ ہنسی مذاق کا کھیل ہے یہ کہتے ہوئے کہ عورتیں تو کھیتوں میں فارغ ہوجاتی ہیں۔ اب یہ کون سنے گا کہ ناجانے کتنی عورتوں کی قبریں بھی انہی کھیتوں میں بنتی ہیں۔

سوچیے کہ ان علاقوں میں جہاں ہسپتال نہیں، اگر ہسپتال ہے تو لیڈی ڈاکٹر نہیں، لیڈی ڈاکٹر ہے لیکن سینئر نہیں، سینئر ہے لیکن بے ہوشی کا ڈاکٹر نہیں، بے ہوشی کا ڈاکٹر ہے تو دوائیاں نہیں، آپریشن تھیٹر نہیں۔

دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ ان عورتوں کا کیا بنتا ہوگا؟

ایک زمانے میں ملکِ عزیز میں ڈاکٹروں کو دیہاتی علاقوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھیجا بھی گیا اور آج بھی جگہ جگہ ہیلتھ سینٹر بنے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں ڈاکٹر جاتے نہیں۔ کیا کریں جاکر؟ بندوق کے بغیر کوئی سپاہی مورچے میں کیا کرے گا بھلا؟

ہم نے ایک عرصہ دیہاتی علاقوں میں کام کیا اور ہمیشہ یہ سوال ذہن میں آیا کہ اربابِ اختیار آخر ایک لیڈی ڈاکٹر کو کیا سمجھتے ہیں؟ جادوگرنی؟ جو چھو منتر کرے اور سب ٹھیک ہوجائے۔

دوائیوں اور آپریشن تھیٹر کو تو ایک طرف رکھیے، ان علاقوں میں ڈاکٹر کو بھیج کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ بس اب اللہ جانے اور ڈاکٹر۔ ڈاکٹر کے لیے نہ گھر، نہ ذرائع آمد و رفت، نہ اس کے بچوں کے لیے اسکول، اور نہ ہی کچھ اور۔ سہولیات کے نام پر رہے نام اللہ کا۔

دوسری طرف عالم یہ ہے کہ سول سروس اور آرمی کے ملازمین کو اگر جنگل میں بھی بھیجا جائے تو انہیں جنگل میں منگل بناکر دیا جاتا ہے۔ انگریزوں کی ترتیب دی ہوئی افسر شاہی اور ہماری شاہ دولہ ذہنیت!

کاش تقسیم سے قبل انگریز حکمران بے چارے ڈاکٹروں کے لیے بھی کچھ سہولیات لکھ جاتے، کم از کم دیہی علاقے کی عورت یوں آسانی سے موت کے منہ میں تو نہ جاتی۔ زچگی میں مرنے والی عورتوں کی شرح اموات میں ملکِ عزیز آج سرِفہرست نہ ہوتا۔ ایٹمی اثاثے رکھنے والا ملک اور عورت زچگی کی توپوں کا چارہ!

اوپر لکھا ہوا واقعہ ہمیں ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے بعد یاد آیا ہے جب پاکستان میں رہتے ہوئے ہم اس افتاد سے گزرے۔

خبر کچھ یوں ہے کہ ایک زچہ اندرون سندھ کے کسی دُور دراز گاؤں کی رہائشی چھاچھرو ہیلتھ سینٹر پر پہنچتی ہے۔ درد ہو رہے ہیں لیکن بچہ الٹا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر یا نرس یا لیڈی ہیلتھ وزیٹر بچہ پیدا کرواتی ہے۔ بچے کا جسم نکل آتا ہے لیکن سر نہیں نکلتا۔ آدھ پون گھنٹہ زور آزمائی ہوتی ہے۔ اس پوزیشن میں بچہ تو 5 منٹ سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ سو زندہ نہیں رہتا لیکن زور آزمائی کے نتیجے میں جسم سر سے علیحدہ ہوجاتا ہے۔

اب زچہ کو ڈسٹرکٹ ہسپتال مٹھی بھیجا جاتا ہے ۔ چونکہ کیس بہت پیچیدہ ہوچکا ہے سو مٹھی سے زچہ کو لیاقت یونیورسٹی ہسپتال بھیج دیا جاتا ہے جہاں سیزیرین کرکے بچے کا سر نکالا جاتا ہے اور زچہ کی جان بچائی جاتی ہے۔

خبر یوں اچھلی کہ کسی نہ کسی طرح سیکرٹری ہیلتھ اور ڈائریکٹر ہیلتھ تک پہنچ گئی جنہوں نے اس واقعے کو بلنڈر قرار دیتے ہوئے ہیلتھ اسٹاف کی غلطی ڈھونڈنے کے لیے انکوائری ترتیب دی ہے۔

چلیے ہم ان کی مدد کیے دیتے ہیں کچھ سوال کرکے؟

  • چھاچھرو ہیلتھ سینٹر میں اگر بچے کا سر نکل نہیں سکا تو کیا یہ قصور لیڈی ڈاکٹر کا ہے یا نرس کا جو بچے کو ٹھیک طرح سے کھینچنے میں ناکام رہیں (جی وہی مستنصر حسین تارڑ والی کھینچ کھانچ)؟

  • چھاچھرو ہیلتھ سینٹر میں حکومت کی طرف سے کھینچ کھانچ کر بچہ نکالنے کے علاوہ کیا مزید سہولت فراہم کی گئی تھی؟

  • چھاچھرو ہیلتھ سینٹر سے مٹھی ہسپتال تقریباً 100 کلومیٹر دُور ہے، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کھینچ کھانچ میں ناکامی کے بعد اگر زچہ مٹھی ہسپتال تک پہنچ بھی جاتی تو کیا بچہ بچ سکتا تھا؟

  • کیا مٹھی ہسپتال میں اتنی تجربہ کار گائناکالوجسٹ موجود تھی جو اس پیچیدگی کو حل کرتی؟

  • کیا کہیں سوائے اس کے کہ ملکِ عزیز میں صحت کا نظام انیس سو ڈیڑھ کے زمانے کا ہے جسے بہتر بنانا تو کجا، کسی کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ ہاں خبر اڑ جائے تو عام لوگ جنہیں ان باریکیوں کا علم ہی نہیں، کو خوش کرنے کے لیے انکوائری ہی کروائی جاسکتی ہے نا۔

سوچیے چھاچھرو کی طرح بلوچستان اور سرحد کے پہاڑوں میں، پنجاب کے دُور افتادہ گاؤں، اسکردو گلگت کے ویرانوں میں عورت پر کیا گزرتی ہوگی؟ ملکِ عزیز کے بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے یہ کیا جانیں کہ ان علاقوں میں عورت کی زندگی، زندگی نہیں جہنم ہے۔

جب تک ہم عورت کی صحت سے متعلق بات نہیں کریں گے، عورتیں بھی مرتی رہیں گی اور ان کے سر کٹے بچوں کی پیدائش بھی ہوتی رہے گی۔

لیڈی ڈاکٹر ہے حضور والا، جادوگرنی تو نہیں کہ چھو منتر کرے اور بچہ باہر!

تبصرے (3) بند ہیں

Raif Jun 23, 2022 11:36am
Aisy behassi pr comments ke liye alfaaz hi nahi :(
Abrar Jun 23, 2022 12:22pm
Valid point....
Ghazala Fasih Jun 24, 2022 11:47am
کربناک حقیقت کی عکاس ،ڈاکٹر صاحبہ کی بہت حساس تحریر۔بحیثیت میڈیا پرسن میں نے بھی ان مسائل کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اور ارباب اختیار کی توجہ دلانے کے لئے کئی آرٹیکلز لکھے۔یونیسف کے پراجیکٹ'مائوں اور نومولود بچوں کی اموات'کے تحت پاکستان کے دیہی علاقوں کے دورے کئے تو انتہاانتہائی تکلیف دہ حقاحقائق سامنے آئے۔اندرونِ سندھ ،دردزہ میں مبتلا خواتین کو گدھا گاڑیوں پر ڈال کر کچے راستوں پر طویل سفر کے بود کسی 'صحت مرکز'پر پہنچایا جاتا ہے،بچے کی ولادت میں کسی پیچیدگی کا شکار کئی خواتین اس مشکل راستے میں ہی دم توڑ دیتی ہیں۔پہاڑی علاقوں میں خواتین کو کاندھوں یا چارپائی پر ڈال کر اونچے نیچے راستوں کی مسافت طے کی جاتی ہے۔زچگی مراکز بہت کم تعداد میں اور دوردراز مقامات پر واقع ہیں جہاں بنیادی انتظامات بھی مفقود ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ نے بہت دردمندی سے ان دیرینہ مسائل کی نشاندہی کی ہے ۔ کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات