• KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:46pm
  • LHR: Maghrib 7:04pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:14pm Isha 8:51pm
  • KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:46pm
  • LHR: Maghrib 7:04pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:14pm Isha 8:51pm

آئی ایم ایف معاہدے میں پیشرفت کے بعد ڈالر کی قدر میں 3 روپے 80 پیسے کی کمی

شائع June 22, 2022
گزشتہ ہفتوں کے دوران روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی گئی—فائل فوٹو:اے ایف پی
گزشتہ ہفتوں کے دوران روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی گئی—فائل فوٹو:اے ایف پی

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سمجھوتہ طے پانے کی پیش رفت کے بعد روپے نے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھونے کا سلسلہ آخر کار ختم کر دیا جب کہ بدھ کے روز کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں اس کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 3 روپے 80 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق گزشتہ روز 211 روپے 80 پیسے پر بند ہونے کے بعد آج دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 3 روپے 80 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 208 روپے ہوگئی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق گزشتہ روز روپے کی قدر میں 2 روپے سے زائد کی کمی ہوئی تھی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 212 روپے کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جو 2 روز قبل 209 روپے 96 پسے پر تھا۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری کی پیش رفت اس کی قدرمیں گزشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والی مسلسل کمی کے بعد ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف ڈیل میں تاخیر روپے پر بھاری، ڈالر 212 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔

11 اپریل کو مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 30 روپے سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے متعلق اچھی خبر کو دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب اس ہفتے کے آخر تک عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا تو پاکستان کے لیے چین اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

ٹریس مارک میں ریسرچ کی سربراہ کومل منصور نے بھی یہ کہا کہ مارکیٹ کو توقع تھی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بنیاد پر مقامی کرنسی 212 کی سطح سے نیچے آئے گی اور توقع کے مطابق بالکل ایسا ہی ہوا۔

مزید پڑھیں: گرے لسٹ سے اخراج کی امید، 100 انڈیکس میں 520 پوائنٹس کا اضافہ

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور پیٹرولیم لیوی کے نفاذ کے بعد کوئی دوسری بڑی رکاوٹ نہیں ہےٟ، انہوں نے یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے بعد مارکیٹ کا رویہ انتہائی منفی سے غیر جانبدار ہوگا اور اس کے بعد مارکیٹ میں مثبت سرگرمی نظر آئے گی۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کا قرض پروگرام اپریل کے اوائل سے ہی تعطل کا شکار رہا جب کہ پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

عالمی قرض دہندہ ادارے نے پہلے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایندھن اور توانائی کی سبسڈی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اب نئی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال میں مقرر کردہ اہداف پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان نے جولائی 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 39 ماہ کے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام پر دستخط کیے تھے لیکن عالمی مالیاتی ادارے نے تقریباً 3 ارب ڈالر کی قسط اس وقت روک دی تھی جب گزشتہ حکومت نے اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے ایندھن اور توانائی پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ کے بعد ڈالر 204 روپے کی تاریخی بلندی پر، اسٹاک مارکیٹ میں بھی 1100 پوائنٹس سے زائد کی کمی

تاہم، گزشتہ رات ایک اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی جب پاکستان حکام کی جانب سے مالی سال 2023 کے بجٹ میں 4 کھرب 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کے وعدے کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) میں سمجھوتہ طے پاگیا۔

اس سے قبل، پاکستان میں آئی ایم ایف کے مقامی نمائندے ایستھر پیریز روئز نے ڈان سے گفتگو کے دوران اس بات کو تسلیم کیا کہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ سے متعلق معاملات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارےکے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان آنے والے سال میں میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق پالیسیوں پر بات چیت جاری ہے

آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا جب کہ اسی دوران معاشی اور مالیاتی پالیسی (ایف ای ایف پی) کی مفاہمتی یاد داشت کا ڈرافٹ بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔

کارٹون

کارٹون : 24 جولائی 2024
کارٹون : 23 جولائی 2024