ٹوئٹر کی خریداری کا معاہدہ ڈیڈ لاک کا شکار ہے، ایلون مسک

اپ ڈیٹ 22 جون 2022
قطر اکنامک فورم میں اس حوالے سے سوالات پر ایلون مسک جواب دینے سے گریزاں نظر آئے—اے ایف پی
قطر اکنامک فورم میں اس حوالے سے سوالات پر ایلون مسک جواب دینے سے گریزاں نظر آئے—اے ایف پی

دنیا کے امیر ترین افراد میں سرفہرست نامور شخصیت ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالر کے عوض خریدنے کا اقدام سوشل میڈیا نیٹ ورک پر موجود جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کے بارے میں ’انتہائی اہم‘ سوالات کے سبب تعطل کا شکار ہے۔

ڈان اخبار میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق قطر اکنامک فورم میں اس حوالے سے سوالات پوچھے جانے پر ایلون مسک جواب دینے سے گریزاں نظر آئے، انہوں نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا ’کچھ حل طلب معاملات تاحال باقی ہیں، اس میں ان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ ٹوئٹر پر جعلی اور اسپیم اکاؤنٹس کی تعداد 5 فیصد سے کم ہے جبکہ میرے خیال میں ٹوئٹر استعمال کرنے والے بیشتر افراد کا تجربہ اس سے مختلف ہے‘۔

ٹیسلا کار اور اسپیس ایکس ایکسپلوریشن کے سربراہ نے کہا کہ ’لہذا ہم ابھی تک اس معاملے پر اتفاق رائے کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ ایک بہت اہم معاملہ ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا ٹوئٹر کی خریداری منسوخ کرنے کا عندیہ

ایلون مسک نے کہا کہ ٹوئٹر کے قرض کے بارے میں بھی سوالات ہیں اور یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا شیئر ہولڈرز اس معاہدے کی حمایت کریں گے؟

انہوں نے کہا ’لہذا میرے خیال میں معاہدے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے یہ 3 مسائل درپیش ہیں جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ایلون مسک نے کہا کہ وہ شمالی امریکا کی 80 فیصد اور دنیا کی نصف آبادی کو ٹوئٹر پر لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی چیز ہونی چاہیے جو لوگوں کے لیے پرکشش ہو، ظاہر ہے کہ یہ ایسی جگہ نہیں ہو سکتی جہاں وہ بے چینی محسوس کریں یا ہراساں ہوں اور اسے استعمال نہ کریں‘۔

مزید پڑھیں: ’ٹوئٹر کی خریداری کے لیے ایلون مسک کو دیا گیا وقت ختم‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں اظہارِ رائے کی آزادی اور رسائی کی آزادی میں بڑا فرق ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ آپ عوامی مقامات پر جو بھی کہنا چاہیں اسے کہنے کی لگ بھگ مکمل آزادی آپ کو حاصل ہے لیکن آپ جو کچھ بھی کہتے ہیں، بیشک وہ متنازع ہو، اسے پورے ملک میں نشر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ ’لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ٹوئٹر کی عمومی حکمت عملی یہ یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو وہ کہنے دیں جو وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کہنا چاہتے ہیں لیکن پھر اس چیز کو محدود کریں کہ ٹوئٹر صارفین کی ترجیحات کے مطابق کون کون اسے دیکھ سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو ان کا کردار ٹوئٹر کو آگے بڑھانا ہوگا جیسا کہ انہوں نے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے معاملے میں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کی جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا فراہم نہ کرنے کی صورت میں ٹوئٹر ڈیل منسوخ کرنے کی دھمکی

ایلون مسک نے کہا کہ امکان ہے کہ آئندہ 3 ماہ میں ٹیسلا کے ملازمین کی تعداد میں تقریباً 3.5 فیصد کمی آئے گی لیکن ایک سال میں یہ تعداد دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائے گی۔

2024 میں اگلے امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق سوال پر ایلون مسک نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کس کی حمایت کرنی ہے لیکن وہ امیدوار کی انتخابی مہم میں 2 سے ڈھائی کروڑ ڈالر لگانے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل ایلون مسک یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹیس کی حمایت کر سکتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں