مستحکم عالمی معیشت کیلئے دنیا کو سالانہ ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، بلاول بھٹو

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2022
<p>وزیر خارجہ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے دنیا کے تجارتی نظام کو دوبارہ وضع کرنا ہوگا— فوٹو: ڈان نیوز</p>

وزیر خارجہ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے دنیا کے تجارتی نظام کو دوبارہ وضع کرنا ہوگا— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کو ایک مستحکم عالمی معیشت چاہیے تو اس کے لیے توانائی، ٹرانسپورٹ، رہائش، صنعت اور زراعت کے شعبوں میں سالانہ ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن بنانا ہوگی۔

نیویارک میں گروپ 77 اور چین کے وزارتی اجلاس 2022 سے سربراہی خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بالکل درست کہا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی نظام اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے، دنیا کے عالمی معاشی نظام کو ترقی کے اہداف کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔

سرکاری خبر ایجنسی 'اے پی پی ' کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات، مہنگی اشیائے ضروریہ، موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر مسائل کے ساتھ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک ایک سخت دور سے گزررہے ہیں۔

'ترقی پذیر ممالک کی معاشی مدد کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی ضرورت'

ان مسائل کے حل کے لیے وزیر خارجہ نے 7 نکات پر مشتمل تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی دباؤ کا شکار دنیا کے 50 سے زائد ترقی پذیر ممالک کی معاشی مدد کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی نیویارک کے بجائے واشنگٹن آمد پر قیاس آرائیاں شروع

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ترقی پذیر ممالک میں غذائی بحران کا شکار دنیا کے 25 کروڑ افراد کو فوری طور پر کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی ممکن بنانا ہوگی، ہمیں ترقی پذیر ممالک کا توانائی کی درآمدات کا بوجھ کم کرنے کے لئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

'موسمیاتی تبدیلی نے 6 کروڑ پاکستانیوں کو متاثر کیا'

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب ہے جو پورے برطانیہ کے رقبہ کے برابر ہے، پاکستان میں سیلاب سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں، 3 کروڑ 30 لاکھ افراد براہ راست متاثر ہوئے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے 6 کروڑ پاکستانیوں کو متاثر کیا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب کے باعث 17 لاکھ مکانات، 12 ہزار کلومیٹر پر محیط سڑکیں، 350 پل اور 50 لاکھ ایکڑ فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، پاکستان میں سیلاب سے تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم گروپ 77 کے ممالک سمیت عالمی برادری کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی سے آنے والے بحران میں مدد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے عالمی ڈھانچے اور پالیسیوں کو فروغ دینا ہوگا کہ دنیا سے عدم مساوات کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: بطور وزیر خارجہ بلاول پہلے دورۂ امریکا میں اچھا تاثر قائم کرنے میں کامیاب

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بالکل درست کہا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی نظام اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے، دنیا کے عالمی معاشی نظام کو ترقی کے اہداف کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا، اگر دنیا کو ایک مستحکم عالمی معیشت چاہیے تو اس کے لیے توانائی، ٹرانسپورٹ، رہائش، صنعت اور زراعت کے شعبوں میں سالانہ ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں یکساں پالیسیوں کو دیانتداری سے نافذ العمل کرنا ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے دنیا کے تجارتی نظام کو دوبارہ وضع کرنا ہوگا تاکہ یہ دنیا میں ترقی کے اہداف کی تکمیل میں معاون ہوسکے، ترقی پذیر ممالک کی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے سڑکوں کے منصوبے اہم ہیں، چین کا اقتصادی راہداری کا منصوبہ اس کی اہم مثال ہے۔

'عدم مساوات اور غربت کو فروغ دینے والے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا'

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں دنیا میں عدم مساوات اور غربت کو فروغ دینے والے نظام کو اب تبدیل کرنا ہوگا، اس موقع پر انہوں نے گروپ۔77 کے تمام ممبران اور چین کی جانب سے رواں سال کے دوران گروپ کے سربراہ کے طور پر پاکستان پر اعتماد کے اظہار اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں