سابق فوجی افسران کو ٹیکس فری بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2022
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزیر خزانہ سے منظوری کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا—فائل فوٹو: رائٹرز
ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزیر خزانہ سے منظوری کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا—فائل فوٹو: رائٹرز

وفاقی کابینہ نے مسلح افواج کے تھری اور فور اسٹار افسران کو ریٹائرمنٹ پر 6 ہزار سی سی تک کی ڈیوٹی فری بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کرنے کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے تاہم اس کی حتمی منظوری وزیر اعظم کی تائید سے مشروط ہوگی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری عہدیدار نے کہا کہ یہ سہولت تینوں سروسز چیفس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کو بھی ان کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد دستیاب ہو جائے گی تاہم اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی جاری ہونا باقی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ ’یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ سہولت کن شرائط سے مشروط ہوگی یا یہ صرف ریٹائرڈ آفرز پر لاگو ہوگی، ہم ابھی تفصیلات نہیں بتا سکتے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد چیزیں واضح ہو جائیں گی‘۔

ذرائع نے بتایا کہ ’حکومتی فیصلے پر سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ نوٹیفکیشن فی الحال مؤخر کر دیا، اب یہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزیر خزانہ سے منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ریٹائرڈ فوجی جنرلز نے خود سے منسوب آرمی کےخلاف بیانات کو جعلی قرار دے دیا

وفاقی کابینہ کے اصولی فیصلے کے مطابق فور اسٹار مسلح افواج کے افسران 6 ہزار سی سی تک کی 2 بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ڈیوٹی درآمد کر سکیں گے، تھری اسٹار افسران ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بلٹ پروف گاڑی بغیر ڈیوٹی درآمد کر سکیں گے۔

مذکورہ افسران ان گاڑیوں کو 5 برس تک اور ایف بی آر کی منظوری کے بغیر مارکیٹ میں فروخت نہیں کر سکیں گے لیکن اگر وہ اس مدت سے پہلے گاڑی بیچنا چاہیں تو انہیں کسٹمز ڈیوٹی اور تمام ٹیکسز ادا کرنے ہوں گے، علاوہ ازیں ان گاڑیوں کی درآمد وزارت دفاع کی تجویز سے مشروط ہوگی۔

ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے کیا گیا ہے جس کے پاس کسی بھی چیز پر ڈیوٹی اور ٹیکس معاف کرنے کا اختیار ہے۔

ایک اور ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈیوٹی فری بلٹ پروف گاڑیوں کی اجازت دینے کا فیصلہ اس سے قبل کابینہ کی جانب سے 2019 میں کیا جا چکا تھا، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ 3 برس گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: 26 سابق فوجی افسران کو بطور دفاعی تجزیہ کار میڈیا پر آنے کی اجازت

ذرائع نے کہا کہ ’یہ فیصلہ دراصل صرف ان افسران کو سہولت دینے کے لیے کیا گیا تھا جنہوں نے بڑے آپریشنز میں خدمات سرانجام دیں اور جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد سیکیورٹی کے مسائل درپیش ہیں، یہ سہولت مسلح افواج کے تمام تھری اسٹار افسران کے لیے نہیں تھی۔

وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کو اس انفرادی استثنیٰ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، ہم نے حال ہی میں عالمی تنظیموں اور سفارت کاروں کے لیے اس استثنیٰ کو بحال کیا ہے‘۔

2020 میں وزارت تجارت نے ایک نوٹیفکیشن ایس آر او 902 کے ذریعے نئی اور استعمال شدہ بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد کے لیے ایک پالیسی کی منظوری دی تھی۔

اس پالیسی کے تحت وزارت داخلہ کی سفارش پر بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کی جا سکتی تھیں، تاہم کابینہ کی جانب سے اس تازہ منظوری میں درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ کی اضافی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں