سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ہر کسی کو سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے، وزیراعظم

27 ستمبر 2022
<p>شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں پہاڑ جیسا جیلنچ ہم اکیلے حل نہیں کرسکتے، دنیا کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا پڑےگا—فوٹو: ڈان نیوز</p>

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں پہاڑ جیسا جیلنچ ہم اکیلے حل نہیں کرسکتے، دنیا کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا پڑےگا—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد اس مشکل وقت میں متاثرین کی مدد نہ کرنا میری نظر میں اس سے بڑی زیادتی اور ظلم کوئی نہیں ہوسکتا، ہمیں جلسے اور جلوس کرنے کے بجائے متاثرین کی مدد کرنی چاہیے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے پرہیز کرنا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دادو میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور خیمہ بستی میں قائم اسکول میں زیر تعلیم بچیوں سے گفتگو کی، انہوں نے متاثرہ گاؤں جھاکرو میں سیلاب زدگان سے ملاقات اور میڈیکل کیمپ کا دورہ بھی کیا۔

بعد ازاں شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے ملک میں بڑی تباہی مچائی ہے، کئی علاقوں میں پُل بہہ گئے سڑکیں تباہ ہوگئیں، اس مشکل وقت میں ہمیں سیاست کرنے کے بجائے آگے بڑھ کر سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

شہاز شریف نے کہا کہ ہمیں سیاسیت اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے پرہیز کرنا چاہیے، جلسے جلوسوں میں سیاست کرنے اور دکھی انسانوں کی خدمت نہ کرنا اس سے بڑی زیادتی اور ظلم کوئی نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے حکومت سندھ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں متاثرین کے لیے بھرپور کام کر رہی ہیں، خیموں میں ادویات کا بھی انتظام ہے، سیلاب متاثرین کے لیے کھانا فراہم کیا جارہا ہے، صوبائی اور وفاقی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نیوی اورپاکستان آرمی، پولیس، پی ڈی ایم اے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ شہری متاثر ہوئے، لاکھوں خاندان بے گھر ہوگئے، متاثرین کی مدد کے لیے ریسکیو کا کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر، ٹیچر، سیاستدان اور ہر شعبے سے منسلک افراد اس مشکل وقت میں کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب کی تباہ کاریوں پر عالمی ردعمل ’قابل ستائش لیکن ناکافی ہے‘، وزیراعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ہم نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بات کی ہے، ہر فورم پر پاکستان کی مشکلات کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی ہے، دنیا پاکستان کی مشکلات سے آگاہ ہے، انہوں نے سیلاب زدگان کے لیے امداد بھیجنے پر تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پہاڑ جیسا جیلنچ ہم اکیلے حل نہیں کر سکتے، دنیا کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ یہ انسان کی لائی ہوئی آفت ہے، اس ماحولیاتی آلودگی میں ہمارا کردار اور حصہ بہت کم ہے، عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 25 ہزار روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا تھا، اب تک 42 ارب روپے تقسیم ہوچکے ہیں، دادو میں جن خیموں میں رقم تقسیم نہیں ہوئی وہاں بھی رقم تقسیم کی جائے، ہم اس مشکل سے نکلیں گے اور پاکستان کو دوبارہ آباد کریں گے، سیلاب سے جنگ میں اللہ ہمیں فتح دیں گے، تمام وسائل کو بروئے کار لاکر ملک دوبارہ ترقی کرے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں