نیپرا کا حکومت سے بجلی پر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2022
<p>نیپرا کے مطابق  بل کی گئی رقم میں سے 2 کھرب 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔— فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

نیپرا کے مطابق بل کی گئی رقم میں سے 2 کھرب 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔— فائل فوٹو: اے ایف پی

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ بجلی پر ٹیکس ختم کرے اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ نقصانات، کم وصولیوں اور پاور کمپنیوں کے مرکزی کنٹرول کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اور حکومت کو پیش کی گئی اپنی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 22-2021 میں پاور سیکٹر کے ریگولیٹر نے کے الیکٹرک سمیت پاور سیکٹر کے نظام کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم میں انتظامی، مالیاتی، تکنیکی اور گورننس میں خامیوں کی ایک سلسلے کی نشاندہی کی۔

نیپرا نے کہا کہ میرٹ احکامات کی خلاف ورزی، مہنگے ایندھن کے غلط استعمال کی وجہ سے ٹیرف میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باوجود 30 جون 2022 تک 22 کھرب 57 ارب روپے کا گردشی قرضہ جمع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: سولر پینل کے سرمایہ کار نیپرا کو زیادہ منافع پر قائل کرنے میں ناکام

ریگولیٹر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال 2021-22 کے دوران خاص طور پر تقسیم اور پیداوار کے شعبوں میں پاور سیکٹر کی کارکردگی بدستور خراب ہوتی رہی اور بہتری کے لیے اس کے مختلف مشوروں پر غور نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 22-2021 کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے منظور شدہ ٹی اینڈ ڈی نقصانات 13.41 فیصد جبکہ اصل نقصانات 17.13 فیصد تھے، 3.72 فیصد کے فرق کی وجہ سے اس مد میں تقریباً ایک کھرب 13 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔

اس کے علاوہ نیپرا 100 فیصد وصولیوں پر ریونیو کی ضرورت کا تعین کرتا ہے لیکن سال کے دوران وصولیاں 90.5 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکیں، اس طرح بل کی گئی رقم میں 2 کھرب 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

مزید پڑھیں: نیپرا نے کراچی کیلئے بجلی 4 روپے 87 پیسے سستی کرنے کی منظوری دے دی

ریگولیٹر نے کہا کہ اضافی ٹی اینڈ دی نقصانات اور کم ریکوری کے مجموعی اثرات 3 کھرب 43 ارب روپے بنتے ہیں اور یہ سب گردشی قرض جمع کرنے میں معاون ہے۔

ریگولیٹر نے کہا کہ اسے جبری لوڈشیڈنگ کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئیں جو کہ تقسیم کار کمپنیوں کی بتائی گئی لوڈشیڈنگ کے شیڈول سے متصادم تھیں۔

اس کے علاوہ جان لیوا واقعات میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ڈسکوز کی جانب سے اختیار کیے گئے حفاظتی ایس او پیز پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔

نیپرا نے کہا کہ ڈسکوز کا مرکزی کنٹرول ان کی تجارتی طور پر قابل عمل اداروں کے طور پر ترقی کرنے میں ناکامی اور اپنے مالی اور تجارتی فیصلے آزادانہ طور پر لینے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 2031 تک بجلی کی پیداوار 65 ہزار میگاواٹ تک پہنچانے کیلئے 55 ارب ڈالر درکار

اگرچہ ڈسکوز کو ان کے متعلقہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے زیر انتظام کمپنیوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے تاہم انہیں مختلف معاملات خاص طور پر مالی معاملات میں آزادانہ فیصلے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صورتحال تبدیل کرنے کے لیے ریگولیٹر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ہنگامی اقدامات کرے جس میں بجلی کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا آؤٹ سورسنگ کے ذریعے کارکردگی کو بہتر بنانا اور پبلک پرائیویٹ شراکت داری میں ان کی دیکھ بھال کرنا شامل ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں