• KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:04pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:10pm
  • KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:04pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:10pm

غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 30.16 فیصد

شائع November 25, 2022
بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا — فوٹو: ڈان
بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا — فوٹو: ڈان

بنیادی غذائی اجناس بشمول پیاز، ٹماٹر اور دالوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے سے سالانہ بنیاد پر 24 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 30.16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

رواں ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافہ گزشتہ ہفتے کے 0.62 فیصد کے مقابلے میں 0.48 فیصد ہے۔

اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ انڈے اور چکن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

ضروری اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لینے والے پیمانے (ایس پی آئی) نے گزشتہ ہفتے مختصر مدتی مہنگائی سال بہ سال 28.67 فیصد بتائی تھی، جو یکم ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ریکارڈ 45.5 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔

ایس پی آئی ملک بھر کے 17 شہروں میں 50 مارکیٹوں کے سروے کی بنیاد پر 51 اشیا کی قیمتوں کی نگرانی کرتا ہے، ہفتے کے جائزے کے دوران 19 اشیا کی قیمت میں اضافہ ہوا، 9 اشیا کی قیمت میں کمی جبکہ 23 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

سال بہ سال اضافہ

  • پیاز: 363.67 فیصد
  • ٹماٹر: 64.74 فیصد
  • ڈیزل: 64.57 فیصد
  • دال چنا: 54.71 فیصد
  • پیٹرول: 53.85 فیصد

سال بہ سال کمی

  • چلی پاؤڈر 200 گرام: 41.42 فیصد
  • چینی: 1.16 فیصد

ہفتہ وار اضافہ

  • انڈے: 8.45 فیصد
  • کیلا: 5.87 فیصد
  • چکن: 4.03 فیصد
  • پیاز: 2.35 فیصد
  • جلانے کی لکڑی: 1.76 فیصد

ہفتہ وار کمی

  • دال چنا: 1.26 فیصد
  • ٹماٹر: 1.08 فیصد
  • دال مسور: 1.07 فیصد
  • گھی 2.5 کلو: 0.59 فیصد
  • آٹا: 0.4 فیصد

عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں برس دہائیوں بعد بلند ترین مہنگائی ریکارڈ کی گئی ہے، اسی طرح مون سون بارشوں سے سیلاب کے نتیجے میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا اور اسی وجہ سے سبزیوں کی قلت ہوگئی۔

حکومت نے ان حالات کے پیش نظر افغانستان اور ایران سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کردی تھی۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تحت حکومت نے رواں برس کے شروع میں بجلی کی سبسڈی ختم کردی تھی، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا۔

سی پی آئی کی سالانہ مہنگائی اکتوبر میں سالانہ بنیاد پر 26.6 فیصد تک پہنچ گئی جو ستمبر میں 23.2 فیصد ہوگئی تھی جبکہ اگست میں 49 سال کی بلند ترین شرح 27.3 فیصد ہوگئی تھی کیونکہ ملک میں سیلاب کے باعث صورت حال خراب ہوچکی تھی۔

کارٹون

کارٹون : 21 جون 2024
کارٹون : 20 جون 2024