مردہ وکٹ پر ایک اور شکست: ’مسئلہ یہ ہے ہماری وکٹیں کیوریٹر نہیں بلکہ مالی بناتے ہیں‘

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2022

کسی ناممکن چیز کو ممکن بنانے کے لیے ہمت اور خود اعتمادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو کسی لیڈر میں ہونی چاہئیں۔

انگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے بھی اننگ ڈکلیئر کرکے ایک طرح کا جوا کھیلا تھا لیکن اس کا نتیجہ انگلینڈ کی ایک ایسی فتح کی صورت میں نکلا جو باؤلنگ کے اعتبار سے بہت ہی مشکل تھی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں اننگ ڈکلیئر کرنا ہمیشہ سے ہی موضوع بحث رہا ہے۔ اس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے اور رسک ہار یا جیت سے بہت زیادہ کا ہوتا ہے۔

ہر کپتان کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، جو کچھ جارحانہ مزاج کے ہوتے ہیں وہ رسک لینے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور جو ذرا ڈرپوک ہوتے ہیں وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے کہ ’قسمت بہادروں کا ساتھ دیتی ہے‘، یہ کہاوت بین اسٹوکس اور انگلش ٹیم کے کوچز پر صادق آتی ہے۔

میں نے بطور صحافی سیکڑوں ٹیسٹ میچ کور کیے ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ ایسی صورتحال کا مشاہدہ کیا ہے کہ جب میچ کا نتیجہ حاصل کرنے کے لیے اننگ ڈکلیئر کی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں شیکسپیئر کا کھیل ’ہیملٹ‘ یاد آجاتا ہے۔

اس کھیل میں شہزادہ ہیملٹ خود کلامی کرتے ہوئے زندگی اور موت کے بارے میں سوچتا ہے اور خود سے سوال کرتا ہے کہ زندہ رہا جائے یا نہیں۔ ایک کپتان کا ذہن بھی کچھ اسی کشمکش کا شکار ہوتا ہے کہ کیا اننگ ڈکلیئر کی جائے یا نہیں۔

میں اس حوالے سے زیادہ تفصیلات میں جانے کے بجائے اپنے حافظے میں موجود انگلینڈ سے متعلق کچھ بہترین ڈکلیئریشنز کا ذکر کروں گا۔

یہ 1984ء کا سال تھا اور ویسٹ انڈیز نے لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے جانے والی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو وائٹ واش کردیا تھا۔ میں اس میچ کا عینی شاہد ہوں۔

انگلش کپتان ڈیوڈ گوور نے اننگ ڈکلیئر کی اور مہمان ٹیم کو جیت کے لیے 341 رنز کا ہدف دیا جو 2 سیشنز سے کچھ زیادہ میں بنانے تھے۔ یہاں مہمان ٹیم نے تاریخ رقم کردی اور 66 اوورز میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا۔ ویسٹ انڈیز کے گورڈن گرینیج نے 242 گیندوں پر 214 رنز بنائے۔ میں نے ٹیسٹ کرکٹ اس سے زیادہ جارحانہ کھیل کبھی نہیں دیکھا۔

دوسرا واقعہ 2000ء میں سینچورین میں کھیلے گئے میچ کا ہے جس میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان ہینسی کرونیے اور انگلش کپتان ناصر حسین دونوں نے ہی اننگ ڈکلیئر کی تھی۔ یہ وہی میچ ہے جس میں ہینسی کرونیے پر میچ فکس کرنے کا الزام لگا تھا جو بعد میں ٹھیک بھی ثابت ہوا تھا۔

اس میچ میں پہلے دن کا کھیل اور پھر اگلے تین دنوں تک بارش رہی۔ میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کرونیے نے ناصر حسین سے کہا کہ انگلینڈ اپنی پہلی اننگ ڈکلیئر کردے اور ان سے وعدہ کیا کہ جنوبی افریقہ بھی اپنی دوسری اننگ ڈکلیئر کردے گا۔ ناصر حسین نے پہلے تو منع کردیا لیکن بعد میں اس پر راضی ہوگئے۔ نتیجے کے طور پر انگلینڈ کو اپنی دوسری اننگ میں 249 کا ہدف ملا جو اس نے 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ بعد میں یہ معلوم ہوا کہ کرونیے نے میچ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بوکیز سے پیسے لیے ہوئے تھے۔

لیکن انگلش کپتان بین اسٹوکس کی جانب سے اننگ ڈکلیئر کرنے کا مقصد خالصتاً میچ کا نتیجہ حاصل کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کرکٹ شائقین نے ان کے اس اقدام کو سراہا اور پاکستانی شائقین نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی سرزمین پر انگلینڈ کی تیسری فتح کا جشن منایا۔

انگلینڈ نے 62-1961ء کے دورے میں لاہور ٹیسٹ میں 5 وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی جو پاکستانی سرزمین پر انگلینڈ کی پہلی ٹیسٹ کامیابی تھی۔ اس ٹیسٹ میں پاکستان کے جاوید برکی اور انگلینڈ کے کین بیرنگٹن دونوں نے سنچری اسکور کی تھی۔ انگلینڈ نے 3 میچوں کی اس سیریز میں 0-1 صفر سے فتح حاصل کی تھی۔

اس کے بعد انگلینڈ نے سال 01ء-2000ء میں ناصر حسین کی قیادت میں دورہ پاکستان کے دوران یہاں دوسری فتح حاصل کی۔ انگلینڈ کی ٹیم نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری میچ میں، آخری روز کم روشنی میں 6 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔

پاکستانی کپتان معین خان نے انگلینڈ کو 176 رنز کا ہدف دیا۔ تاہم باؤلنگ کے دوران انگلینڈ کو جیت سے روکنے کے لیے انہوں نے تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کردیے جس سے امپائر کو بھی غصہ آیا۔

پاکستان نے ابتدائی 40 منٹ میں صرف 7 اوورز کیے تھے تاہم انگلش بلے باز مائیک اتھرٹن اور گراہم تھروپ کی بہترین کارکردگی سے میچ کا نتیجہ انگلینڈ کے حق میں آیا۔ یہ پاکستان کی 35 سالہ ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ پاکستان کو نیشنل اسٹیڈیم میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اور اب اس پنڈی کی مردہ وکٹ پر انگلینڈ نے پاکستان میں اپنی تیسری ٹیسٹ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ فتح ایک عرصے تک یاد رکھی جائے گی اور یقیناً بین اسٹوکس اور ان کی ٹیم اس کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ آخر معاملہ ڈکلیریشن تک جاتا ہی کیوں ہے اور ہم ایسی وکٹیں تیار کیوں نہیں کرتے جس پر کھیلے جانے والے میچ نتیجہ خیز ثابت ہوں۔

اس سیریز کا دوسرا میچ ملتان میں ہے اور وہاں وریندر سہواگ کی ٹرپل سنچری بھلا کون بھول سکتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ملتان میں بھی ہمیں کچھ مختلف وکٹ دیکھنے کو نہیں ملے گی، یعنی نتیجے کا آنا کچھ مشکل ہی دکھائی دے رہا ہے۔

لیکن پاکستان میں سست اور بے جان وکٹوں کا مسئلہ نیا نہیں بلکہ پاکستان کے نامور فاسٹ باؤلرز جیسے عمران خان، وقار یونس، وسیم اکرم اور شعیب اختر جیسے فاسٹ باؤلرز کہتے رہ گئے ایسی وکٹیں بنائی جائیں جس سے ہمارے باؤلرز کو فائدہ ملے لیکن ہم کبھی وہ وکٹ بنا ہی نہیں سکے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم جارحانہ سے زیادہ دفاعی کھیل پر یقین رکھتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہمارے ہاں وکٹیں کیوریٹر نہیں بلکہ مالی بناتے ہیں۔

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

1000 حروف