مذاکرات پاکستان، بھارت کا دو طرفہ معاملہ ہے،علاقائی استحکام دیکھنا چاہتے ہیں، امریکا

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2023
<p>نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا پاکستان میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے—فائل فوٹو:امریکی محکمہ خارجہ ویب سائٹ</p>

نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا پاکستان میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے—فائل فوٹو:امریکی محکمہ خارجہ ویب سائٹ

امریکا نے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کا بڑا اور پرجوش حامی رہا ہے جب کہ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کے اہم علاقائی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت، مذاکرات دونوں کا ذاتی دوطرفہ معاملہ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام پر زور دے رہے ہیں لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی بھی بات چیت کی رفتار، اس کا دائرہ کار اور اس کی نوعیت ان دونوں ممالک کا معاملہ ہے۔

سینئر امریکی عہدیدار کا یہ بیان وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو کشمیر سمیت تمام اہم مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ بات چیت کی دعوت دیے جانے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم ایک روز بعد وزیر اعظم کے دفتر نے واضح کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات صرف اس صورت میں ہوسکتے ہیں جب کہ وہ اپنا 5 اگست 2019 کا غیر قانونی اقدام واپس لے جس کے تحت اس نے مقبوضہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کردیا تھا۔

پریس بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے خطے میں امن و استحکام کے مقصد کے لیے پاکستان اور بھارت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا طویل عرصے سے خطے میں علاقائی استحکام کا مطالبہ کرتا رہا ہے، یقینی طور پر ہم اس خطے کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کے پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات ہیں اور ان تعلقات کے باعث کسی ملک کا کوئی نقصان ہے بلکہ یہ سب کے لیے سود مند ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا پاکستان میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے ساتھ کام کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا شراکت دار ہے، ہمارے متعدد مشترکہ مفادات ہیں، ہم آنے والی پاکستانی حکومتوں کے ساتھ تعمیری تعلقات رکھنے کی اپنی خواہش کا مظاہرہ کرتے رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کسی بھی ملک کی حکومتوں سے متعلق رائے ان پالیسیوں کے مطابق قائم کرتا ہے جن پر وہ عمل پیرا ہوتی ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی نوعیت کا سوال ہو گا جس پر پاکستان کی کوئی بھی مستقبل کی حکومت عمل پیرا ہو سکتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں