صوبےخیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں موبائل فون واپس نہ کرنے پر نوجوان ٹک ٹاکر نے اپنے والدین پر گولی چلا دی جس کی نتیجے میں والد جاں بحق جبکہ والدہ زخمی ہوگئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ دو روز قبل والد شیر باز خان نے ٹک ٹاکر حسنین سے موبائل فون لے لیا تھا، والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ٹک ٹاک ویڈیوز نہ بنائے تاہم ملزم حسنین موبائل واپس لینے پر بضد تھا۔

اسی دوران والدین کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد بیٹے نے والدین پر فائرنگ کر دی جس کی نتیجے میں باپ موقع پر جاں بحق اور والدہ زخمی ہو گئیں جنہیں تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تیمرگرہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے واقعے کے دو گھنٹے کے اندر ہی ملزم کو گرفتار کر کے پستول برآمد کر لی ہے۔

بچے کی لاش برآمد

اس کی علاوہ بلوچستان میں 22 فروری کو لاپتہ ہونے والے سات سالہ بچے کی لا ش لال قلعہ تھانے کی حدود میں برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت ایان خان کے نام سے ہوئی جو سر درگئی کا رہائشی تھا۔

ایس ایچ او سلیم شاہ کو نامعلوم شخص نے لال قلعہ تھانے کی حدود میں پہاڑی علاقے پر لاش کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، پولیس کا کہنا ہے کہ لاش پر تشدد کے نشانات موجود ہیں تاہم لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ڈونر کانفرنس

لوئر دیر کی علاقے تیمرگرہ میں الخدمت فاؤنڈیشن اعلان کیا ہے کہ وہ 18 مارچ کو ایک ڈونر کانفرنس منعقد کرے گیں کانفرنس میں خاص طور پر ترکیہ اور شام کے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے 5 کروڑ روپے اکٹھے کیے جائیں گے۔

تیمرگرہ پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے کے ایف کے مرکزی نائب صدر فضل محمود، ضلعی صدر حفیظ اللہ خاکسار اور جماعت اسلامی کے تحصیل صدر ملک شیر بہادر نے کہا کہ فاؤنڈیشن نے اب تک زلزلہ متاثرین کے لیے 50 کروڑ روپے کا امدادی سامان منتقل کیا ہے۔ .

فضل محمود نے کہا کہ اے کے ایف کے رضاکار ترکیہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

اے کے ایف کے رہنماؤں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ ترکیہ میں امدادی سرگرمیوں میں مالی تعاون کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں