کیا آپ کو یاد ہے کہ آخری بار آپ نے زور دار قہقہ کب لگایا تھا؟ اگر نہیں یاد تو آئیے آج کے مضمون میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ورزش کرنا اور اچھی غذا کا استعمال کرنا۔

اداسی، پریشانی اور مایوسی ایسے احساس کا نام ہیں جو زندگی میں ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، یہ لمحات ہمیں اندھیرے میں لے جاتے ہیں اور ہم مزید اضطراب کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے انسان کا باہر نکلنا بہت مشکل ہے۔

ایسی کیفیت میں کئی لوگ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، منفی سوچ غالب رہتی ہے، اپنے آپ سے دور بھاگنے لگتے ہیں، چڑچراپن اور موڈ میں مسلسل تبدیلی ان کے عام لگنے لگتی ہے، خوش رہ کر بھی ناخوش دکھائی دیتے ہیں اور کئی افراد خودکشی کا بھی سوچنے لگتے ہیں۔

اس لیے اداسی، پریشانی اور مایوسی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتی، انسان کو اپنی اچھی صحت کی خاطر ہمیشہ مسکراتے ، خوش رہتے اور ہنستے رہنا چاہیے۔

زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مایوس رہ جائیں، مثبت سوچ ہماری اولین ترجیح ہونے چاہیے تبھی ہم زندگی میں خوش رہ سکیں گے۔

امریکا کے شہر میں نفسیات کے اسپتال کے سابق ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہنسنے سے انسان اچھا محسوس کرتا ہے، یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا احساس ہے، یہاں تک کہ ڈپریشن میں مبتلا مریضوں کے لیے بھی ہنسی اور مسکراہٹ بہترین علاج ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ میں ماہر نفسیات ڈیٹیلو کا کہنا تھا کہ ’کسی مرض کا اسپتال میں علاج کرنا بہت مہنگا ہے لیکن ہنسنے کے لیے پیسے خرچ نہیں ہوتے، یہ مفت علاج ہے جس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں‘۔

نفسیاتی لحاظ سے ہنسی یا خوش رہنے سے انسانی میں دماغی تناؤ اور اضطرات میں کمی آتی ہے جبکہ جسمانی لحاظ سے یہ تناؤ کے ہارمون کی سطح کو کم کرتا ہے اور خوشی کے احساس کے لیے ڈوپامائن (dopamine ) اور سیروٹونن (serotonin) میں اضافہ ہوتا ہے۔

برازیل اور کینیڈا کے محققین نے 2020 میں ہسپتال میں زیر علاج 1600 سے زائد بچوں اور نوعمر بچوں پر تحقیق کی اور 21 مطالعات کا تجزیہ کیا، یہ بچے بے چینی، درد، تناؤ، کینسر میں مبتلا تھے، تحقیق سے معلوم ہوا کہ علاج کے دوران جن بچوں کو خوشگوار ماحول دیا گیا ان کی نفسیاتی صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوئے اور جلد صحت یاب ہونا شروع ہوئے۔

ماہرین کے مطابق زوردار قہقہہ لگانا یا ہنسنا آپ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

یہ آپ کی یادداشت کو بہتر بناتی ہے، قوت مدافعت کو بہتر کر کے جسم کو دل کے امراض سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے، تناؤ کو وقتی طور پر ختم کر کے دماغ کا بوجھ کم کرتی ہے۔

شخصیت کو پرکشش بناتی ہے

مسکرانے کا عمل حقیقی طور پر فزیکل اٹریکشن سے منسلک ہے۔

اس کے برعکس چہرے کے منفی تاثرات مثلاً ماتھے پر بل پڑنا، یا ناک بھوں چڑھاتے ہوئے غصے اور بدمزاجی کا اظہار کرنا مخالف طور پر کام کرتے ہوئے لوگوں کو آپ سے دور رہنے کا اشارہ دیتے ہیں۔

پرکشش شخصیت کے خواہش مند افراد مسکراہٹ کی طاقت سے کسی کو بھی اپنی جانب مائل کرسکتے ہیں۔

اس لیے آج سے جب بھی آپ اداس ہوں تو منفی سوچ کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں اور مسکرانا مت بھولیں!!

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں