• KHI: Maghrib 7:23pm Isha 8:49pm
  • LHR: Maghrib 7:07pm Isha 8:43pm
  • ISB: Maghrib 7:17pm Isha 8:57pm
  • KHI: Maghrib 7:23pm Isha 8:49pm
  • LHR: Maghrib 7:07pm Isha 8:43pm
  • ISB: Maghrib 7:17pm Isha 8:57pm

بھارتی پولیس نے سکھ رہنما امرت پال سنگھ کو بالآخر گرفتار کرلیا

شائع April 23, 2023
امرت پال سنگھ کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا — فائل/فوٹو: ڈان
امرت پال سنگھ کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا — فائل/فوٹو: ڈان

بھارت کی پولیس نے علیحدگی کی تحریک چلانے والے سکھ رہنما امرت پال سنگھ کو ایک مہینے سے بھی زائد عرصے تک تلاش کے بعد بالآخر پنجاب سےگرفتار کرلیا۔

خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کی پولیس کے سینئر عہدیدار سکھ چین سنگھ گل نے صحافیوں کو بتایا کہ ’امرت پال سنگھ کو مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پنجاب کے ضلع موگا میں گاؤں روڈے سے گرفتار کرلیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ امرت پال سنگھ کو نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گاؤں گردوارا سے گرفتار کرلیا گیا اور اس ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے خطرے پر فرد جرم عائد کیے بغیر ایک سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

سکھ چین سنگھ گل نے کہا کہ انہیں ریاست آسام کے علاقے دیبروگڑھ منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے چند ساتھی پہلے ہی جیل میں موجود ہیں۔

بھارتی پولیس کی جانب سے ’وارث پنجاب دے‘ نامی تنظیم کے سربراہ 30 سالہ امرت پال سنگھ کو خود ساختہ مبلغ بننے اور اپنے سیکڑوں حامیوں کے ساتھ پولیس اسٹیشن پر آتشیں اسلحے کے ساتھ دھاوا بولتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے امرت پال سنگھ اور ان کے حامیوں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اقدام قتل، قانون کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے اور تفرقہ ڈالا دیا ہے اور کہا تھا کہ یہ اقدامات مارچ کے وسط سے جاری تھے۔

بھارتی پولیس نے اس واقعے کے بعد 18 مارچ کو پہلی دفعہ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی اور مذکورہ ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کردیا تھا۔

امرت پال سنگھ کا بڑے پیمانے پر تعاقب کیا گیا تھا تاہم رپورٹس کے مطابق وہ 3 گاڑیاں تبدیل کرکے حکام سے بچنے میں کامیاب رہے تھے جبکہ حکام نے ان کی فوری طور گرفتاری کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ آبادی پر مشتمل پنجاب بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی تھی۔

بھارتی ریاست پنجاب میں امرت پال سنگھ جیسے نوجوان نے سکھ کی اکثریت کی حامل ریاست میں آزاد ریاست کے مطالبے کو دوبارہ زندہ کردیا تھا، تاہم خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی ہوگی جہاں 1980 کی دہائی اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں علیحدگی پسند تحریک کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

امرت پال سنگھ کی جانب سے پاکستان کی سرحد پر واقع ریاست پنجاب میں آزاد وطن بنانے کا پرانا مؤقف دہرایا گیا تھا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے گروپ میں جمع کیا تھا۔

دوسری جانب بھارتی پولیس نے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کردی تھی اور امرت پال سنگھ کی تنظیم ’وارث پنجاب دے‘ کے خلاف ملک بھر میں گھیراؤ اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

بھارتی میڈیا نے 19 مارچ کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ پولیس کی مختلف کارروائیوں میں 78 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ امرت پال سنگھ ایک مشہور بس ٹرمینل پر ہندو مبلغ کے بھیس میں دکھے گئے ہیں، جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ان کے چند حامیوں کو گرفتار بھی کر لیا۔

بعدازاں ریاست ہریانہ سے ایک خاتون کو گرفتارکیا گیا، جس نے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا تھا کہ وہ اور امرت پال سنگھ سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے رابطے میں ہیں۔

امرت پال سنگھ کوگرفتار کرنے کی ناکام کوشش کے بعد بھارتی سفارت خانے نے نیپال کو متنبہ کیا تھا اور درخواست کی تھی کہ اگر امرت پال سنگھ نیپال فرار ہو گیا تو اس کا نام نگرانی کی فہرست میں شامل کردیا جائے۔

کارٹون

کارٹون : 17 جولائی 2024
کارٹون : 16 جولائی 2024