• KHI: Fajr 4:30am Sunrise 5:56am
  • LHR: Fajr 3:39am Sunrise 5:13am
  • ISB: Fajr 3:36am Sunrise 5:14am
  • KHI: Fajr 4:30am Sunrise 5:56am
  • LHR: Fajr 3:39am Sunrise 5:13am
  • ISB: Fajr 3:36am Sunrise 5:14am

9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کیے جائیں گے، آئی جی پنجاب

شائع June 4, 2023
آئی جی پنجاب نے کہا کہ مظلومیت کارڈ کھیلا گیا، کہا گیا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی— فوٹو: ڈان نیوز
آئی جی پنجاب نے کہا کہ مظلومیت کارڈ کھیلا گیا، کہا گیا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی— فوٹو: ڈان نیوز

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ 9 مئی کے روز پیش آئے واقعات اچانک پیدا ہونے والے ردعمل کا نتیجہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ظاہر کیا گیا ردعمل تھا جو ملوث افراد اور رہنماؤں کی آڈیوز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر کی گئیں ان کی پوسٹس سے ثابت ہوتا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف ایک لمبے طرز عمل کے ذریعے نفرت کو ابھارا گیا، ان چیزوں کے تمام شواہد موجود ہیں جو میڈیا کو دکھائے جائیں گے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام، ٹوئٹر، فیس بک پر کیا کیا کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے افراد کی 215 کالز ہیں، 8 مارچ کو زمان پارک کے باہر جو ہنگامے کیے گئے، وہی لوگ 9 مئی کو جناح ہاؤس میں ہونے والے ہنگامے میں بھی ملوث ہیں، ہم ان کی رہائی کے خلاف اپیل کرنے جا رہے ہیں، عدالت کے سامنے ثبوت رکھیں گے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی 41 کالز ہیں جو جی ایس ایم کی ہیں، واٹس ایپ کالز اور دیگر ڈیٹا بھی عدالت میں رکھیں گے، اس کے علاوہ حماد اظہر، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، مراد راس، اور میاں اسلم اقبال کی کالز ہیں جو عدالت کے سامنے رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 154 رابطہ نمبرز ایسے ہیں جو 8 مارچ کو استعمال کیے گئے اور 9 مئی کو بھی، یہ وہ لوگ ہیں جو ہر اول دستہ ہیں، یہ تمام لوگ وہاں موجود ہیں، ان کی جیو فیسنگ ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ راولپنڈی کے 88 کالرز ہیں جو اپنی قیادت کے ساتھ منسلک ہیں، ان کی کالز موجود ہیں جو عدالت میں پیش کیے جانے کے قابل ثبوت ہیں جنہیں ہم عدالت میں پیش کر رہے ہیں، یہ جی ایچ کیو کا کیس ہے، ایک جیسی ٹائمنگ ہے، ایک جیسے ریاستی ادارے ان کے اہداف ہیں۔

ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر ایک شہید کی یادگار ہے، ان کی یادگار کو توڑا گیا، اس کو مسخ کیا گیا، 25 کالرز ایسے ہیں جو حملے کے وقت وہاں موجود تھے، میانوالی پی ایف بیس کی دیوار تڑوائی گئی، فائرنگ کرائی گئی، ایم ایم عالم کے جہاز کو جلایا گیا، جہاں دشمن نہ پہنچ سکا، وہاں یہ شر پسند پہنچ گئے، اس دوران کی گئی کالز کا بھی ہمارے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 165 ملزمان اپنی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھے، جن کی شناخت ہوچکی ہے، ان میں سے 37 گرفتار ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کو گرفتار کیوں کیا، وہ لوگ جو جناح ہاؤس کے اندر موجود تھے، ان میں سے 101 کی شناخت ہوچکی ہے، 18 گرفتار ہیں، 8 مارچ کو زمان پارک میں ہنگامہ کیا، اس دن انہوں نے 34 پولیس والے زخمی کیے، اس دن کے 120 بندوں کی شناخت ہوچکی ہے، 19 گرفتار ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو بی پارٹی بنتے ہیں جن کے ساتھ یہ لوگ آگے رابطہ کرتے ہیں، ان میں سے 152 کی شناخت ہوچکی، 40 گرفتار ہیں، ان کے خلاف ثبوت و شواہد موجود ہیں جو عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ان کے واٹس ایپ پر گروپ بنے ہوئے تھے، ہم نے 170 بندوں کی شناخت کرلی، 11 گرفتار ہوچکے، ان 708 بندوں میں سے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گرفتاریاں کیوں ہو رہی ہیں، یہ ثبوت ہیں جن کی وجہ سے 125 بندے عدالتوں میں پیش کیے جاچکے ہیں اور ہر ایک کو پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مظلومیت کارڈ کھیلا گیا، کہا گیا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، 40 بندے مار دیے، پھر کیا گیا کہ 25 مار دیے، جب ہم نے کہا کہ لاشیں کہاں ہیں، ڈی این اے کراتے ہیں پھر پتا چلا کہ 4 بندے ان ہی کی فائرنگ سے یا ایک بندہ دھویں میں پھنس کر مر کیا کیونکہ انہوں نے فائربریگیڈ نہیں جانے دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس غیر مسلح تھی، آرمی نے گولیاں نہیں چلائیں، آج نیا جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، اگر کوئی شکایت ہے تو ہم نے کمیٹی بنادی ہے، زیادتی تو خواتین اہلکاروں کے ساتھ کی گئی، اب تک ہم نے بہت برداشت کا مظاہرہ کیا ہے، جھوٹے الزامات، جھوٹی تصاویر اور ویڈیوز پھیلائی گئیں، بعد میں انہوں نے اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کیں۔

ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ عمران خان ریاض کے بارے میں کہا گیا کہ ان کو تشدد کرکے مار دیا گیا، ان کے حوالے سے ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا جو عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا، تمام تھانوں میں کیمرے موجود ہیں، 50 خواتین زیر حراست ہیں، تمام خواتین قیدی خواتین کے لیے مختص پولیس تھانوں میں قید ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 22 جولائی 2024
کارٹون : 21 جولائی 2024