پی سی بی کا 25 کھلاڑیوں کو 3 سال کیلئے سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2023
3سالہ اس کنٹریکٹ کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2026 تک ہو گا جس میں 25 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
3سالہ اس کنٹریکٹ کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2026 تک ہو گا جس میں 25 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیم کے 25 کھلاڑیوں کو 3 سال کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا ہے جہاں ان کی تنخواہوں میں 202 فیصد تک کا اضافہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ریونیو میں بھی حصہ دیا گیا ہے۔

3 سالہ اس کنٹریکٹ کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2026 تک ہو گا جس میں 25 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔

گزشتہ کنٹریکٹ کے برعکس اس مرتبہ ٹیسٹ اور محدود اوورز کے کنٹریکٹ کو ضم کردیا گیا ہے اور یہ فیصلہ سینٹرل کنٹریکٹ کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا جس کا مقصد کھلاڑیوں کی کارکردگی کو میچ میں فتوحات کی بنیاد پر جانچنا اور سلیکشن کے عمل میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

کھلاڑیوں کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا جہاں کیٹیگری اے میں صرف تین کھلاڑی شامل ہیں جن کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں 202 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کیٹیگری بی میں شامل کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور مراعات میں 144 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

کیٹیگری سی میں 2 جبکہ کیٹیگری ڈی میں 14 کھلاڑی شامل ہیں جن کی تنخواہوں اور مراعات میں بالترتیب 135 اور 127 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

مختلف کیٹیگریز میں شامل کھلاڑیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

کیٹیگری اے: بابراعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی۔

کیٹیگری بی: فخر زمان، حارث رؤف، امام الحق، محمد نواز، شاداب خان اور نسیم شاہ۔

کیٹیگری سی: عماد وسیم اور عبداللہ شفیق

کیٹیگری ڈی: فہیم اشرف، حسن علی، افتخار احمد، احسان اللہ، محمد حارث، محمد وسیم جونیئر، صائم ایوب، سلمان علی آغا، سرفراز احمد، سعود شکیل، شاہنواز دھانی، شان مسعود، اسامہ میر اور زمان خان۔

کھلاڑیوں کے ماہانہ وضائف میں جہاں اضافہ کیا گیا ہے وہیں انہیں آئی سی سی سے ملنے والے ریونیو میں بھی ماہانہ بنیادوں پر ان کی کیٹیگری کی مناسبت سے حصہ دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے جہاں سب سے زیادہ اضافہ 50 فیصد کا اضافہ ٹیسٹ میچ کی فیس میں کیا گیا ہے جبکہ ون ڈے میچوں کی فیس میں 25 فیصد اور ٹی20 کی فیس میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل وہ کھلاڑی جو ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہوں گے، انہیں انٹرنیشنل میچ فیس کی 50 فیصد رقم ادا کی جائے گی۔

کھلاڑیوں اور بورڈ کے درمیان غیرملکی لیگز کے این او سی کے حوالے سے طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر سیزن میں سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کو دو غیر ملکی لیگز میں شرکت کی اجازت ہو گی۔

تین سال کے معاہدے کے باوجود ہر 12 ماہ کے بعد ان 25 کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف نے سینٹرل کنٹریکٹ پایہ تکمیل پر پہنچنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد پی سی بی اور کھلاڑیوں کے درمیان مالیاتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے کھلاڑی پاکستان کرکٹ کا اصل اثاثہ ہیں اور ان کی خوشحالی یقینی بنانا اور بہترین سروسز فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ہمارے کھلاڑیوں کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی محنت اور کھیل کے لیے لگن کو تسلیم کرنے کے ہمارے عزم کی نشاندہی کرتا ہے اور ہمارا پختہ یقین ہے کہ مالی طور پر محفوظ ٹیم کی میدان میں بہترین کارکردگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب پوری قوم آئندہ ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے ان کھلاڑیوں کی پشت پر کھڑی ہے، ہمیں ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنی شاندار کارکردگی سے قوم کا سر فخر سے بلند کریں گے۔

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ یہ اب تک کا تاریخی معاہدہ ہے، میں بہت خوش اور مطمئن ہوں کہ ہمارا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے، یہ مذاکراتی عمل طویل اور چیلنجنگ تھا لیکن میرا ماننا ہے کہ دونوں فریقین منصفانہ اور سودمند معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔

انہوں نے ذکا اشرف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ معاہدہ کھلاڑیوں کے کیریئر اور پاکستان کرکٹ میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، یہ کھیل کے لیے تمام کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اب ہم سب آئی سی سی ورلڈ کپ کے لیے مکمل تیار ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں