سینئر اداکارہ صبا فیصل نے مشترکہ خاندان کے فوائد اور نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے خاندان میں اندھا اور بہرا بن کر رہا جائے تو زندگی سکون سے گزرتی ہے لیکن اگر کسی بات پر رائے دی جائے تو مسائل ہوجاتے ہیں۔

معروف اداکارہ نے حال ہی میں ندا یاسر کے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں شرکت کی، جہاں ’گھریلو مسائل اور ان کے حل‘ پر بحث کی گئی، جس دوران صبا فیصل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے مشترکہ خاندان کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بھی خاتون کبھی کسی شادی یا دوسری تقریب میں جانا چاہے اور وہ اپنے بچوں کو ساس اور دوسرے اہل خانہ کی وجہ سے گھر چھوڑ کر جا سکتی ہے تو اس سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی طرح اگر کوئی کم عمر شادی شدہ خاتون صبح دیر سے اٹھے اور ان کی ساس ان کے بچوں کے لیے اسکول جانے سے پہلے ناشتہ تیار کروائے یا خود کرے تو بھی یہ ایک نعمت ہے اور ایسی باتوں پر خاتون کو شکرانے ادا کرنے چاہئیں۔

صبا فیصل کا کہنا تھا کہ مشترکہ خاندان میں زندگی گزارنے کے جہاں کئی نقصانات اور مسائل ہیں، وہیں متعدد فوائد بھی ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر مشترکہ خاندان میں اس وقت جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں جب بچوں کے بچے ہوجاتے ہیں اور ان کے درمیان لڑائیاں ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق جب بچوں کے بچے آپس میں لڑتے ہیں اور دادا دادی کسی ایک کو جھاڑ پلادیں تو طعنے دینا شروع کردیے جاتے ہیں کہ انہیں ہمارے نہیں دوسروں کے بچے پیارے لگتے ہیں۔

صبا فیصل کا کہنا تھا کہ مشترکہ خاندان میں بچوں کے بچوں کی لڑائیاں صرف ان کی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے والدین اور دادا دادی کی لڑائیاں بن جاتی ہیں اور مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔

اداکارہ کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو انہیں والدین سے الگ رہنا پسند ہوتا ہے اور انہیں الگ کمرہ درکار ہوتا ہے، ایسی صورت حال میں اگر پیسے ہوں اور کوئی استطاعت رکھتا ہو تو بچوں کو الگ گھر لے کر دے، دوسری صورت میں مشترکہ خاندان میں رہتے وقت بہت سارے مسائل پر خاموشی اختیار کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر غربت ہونے کے باوجود بھی لوگ بچوں کو الگ گھر لے کر دینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے مسائل کم نہیں بلکہ بڑھ جاتے ہیں، کیوں کہ اخراجات زیادہ ہونے پر پیسوں کی تنگ ہونے لگتی ہے، جس سے جھگڑے شروع ہوتے ہیں۔

انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے شوہروں کے معاشی حالات دیکھ کر فیصلہ کریں، اگر ان کے مالی حالات بہتر ہیں تو بچوں کو الگ کردیں، دوسری صورت میں مشترکہ خاندان کے طور پر زندگی گزاریں اور بچوں کی لڑائیوں سمیت اسی طرح کے دیگر چھوٹے مسائل کے وقت اندھے اور بہرے بن جائیں۔

صبا فیصل کے مطابق مشترکہ خاندان میں اسی صورت میں زندگی سکون سے گزرتی جب کوئی اندھا اور بہرا بن کر زندگی گزارتا ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں