لکھاری وکیل ہیں۔
لکھاری وکیل ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر، اتحادی طاقتوں نے لندن چارٹر کے تحت نیورمبرگ اور بعدازاں ٹوکیو میں ایک بین الاقوامی فوجی ٹربیونل قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ نازی جرمنی اور جاپان کے جنگی مجرموں پر مقدمہ چلایا جاسکے۔ ان ٹرائلز میں تین اقسام کے جرائم کے تحت اعلیٰ افسران پر مقدمات چلائے جارہے تھے، وہ ’امن کے خلاف جرائم‘، ’جنگی جرائم‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ تھے۔

اگرچہ روایتی ’جنگی جرائم‘ کو اس وقت موجود جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا لیکن ’امن کے خلاف جرائم‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کو زیادہ اہمیت دی گئی۔

لندن چارٹر میں امن کے خلاف جرائم کو بین الاقوامی معاہدوں یا یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت یا جنگ کی ’منصوبہ بندی، تیاری، آغاز یا اسے چھیڑنے‘ کی کارروائیوں کے طور پر درجہ بند کیا گیا۔

اسی طرح انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں جنگ سے پہلے یا اس کے دوران کسی بھی ’شہری آبادی کے خلاف قتل و غارت، غلامی، ملک بدری اور سیاسی، نسلی یا مذہبی بنیادوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور دیگر غیرانسانی سلوک‘ شامل تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب ترقی یافتہ ممالک نے محسوس کیا کہ تنازعات کو کنٹرول کرنے والے موجودہ قوانین جنگ میں ہونے والے ہولناک جرائم سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اس طرح بین الاقوامی تنازعات کو کنٹرول کرنے والے ایک کے بعد ایک متعدد قوانین متعارف کروائے گئے۔ انہیں عرف عام میں ’بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین‘ کہا جاتا تھا۔

ان قوانین کا بیان کردہ مقصد یہ طے کرنا ہے کہ مسلح تصادم کے وقت بھی شہریوں، طبی عملے، بچوں اور نہتّے لوگوں کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ اس دوران کیا کیا جاسکتا ہے اور کیا نہیں کیا جاسکتا۔

کم از کم کاغذوں کی حد تک بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کا مقصد مسلح تصادم کو کنٹرول کرنا ہے، یہ قوانین اس وقت غزہ کی ہولناک صورتحال پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس تنازع میں اسرائیل جارح ہے، وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین میں شامل 21 قوانین کا دستخط کنندہ ہے اور ان کی توثیق کرچکا ہے۔

ان قوانین میں عام شہریوں سے متعلق جنیوا کنونشن، بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن، جنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن، مسلح تصادم میں بچوں کی شمولیت سے متعلق اختیاری پروٹوکول، بعض روایتی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن، کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن، ثقافتی املاک کے تحفظ سے متعلق ہیگ پروٹوکول اور نسل کشی کی روک تھام اور سزا سے متعلق کنونشن شامل ہیں۔

یہ قوانیں اسرائیل پر نہتّے شہریوں بالخصوص بچوں کا تحفظ یقینی بنانا لازمی قرار دیتے ہیں۔ یہ قوانین مسلح تصادم میں ملوث ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ طبی عملے کی حفاظت کی جائے گی، اسپتالوں کو جارحیت سے محفوظ رکھا جائے گا اور جنگ کے دوران ثقافتی املاک کو محفوظ رکھا جائے گا۔

اب ان قوانین کی رو سے غزہ میں سامنے آنے والی تباہی، قتل و غارت اور بے بسی کی تصاویر دیکھیں۔ غزہ سے آنے والی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسرائیل نے منظم طریقے سے غزہ کے تمام اسپتالوں پر بمباری کی ہے اور سیکڑوں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو قتل کرکے ان اسپتالوں کو غیرفعال بنایا ہے۔

اس نے غزہ کے قدیم ترین گرجا گھروں میں سے ایک پر بھی بمباری کی ہے جس میں درجنوں پناہ گزین افراد مارے گئے۔ اس فہرست میں معصوم بچوں، صحافیوں اور امدادی کارکنوں سمیت شہریوں کی ٹارگٹڈ اور نفرت انگیز ہلاکتوں کو بھی شامل کردیں تو ہمارے سامنے ایک ایسا ملک آجاتا ہے جو جان بوجھ کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

اسرائیل نے نسل کشی کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کی توثیق کی تھی۔ اس قانون میں ’نسل کشی‘ کی تعریف کسی گروہ کے اراکین کو مارنے، یا انہیں شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانے کی کوشش کے طور پر بیان کی گئی ہے اور وضاحت کی گئی کہ ’نسل کشی ایک ایسا عمل ہے جو [کسی گروہ کی] تباہی کے لیے انجام دیا جائے‘، اور ’ایسے اقدامات کو مسلط کیا جائے جن کا مقصد کسی مخصوص گروہ میں پیدائش کو روکنا ہو‘۔

اب مذکورہ تعریف کا اطلاق غزہ پر کریں۔ کیا ایسی بے شمار مثالیں موجود نہیں ہیں جہاں اسرائیلی سیاست دانوں اور میڈیا کی شخصیات نے فلسطینیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں بے دردی سے قتل کیا گیا؟

کیا اسرائیل نے مجبوراً نہیں بلکہ قصداً غزہ کو تباہ کرنے کی نیت سے بجلی، مواصلات، پینے کے صاف پانی اور خوراک جیسی بنیادی سہولیات بند نہیں کیں؟ کیا غزہ میں زیتون اور اسٹرابیری کے باغات کو اجاڑنے کی مہم نہیں چلائی گئی؟ ان تمام مثالوں کو جب بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کررہا ہے جس میں ایسی طاقتوں کی مدد اور حوصلہ افزائی شامل ہے جو کچھ عرصہ قبل خود کو انسانی حقوق کا چیمپیئن کہتی تھیں۔

نیورمبرگ اور ٹوکیو ٹرائلز کے دوران یہ امید کی گئی تھی کہ ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ دوبارہ کبھی سرزد نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود تقدیر دیکھیں کہ ایک ایسا ملک جو ان لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے جن پر ظلم و ستم کے بعد یہ قوانین بنائے گئے، اب خود ان تمام قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

تو اب یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ اسرائیلی ریاست کے اقدامات کے ذمہ داران پر ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مقدمہ چلنا چاہیے، عالمی عدالت انصاف کے ذریعے ان فلسطینیوں کو انصاف ملنا چاہیے جن کے زخم ابھی تازہ ہیں۔


یہ مضمون 23 نومبر 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں