اقوام متحدہ کے اعلان کردہ یوم یکجہتی فلسطین کی افادیت پر سوال اٹھنے کی بڑی وجہ آج غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش صورتحال بھی کہی جاسکتی ہے۔

موجودہ جنگ بندی شروع ہونے سے قبل غزہ میں 6 ہزار سے زائد فلسطینی بچے شہید ہوچکے ہیں۔ 4 ہزار سے زائد کی تعداد میں فلسطینی عورتیں شہادت پاچکی ہیں جبکہ فلسطینیوں کی شہادتوں کی کل تعداد 15 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ غزہ کی گلیاں اور بازار ہی نہیں در وبام، گھر بار، مسجد، مکتب اور ہسپتال سب کچھ اسرائیلی بمباری سے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بدقسمتی سے اسرائیل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

یو این ورکس اینڈ ریلیف ایجنسی المعروف ’انروا‘ اور ’عالمی ادارہ صحت‘ پر یہ الزام عائد ہوچکا ہے کہ یہ غزہ سے انخلا کے لیے تقریباً اسی سوچ کو عملاً آگے بڑھا رہے ہیں جو اس وقت اسرائیلی فوج کی ہے۔ ’انروا‘ پر یہ الزام براہ راست فلسطینی مزاحمتی گروپ نے لگایا ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے بارے میں غزہ کی وزارت صحت کے تحفظات بھی سامنے آچکے ہیں کہ اس نے اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اس عالمی ادارے کی ساری توجہ اسپتالوں میں زخمیوں اور طبی عملے کو سہولتیں یا تحفظ دینے کے بجائے ان کے انخلا کے لیے ہے۔

فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن کے حوالے سے منصور جعفر کی پوری تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں