لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی کے 8 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالتی فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے ان 8 رہنماؤں میں سابق وفاقی وزرا مراد سعید، اعظم سواتی اور فرخ حبیب کے علاوہ زبیر خان نیازی، حافظ فرحت، واثق قیوم عباسی، حامد رضا اور امتیاز احمد شیخ شامل ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کوششوں کے باوجود مشتبہ افراد کو گرفتار نہیں کیا جاسکا کیونکہ مبینہ طور پر وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو اشتہاری مجرم قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے سے قبل ضرورت کو پورا کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، جج عبہر گل خان نے درخواست منظور کرتے ہوئے وارنٹ جاری کر دیے۔

پی ٹی آئی کے متعدد رہنما بشمول حماد اظہر، مراد سعید، اعظم سواتی، علی امین گنڈاپور، فرخ حبیب، میاں اسلم اقبال، عندلیب عباس، کرامت کھوکھر اور زبیر نیازی کو پہلے ہی 9 مئی سے متعلق مقدمات میں اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 9 مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد فسادات کے نتیجے میں نمایاں بدامنی دیکھی گئی، اور لاہور کے راحت بیکری چوک پر پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا گیا، بعد ازاں سرور روڈ پولیس نے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

خدیجہ شاہ کی نظربندی کی وجوہات طلب

دریں اثنا، لاہور ہائی کورٹ نے حکومت پنجاب کی جانب سے پی ٹی آئی کارکن اور فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو مسلسل نظربندی سے متعلق تفصیلی وضاحت طلب کر لی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی جانب سے خدیجہ شاہ کے خاوند جہانزیب امین کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ پیش رفت سامنے آئی۔

درخواست میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے خدیجہ شاہ کو 30 دن کے نظربندی کے حکم کو چیلنج کیا گیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خدیجہ شاہ کو زیر حراست رکھنے کا جائزہ لینے کے بعد پنجاب کی نگران کابینہ نے اسے برقرار رکھا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کے فیصلے کی نقل خدیجہ شاہ کو فراہم کی گئی ہے، جس پر قانونی افسر نے تاخیر کا عندیہ دیا کیونکہ اُس فیصلے پر کابینہ کے تمام اراکین کا دستخط کیا جانا ہے۔

بعد ازاں، عدالت نے سماعت بدھ (آج) تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی کہ وہ کابینہ کی جانب سے خدیجہ شاہ کو زیرحراست رکھنے کی وجوہات پیش کریں۔

درخواست گزار جہانزیب امین نے مؤقف اپنایا کہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت نظربندی کا حکم غیرقانونی طور پر جاری کیا گیا تاکہ 9 مئی سے متعلق تمام چاروں مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود خدیجہ شاہ کی رہائی میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نظربندی غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی خدیجہ شاہ کو عدالت سے ضمانت ملتی ان پر نیا کیس درج کر دیا جاتا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نظربندی کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور حکومت کو فیشن ڈیزائنر چھوڑنے کی ہدایت دی جائے۔

واضح رہے کہ 15 نومبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے خلاف 9 مئی سے متعلق چوتھے اور آخری مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی تھی۔

جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور پر حملہ کرنے سے متعلق پہلے سے درج دو مقدمات میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد سرور روڈ پولیس نے خدیجہ شاہ کو کنٹونمنٹ کے علاقے میں پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے مقدمے میں دوبارہ حراست میں لے لیا تھا۔

اس سے قبل 9 مئی کے پرتشدد واقعے کے دوران سوشل میڈیا پر لوگوں کو مبینہ طور پر فوج کے خلاف اشتعال دلانے کے لیے پیغامات پوسٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سائبر کرائم کیس میں ان کو گرفتار کیا تھا۔

پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

دریں اثنا، لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کارکن صنم جاوید کی توہین عدالت کی درخواست پر پولیس حکام کے خلاف 9 مئی کو درج تمام مقدمات میں ضمانت کے باوجود انہیں رہا نہ کرنے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

درخواست گزار کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلہ محفوظ کیا، وکیل نے بتایا کہ عدالتوں نے پانچ میں سے چار مقدمات میں درخواست گزار کی ضمانت منظور کیں، جبکہ صنم جاوید پہلے ہی ایک کیس میں بری ہو چکی ہیں اور انہیں سلاخوں کے پیچھے رکھنا توہین عدالت کے مترادف ہے۔

جج نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کو الگ درخواست دائر کرنی چاہئے کیونکہ حکومت نے ایم پی او کے تحت ان کی نظر بندی کا حکم جاری کیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں