خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 7 اور 8 دسمبر کی رات کو ٹانک کے علاقے ملازئی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔

آپریشن کے دوران فائرنگ کے شدید تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے، جو سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملوں، شہریوں کے قتل، بھتہ خوری میں ملوث تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردوں کی مبینہ موجودگی پر علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن کیا جارہا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یاد رہے کہ 5 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا جوان شہید ہوگیا تھا۔

قبل ازیں 28 نومبر کو بلوچستان کے ضلع قلات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

اسی طرح 26 نومبر کو خیبر پختونخوا ضلع جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ مہینوں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ ماہ ریاست مخالف تشدد میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارے کی رپورٹ میں خیبر پختونخوا کو سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ دکھایا گیا جس میں 51 حملے رپورٹ ہوئے جن میں 54 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہوئے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں