• KHI: Fajr 4:15am Sunrise 5:44am
  • LHR: Fajr 3:19am Sunrise 4:59am
  • ISB: Fajr 3:14am Sunrise 4:58am
  • KHI: Fajr 4:15am Sunrise 5:44am
  • LHR: Fajr 3:19am Sunrise 4:59am
  • ISB: Fajr 3:14am Sunrise 4:58am

بولی وڈ کی طرح پاکستان میں بھی اداکارائیں بولڈ لباس پہنتی ہیں، اداکارہ ممتاز

انڈسٹری میں بولڈ لباس ٹرینڈ کررہا ہے تو چلنے دیں، پیسا کمانے کے لیے یہ تو کرنا ہوگا، فلمیں گھر میں تو نہیں رکھ سکتے، بھارتی اداکارہ
شائع December 17, 2023

بولی وڈ انڈسٹری میں خواتین کے بولڈ لباس سے متعلق بات کرتے ہوئے بھارت کی لیجنڈ اداکارہ ممتاز کا کہنا ہے کہ وقت بدل گیا ہے، آجکل انڈسٹری میں بولڈ لباس ٹرینڈ کررہا ہے تو چلنے دیں، پیسا کمانے کے لیے یہ تو کرنا ہوگا، فلمیں گھر میں تو نہیں رکھ سکتے، معذرت کے ساتھ پاکستان میں بھی کئی اداکارائیں اب بولڈ لباس پہنتی ہیں، پہلے بہت سختی ہوتی تھی۔

بولی وڈ لیجنڈ اداکارہ ممتاز نے بھارت کی 100 سے زائد فلموں میں کام کیا اور ان کا شمار 1970 تک کی مشہور اور معروف ترین اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کم عمری میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کیا اور کیریئر کے عروج پر 1974 میں بھارتی نژاد یوگنڈا کے کاروباری شخص میور مادھوانی سے شادی کی اور بولی وڈ سمیت بھارت کو خیرباد کہ کر برطانیہ منتقل ہوگئیں۔

حیران کن طور پر اس وقت تک ممتاز کی عمر محض 26 یا 27 برس ہی تھی اور انہوں نے شوبز کو خیرباد کہنے کے بعد کبھی فلموں میں کام نہیں کیا اور نہ ہی بھارت کو اپنا مسکن بنایا۔

اداکارہ کی دو بیٹیاں ہیں، جس میں سے ان کی صاحبزادی نتاشا نے بولی وڈ اداکار فردین خان سے شادی کی تھی اور شادی کے 18 سال بعد جولائی 2023 میں انہوں نے شوہر سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

ممتاز ماضی میں بریسٹ کینسر کے علاوہ پیٹ کے شدید انفیکشن میں بھی مبتلا ہوئی تھیں اور کئی سال زیر علاج رہنے کے بعد وہ کینسر فری ہوگئی تھیں۔

اداکارہ ممتاز 50 سال کے طویل عرصے بعد پاکستان کے دورے پر ہیں اور اس وقت وہ کراچی میں ہیں۔

حال ہی میں اداکارہ نے ڈان نیوز ٹی وی کے پروگرام ’آپ کی کہانی‘ کو خصوصی انٹرویو دیا جہاں میزبان دیپک پروانی اور ریحانہ سہگل کے دلچسپ سوالوں کا جواب دیا، انٹرویو کے دوران ممتاز نے بولی وڈ انڈسٹری کے کام کے معیار، پاکستان آنے کے تجربے اور اپنی ماضی کی باتیں شئیر کیں۔

طویل عرصے بعد پاکستان آنے سے متعلق سوال پر ممتاز نے کہا کہ ’پاکستان نہ آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بہت چھوٹی عمر میں مسلسل کام کرنا شروع کیا، بچپن سے شوق تھا کہ زندگی میں کچھ بنوں، کوئی کام کرنے کی ٹھان لیتی ہوں تو اسے مکمل کرکے چھوڑتی ہوں۔‘

اداکارہ نے کہا کہ 50 سال بعد پاکستان آکر بہت خوشی ہورہی ہے، ہمیشہ سے یہاں دوبارہ آنا چاہتی تھی، پاکستان میں سب سے زیادہ پیار ملا، اداکارہ نے ساتھ ہی کراچی کے کھانوں کی بھی تعریف کی۔

انٹرویو کے شروع میں بولی وڈ انڈسٹری میں اقربا پروری پر بات کرتے ہوئے ممتاز نے کہا کہ ’جب ہم انڈسٹری میں دن رات کام کرتے تھے تو اردگرد کے لوگ فیملی کی طرح بن جاتے ہیں، کیونکہ روزانہ صبح ایک ہی طرح کے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے، اور انہی لوگوں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بولی وڈ اسٹارز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بھی کئی سال تک ایک ساتھ کام کرتے ہیں پھر انہیں ایک دوسرے سے محبت ہوجاتی اور شادی کرلیتے ہیں، یہ نارمل بات ہے، پھر اگر ان کی اولاد محنتی اور قابل ہوگی تو انہی اسٹارز کے بچوں کو فلم میں مرکزی کردار کا پہلے موقع دیتے ہیں۔

’چونکہ فلم انڈسٹری کے باہر کروڑوں لوگ دلیپ کمار، راج کپور بننا چاہتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ پاکستان شوبز انڈسٹری میں بھی یہی ہوتا ہوگا کہ بڑے ہیروز کی اولاد کو پہلے اور باہر کے لوگوں کو بعد میں موقع دیتے ہوں گے‘۔

اداکارہ نے کہا کہ بولی وڈ میں کئی ہیروز کی اولاد کو فلم کرنے کا موقع دیا لیکن وہ اتنے قابل نہیں تھے اس لیے وہ اب اس انڈسٹری میں نہیں ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے بولی وڈ کے کئی ہیروز کے ساتھ کام کیا لیکن راج کپور کے ساتھ کام نہ کرنے پر افسوس رہے گا، ’دلیپ کمار کے بعد راج کپور تھے جن کے ساتھ کام نہیں کیا، ’راج کپور نے ایک فلم میں مجھے کاسٹ کیا تھا لیکن یہ کہہ کر نکال دیا کہ تم شاید ہمارے گھر میں آؤ گی اور ہم نہیں چاہتے کہ آپ چھوٹے کپڑے پہنیں، آپ کو فلم میں نہیں لیں گے، پھر انہوں نے مجھے کام سے نکال دیا۔

’مرنے سے پہلے ایک ’سُپر ہٹ‘ فلم کرنا چاہتی ہوں‘

مستقبل میں فلم، ٹی وی یا نیٹ فلکس میں کام کرنے سے متعلق سوال پر ممتاز نے کہا کہ ’سچ کہوں تو مجھے دولت کی کمی نہیں ہے، میرے شوہر میری ہر خواہش پوری کرتے ہیں، انہوں نے مجھے بہت پیار سے رکھا ہے جس کی وجہ سے میرے دوست مجھے ’مہارانی‘ کہتے ہیں اس لیے پیسوں کے لیے میں چھوٹے کردار نہیں کرنا چاہتی، میں اپنا امیج برقرار رکھنا چاہتی ہوں۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’اگر میں نے دو تین فلموں میں کام کر بھی لیا جس میں کسی اور ہیروئن کے ساتھ میرا تھرڈ کلاس کردار ہو اور فلم بھی باکس آفس میں نہ چلے تو محنت ضائع ہوجائے گی تو پھر میں کیوں کام کروں؟‘

اداکارہ نے کہا کہ وہ زندگی سے رخصت ہونے سے پہلے ایک فلم کرنا چاہتی ہیں جو سُپر ہٹ ہو اور پھر ہمیشہ کے لیے انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیں گی۔

ممتاز کا کہنا تھا کہ ’امریکی اداکارہ جین فونڈا کی فلم ’مونسٹر ان لا‘ میں بولی وڈ کے دو اداکار جیکی شروف اور کپور فیملی سے تعلق رکھنے والے دو اداکاروں نے بھی کام کیا تھا، اگر ان دونوں میں سے ایک کسی کی ماں بننے کا کردار آفر ہو تو میں ضرور کروں گی۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ہولی وڈ فلم ’مونسٹر ان لا‘ بہت اچھی ہے، جین فونڈا نے بھی ماں کا کردار ادا کیا ہے، وہ جیسی ہیں انہیں ویسا ہی دکھایاگیا اور میں بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہوں۔

ممتاز نے کہا کہ ’جیسی میں ہوں مجھے ویسا ہی کردار دیں، مجھے فلم کے لیے سفید بال کرنا، بزرگ بننا پسند نہیں ، فلم ’مونسٹر ان لا‘ میں جین فونڈا کروڑ پتی اولاد کی ماں بنی ہیں، وہ بہت خوبصورت تیار ہوتی ہیں، فلم بہت اچھی ہے پتہ نہیں لوگ اب ایسی فلمیں کیوں نہیں بناتے۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’مکمل طور پر انڈسٹری چھوڑنے سے پہلے اسی طرح کا کردار آفر ہو تو میں ضرور کروں گی۔‘

بہت چھوٹی عمر میں فلم انڈسٹری کو خیربار کہنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’مجھے فلم انڈسٹری چھوڑنے کا افسوس نہیں کیونکہ شوہر نے مجھے کسی قسم کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، ’زندگی میں ایک وقت آتا ہے کہ آپ اچھی ماں اور اچھی بیوی بنو یا اچھی اداکارہ بنو، فلم میں کام کرنا آسان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں طویل عرصے بعد فلم میں واپس آنا چاہوں تو خواہش ہے کہ ایسی فلم کروں جو سُپر ہٹ ہو اور پھر ہمیشہ کے لیے انڈسٹری کو خیرباد کہہ دوں، کچرا فلم کرکے خیرباد نہیں کرنا چاہتی اس سے اچھا ہے کہ گھر میں بیٹھی رہوں۔

’بولی وڈ ہیروئن بہت زیادہ بولڈ لباس پہنتی ہیں، چلتا ہے تو چلنے دیں‘

بولی وڈ فلموں میں اچھی کہانی کی کمی سے متعلق بات کرتے ہوئے ممتاز نے کہا کہ ’زمانے کے ساتھ لوگ اور کہانیاں بدل چکی ہیں، اب لوگ فلموں میں فائٹنگ سین (لڑائی جھگڑے) پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن حال ہی میں شاہ رخ خان کے علاوہ دیگر چند اسٹارز کی فلموں نے باکس آفس میں کروڑوں روپے کمائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کی فلموں میں ڈانس اور گانے کا اسٹائل بدل گیا ہے، اب چونکہ وقت بدل گیا ہے آج کی فلموں میں فائٹنگ اور اسٹنٹ کے سین پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

بولی وڈ فلموں میں اسٹنٹ کے سین پر خرچے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آج تو ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، میں اپنے زمانے میں جب ساڑھے 7 لاکھ روپے لیتی تھی آج تو اتنے پیسوں میں جھونپڑی بھی نہیں ملتی، میرے گھر کا نوکر 7 لاکھ میں ایک بیڈروم بھی نہیں لے سکتا۔‘

پروگرام کے دوران دیپک پروانی نے سوال پوچھا کہ ’گزشتہ 50 سالوں کے دوران بولی وڈ سنیما میں ایک عورت کا کردار اسکرپٹ، ڈائیلاگ ڈیلوری، کپڑوں کے ڈیزائن کے لحاظ سے بہت اچھا ہوگیا ہے یا تنزلی ہوتی جارہی ہے؟‘

جس پر ممتاز نے کہا کہ ’یہ کردار پر منحصر ہے کہ وہ عورت کونسا کردار کر رہی ہے، اگر ماں کا کردار ہوگا تو وہ بولڈ کپڑے نہیں پہن سکتی، غریب عورت کا کردار ہوگا تو اسی طرح کپڑے پہننے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے زمانے میں زیادہ بولڈ کپڑے نہیں پہنتے تھے لیکن آجکل لڑکیاں پہن رہی ہیں، آجکل بولڈ لباس چلتا ہے تو چلنے دیں، کیا کریں، یہ لوگ پیسا کمانا چاہتے ہیں، اب گھر میں تو فلم کو نہیں رکھیں گے۔

ممتاز نے کہا کہ ’معافی چاہتی ہوں، برا مت مانیں لیکن پاکستان میں بھی اداکارائیں بولڈ لباس پہننا شروع ہوگئی ہیں، پہلے زمانے میں بہت سختی تھی، شاید وہاں کے لوگوں کو دیکھ کر یہاں بھی یہ ٹرینڈ شروع ہوگیا ہے۔

بھارتی اداکارہ نے کہا کہ ’بولی وڈ میں آج بھی ساڑھی پہنی جاتی ہے لیکن کچھ لوگ اسکرین پر بہت زیادہ بولڈ لباس پہنتی ہیں، پاکستان میں بھی چند فلموں میں لڑکیوں نے بہت بولڈ لباس پہنا ہوا تھا، وقت بدل رہا ہے۔

’جب میں پاکستان آرہی تھی تو جینز اور ٹاپ پہنا تھا، جس پر میری بہنوں نے مجھے کہا کہ ’ارے جینز پہن رہی ہو کیا پاکستان میں یہ چلے گا؟ جس پر میں نے کہا کہ کیوں نہیں چلے گا، یہاں تو سب لڑکیاں جینز پہنتی ہیں، اس حساب سے اب بھی پاکستان بہت اچھا ہے‘۔

بولی وڈ فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے سے متعلق نوجوان اداکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے ممتاز نے کہا کہ ’فلم میں آنے کے لیے خوبصورت ہوں، اچھی جسامت اور قد کے ساتھ اداکاری اور ڈانس کرنے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، اگر یہ تمام صلاحیتیں آپ کے اندر ہیں تو آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘