• KHI: Heavy Rain 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 27.7°C
  • ISB: Rain 23.5°C
  • KHI: Heavy Rain 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 27.7°C
  • ISB: Rain 23.5°C

شہزاد احمد انتقال کرگئے

شائع August 2, 2012 اپ ڈیٹ August 2, 2012 04:23pm

shehzad-ahmed-poet-dawn-450
شہزاد احمد - ڈان فوٹو

لاہور: پاکستان کے معروف شاعر اور مجلسِ ترقیِ ادب کے ڈائریکٹر شہزاد احمد اسّی برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے توحید شہزاد نے ڈان کو بتایا کہ 'میرے والد بدھ کو حسبِ معمول دفتر گئے اور شام چار بجے لوٹ آئے۔ اچانک ان کی طبیعت بگڑگئی۔ انہیں اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔'

شہزاد احمد عارضہ قلب کے مریض تھے تاہم اُن کے صاحبزادے کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ دل کا دورہ نہیں تھی۔

شہزاد احمد سولہ اپریل سن انیسو بتیس میں ہندوستان کے شہرامرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ انہوں نے میٹرک کا امتحان امرتسر سے پاس کیا تھا۔

احمد نے سن انیسو چھپّن میں گورنمنٹ کالج لاہور سے نفسیات میں ایم ایس سی اور سن انیسو اٹھاون میں گورنمنٹ کالج سے ہی فلسفہ میں ایم اے کیا۔

کالج کے زمانے سے ہی انہوں نے شاعری کا آغاز کیا تھا۔

شہزاد احمد  نے مجموعی طور پر تیس کتابیں لکھیں۔ جن میں سے زیادہ تر اُن کی شاعری کے مجموعے ہیں۔

ان کی کئی کتابیں نفسیات سے متعلق بھی ہیں۔ انہوں نے کئی کتابوں کے اردو زبان میں ترجمے بھی کیے۔ جن میں سے کچھ شاعری پر مشتمل ہیں۔ انہیں ادبی خدمات پر نوّے کی دہائی میں اعلیٰ ترین پاکستانی اعزاز 'تمغہ حُسنِ کارکردگی' سے نوازا گیا۔

ملک کے ممتاز شاعر امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ مرحوم شہزاد احمد تقسیم کے بعد کی پہلی نسل کے اُن شعرا کی فہرست میں شامل ہیں، جن میں احمد فراز، حبیب جالب اور جون ایلیا جیسے صفِ اول کے شاعر موجود ہیں۔

شاعر اور کالم نگار خلیل احمد کے مطابق شہزاد کی شاعری میں نفسیات اور فلسفہ بھی باہم نظر آتا ہے۔

شہزاد احمد کے مجموعہ کلام میں صدف، جلتی بجھتی آنکھیں، ٹوٹا ہوا پَل، اُترے میری خاک پہ ستارے اور بچھڑ جانے کی رُت شامل ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 6 اپریل 2026
کارٹون : 2 اپریل 2026