ایک طویل مگر منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کی جانب سے کم ورزش کرنے کے باوجود انہیں صحت کے وہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو مردوں کو زیادہ اور سخت ورزش کرنے کے باوجود نہیں مل پاتے۔

طبی جریدے جرنل آف امریکن کالج آف کارڈیولاجی میں شائع منفرد تحقیق کے مطابق ماہرین نے 4 لاکھ افراد پر تحقیق کی، جن میں سے 55 فیصد خواتین تھیں۔

تحقیق میں شامل رضاکاروں کی عمومی عمر 44 سال تھی اور ماہرین نے یہ دیکھنے کی کوشش کہ مختلف ایکسرسائیز کرنے سے مرد اور خواتین کی صحت اور زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین نے ڈیٹا کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ مرد حضرات کو ہفتے میں 300 منٹ کی مختلف ورزشیں کرنے کے باوجود صحت کے وہ فوائد حاصل نہیں ہو پا رہے جو کہ خواتین کو ہفتہ وار 57 منٹ کی ورزش سے ہو رہے ہیں۔

علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مرد سخت اور مختلف اقسام کی ورزشیں کریں جب کہ خواتین صرف دوڑنے یا تیز گھومنے کا کام کریں تو بھی انہیں مردوں کےمقابلے زیادہ صحت کے فوائد مل سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر کم ایکسرسائیز کے باوجود خواتین کو صحت کے زیادہ فوائد اس لیے ملتے ہیں کہ ان کے مسلز میں ایک خصوصی طرح کا کیمیکل زیادہ پایا جاتا ہے جو کہ عارضہ قلب سمیت دیگر بیماریوں سے بچانے میں مددگار ہوتا ہے اور خواتین کی جانب سے کم ورزش کرنے کے باوجود مذکورہ کیمیکل اچھی طرح کام کرنے لگتا ہے۔

ساتھ ہی ماہرین نے بتایا کہ جس طرح مرد اور خواتین میں ٹیسٹس اور بیماریوں کی شرح مختلف ہوتی ہے، اسی طرح ورزش سے خواتین کو حاصل ہونے والی مختلف مطلوبہ مقدار جلد مکمل ہوجاتی ہوگی، جس وجہ سے انہیں زیادہ فوائد ملتے ہوں گے۔

ماہرین نے نوٹ کیا کہ خواتین کی جانب سے تھوڑا بھی متحرک ہونا انہیں صحت مند زندگی فراہم کرتا ہے جب کہ اچھی خاصی ورزش کرنے والی خواتین جاذب نظر طویل زندگی بھی پاتی ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں