ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طرز زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات کا یومیہ استعمال میٹابولک سینڈروم سے بچانے یا اس کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

میٹابولک سینڈروم دراصل مختلف بیماریوں یا پیچیدگیوں کا مجموعہ ہے جس سے سنگین بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔

عام طور پر میٹابولک سینڈروم 5 امراض کا مجموعہ ہے اور اس کے شکار افراد میں توند کا برھنا، خون میں خصوصی قسم کی چربی ٹرائی گلیسڈرز، صحت کے لیے اچھے سمجھے جانے والے ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی کمی، خراب کولیسٹرول کی سطح بڑھنا، ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کا ہونا عام ہوتا ہے۔

مذکورہ مسائل اور پیچیدگیوں سے ذیابیطس، امراض قلب اور فالج سمیت دیگر سنگین بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ میٹابولک سینڈروم کو بہتر طرز زندگی، اچھی خوراک اور خشک میوہ جات کے استعمال سے کم کیا جاسکتا ہے۔

طبی جریدے ایم ڈی پی آئی میں شامل تحقیق کے مطابق میٹابولک سینڈروم کے شکار افراد اگر اپنا طرز زندگی بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات کا استعمال بڑھائیں تو ان میں بیماریوں کے خطرات نمایاں کم ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق خشک میوہ جات، توند، کمر کے گرد جمع ہونے والی چربی، خون میں جمع ہونے والی چربی، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کو قابو کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پستہ، بادام، اخروٹ، کاجو، چلغوزہ، خوبانی اور کشمش پر مشتمل خشک میوہ جات میٹابولک سینڈروم کے اثرات اور خطرات کو کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ عام لوگ پاپڑ، چپس اور تلی ہوئی غذائیں زیادہ استعمال کر رہے ہیں اور نوجوان ایسی غذائیں شوق سے استعمال کرتے ہیں لیکن وہ ساتھ ساتھ خشک میوہ جات کا استعمال کریں تو تلی ہوئی غذائوں سے ہونے والے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ خشک میوہ جات 20 سال کے نوجوان افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہیں جب کہ 40 سال کے ادھیڑ عمر افراد خصوصی طور پر میٹابولک سینڈروم سے بچنے کے لیے ان کا استعمال کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں