یورپی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہتر طرز زندگی اپنانے سے جینیاتی خرابیوں میں مبتلا افراد بھی زیادہ طبی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے ساڑھے تین لاکھ یورپی افراد کی زندگی، صحت اور ان میں پائی جانے والی جینیاتی خرابیوں یا بیماریوں کا جائزہ لیا۔

ماہرین نے ریکارڈ سے رضاکاروں کا ڈیٹا لیا اور ان کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں اور بیماریوں سمیت ان کے طرز زندگی کو 13 سال تک دیکھا اور پھر نتائج نکالے۔

ماہرین نے تمام رضاکاروں کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے ان کی زندگی اور صحت پر ان کے لائف اینڈ اسٹائل سے پڑنے والے اثرات کو جانچا۔

ماہرین نے پایا کہ جینیاتی بیماریوں یا مسائل میں مبتلا افراد بھی بہتر طرز زندگی سے صحت مند اور طویل عمر پا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بہتر اور صحت مند طرز زندگی اپنانے سے جینیاتی خرابیوں یا بیماریوں کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اور ایسے مسائل سے دوچار افراد اپنا خیال رکھ کر اپنی زندگی 6 سال تک بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جینیاتی بیماریوں یا مسائل کا سامنا کرنے والے افراد بہتر اور پرسکون نیند کرنے، ورزش کرنے، صحت مند غذائیں کھانے، سگریٹ و شراب نوشی سے پرہیز کرنے سے بہتر اور صحت مند زندگی پا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بہتر اور صحت مند طرز زندگی ویسے بھی طویل عمر کا راز ہوتا ہے لیکن اگر کسی بھی شخص کے خاندان میں جلد موت ہوجانے یا بیماریوں کا جینیاتی مسئلہ ہے تو وہ بہتر طرز زندگی اپنا کر اپنی زندگی کو بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ ہر انسان کے لیے بہتر اور صحت مند طرز زندگی کے مختلف اصول ہوسکتے ہیں، ایسے افراد ماہرین صحت کے مشورے سے غذا، ورزش اور روز مرہ کے معمولات کو بہتر انداز سے سر انجام دے سکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں