• KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:46pm
  • LHR: Maghrib 7:04pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:14pm Isha 8:51pm
  • KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:46pm
  • LHR: Maghrib 7:04pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:14pm Isha 8:51pm

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے عدلیہ کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ کو بھیجنے کی تجویز دے دی

شائع May 22, 2024
اعظم نذیر تارڑ
اعظم نذیر تارڑ

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے عدلیہ کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ کو بھیجنے کی تجویز دے دی۔

قائممقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان اور پزائیڈنگ افسر شیری رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، اس دوران ؒخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب ایک قابل احترام ، متحمل مزاج جج ہیں، انہوں نے قانون کی بات کی، اس میں ان کی خدمات سب کے سامنے ہین، جو انہوں نے ماضی میں جھیلا وہ بھی ہمارے سامنے ہے ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہیے، ایمل ولی نے صحیح کہا کہ جس کہانی کا آغاز 1947 میں ہوا وہ ابھی بھی جاری ہے، مجھے کوئی خوشی نہیں کہ سیاسی لوگ جیلوں میں رہیں، ہم 24 گھنٹے ایک سے دوسری عدالت میں جاتے تھے تو یہ سب باتیں چھوڑیں اور آگے کی سوچیں۔

آئین کسی عدالت کو وزیر اعظم کی طلبی کا اختیار نہیں دیتا، وزیر قانون

اعظم نذیر تارڑ نے کہنا تھا کہ سیاست میں خدمت بھی شامل ہے، ہمیں ایک دوسرے سے گفت و شنید ہونا چاہیے، کیا ہمیشہ سیاستدان ہی ہمیشہ سزائیں بھگتیں گے کہ کبھی کسی وزیر اعظم کو لٹکا دیں تو کسی کو گھر بھیج دیں۔

انہوں نے بتایا کہ تنقید ہم پر بھی ہوتی ہے لیکن جو ادارے کام کر رہے ہیں وہ بھی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں، کل مین نے پریس کانفرنس کی اور میں اپنی بات پر کھڑا ہوں، آئین پاکستان کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیات کہ وہ غصے میں جو دل میں آئے وہ کہہ دے، وہ کہے کہ ابھی یہ کام ایسے نا ہوا تو وزیر اعظم یا کابینہ کو یہاں بٹھا دوں، یہ منتخب نمائندے ہیں، آئین کسی عدالت کو وزیر اعظم کی طلبی کا اختیار نہیں دیتا، یہ کیا طریقہ ہے عدالت کرنے کا، آپ فیسلوں کے ذریعے جو کرنا چاہتے ہیں کریں یہ شرط تو نہیں کہ سامنے ساری کابینہ یا وزیر اعظم کو سب کام چھروا کے وہاں پہ بٹھا دیں، یہ ادارے عوام کی طاقت کے ذریعے بنتے ہیں، پارلیمان سپریم ادارہ ہے، عوام نے اسمبلی منتخب کی اور ایوان بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، کسی شخص کے بارے میں کہنا کہ وہ فلاں کا ایجنٹ ہے تو وہ غلط ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ مجھے عدالت سے معافی نہیں ملی لیکن جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن مل گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں تقریر نہیں آپ بیتی سنانا چاہتا ہوں کہ کیسے پاکستان میں سلیکٹو توہین عدالت کے کیسز لگتے ہیں، مساوات کا کوئی قانون نہیں اور کیسے خاص لوگوں کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پانامہ کے دوران میں کیس دیکھنے جاتا تھا اور باہر آکر میڈیا کو بتاتا تھا ، اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے، مجھے بھی توہین عدالت کا نشانہ بنایا یا کیونکہ میں اس وقت ایک نظریے پر کھڑا ہوا تھا، میرے خلاف نوٹس اس بات پر لیا گیا کہ میں نے جلسے میں کہا تھا کہ پی سی او کے ججز کو نکالو، اس نوٹس پر کوئی بھی میرا وکیل بننے کو تیار نہیں تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہم عدالت کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے میرا کیس لیکن ان کا انتقال ہوگیا، پھر کامران مرتضی نے میرا کیس لیا، میرے جیسے کے لیے کوئی معافی نہیں تھی، پوری دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہوچکا لیکن آج بھی ہم انسیویں صدی کے ہتھکنڈے اس لیے استعمال کرستے ہین تاکہ کوئی بول نا سکے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ فیصل واڈا کے ساتھ میں بات نہیں کرتا کیونکہ میرا ان سے شدید اختلاف ہے لیکن میں سیاسی کارکن کے طور پر بزدل نہیں، پارلیمان مدر آف انسٹی ٹیوشن ہے لیکن ہمیشہ ہم نے تحمل سے کام لیا، ملک میں لگتا ہے کہ جیسے ادارے آمنے سامنے ہیں، درگزر کا اصول عدالت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، ایسے نوٹس سے عدالت کے وقار میں اضافہ نہیں ہوگا، میری گزارش ہے کہ اس صورتحال میں عدالت اپنے فیصلوں سے وقار بلند کرے، اگر سسلین مافیا، پراکسی جیسے الفاط کہیں تو اسے کون برداشت کرے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کا کیس چل رہا تھا تو ثاقب نثار نے مجھے پیغام بھجوایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دو گے تو پارلیمنٹ جاؤ گے ورنا جیل جاؤگے، ایک اور بات یہ ہوئی کہ میری رییو پٹیشن لگی تھی اسی دن جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن کا کیس بھی لگا ہوا تھا تو میرے جیسے سیاسی کارکن کو معافی نہیں ملی مگر عدالت سے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن مل گئی، کیا عدالت کا وقار توہین عدالت دینے سے بلند ہوگا، ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم نے آپ کی عزت پر ھرف نہیں آنے دیا لیکن اس کام کو روکیں ابھی، بس۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ:

میں چپ رہا تو مار دے گا مجھے میرا ضمیر،
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ آئین صرف ججز کی نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ہماری انفرادی اور مشترکہ عزتیں اچھالنے کا حق کسی کو نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں سلیکٹو (selective) انصاف تو دیکھا ہے مگر توہین میں بھی ججز صاحبان سلیکٹو رہتے ہیں، اگر آپ کسی مخصوص جماعت کہ ہیں تو آپ کو کھلی چھوٹ ہے کہ کچھ بھی کہہ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو کہ آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے۔

سینیٹر نے فیصل واڈا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کو جج صاحبان نے کہا کہ یہ پراکسی ہیں، حامد خان صاحب نے اپنی کتاب میں ججز کی پراکسی کا ذکر کیا تو لکھنے والے اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں، ہاں فیصل واڈا پراکسی ہیں اس ایوان کے عوام کے اور تب بھی ان کو پراکسی کہا جائے کسی منفی معنی میں تو اس ایوان کے نمائندوں کی عزتوں پر بھی حرف اٹھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں تو توہین توہین کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، لوگوں کے لاکھوں ووٹ سے منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ سب کی عزت ہے، آئین صرف ججز کی عزت کے حوالے سے بات نہیں کرتا وہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ٹی وی پر صبح سے شام تک ریمارکس کا کھیل چلتا ہے، ہماری پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک چیف جسٹس نے کہا کہ نسلا ٹاور کو گرا دو کہ وہاں امیر لوگ نہیں رہتے، تو یہ کونسا انصاف ہے اور میں اس پر بات کروں تو کہتے ہیں کہ توہین آمیز لہجہ ہو رہا ہے، میں لوگوں کے لیے بات نہ کروں ؟ آئین سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں، سابق چیف جسٹس نے آئین کو خود ہی دوبارہ لکھ دیا تھا آرٹیکل 62، 63 کے معاملے پر، آپ کے فیصلے سے آئین میں آپ کی مداخلت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا اس پارلیمان کے ارکان کو یہ آزادی ہے کہ جو سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی جج غیر شعوری طور پر نیک نیتی سے فیصلہ کردے اور بعد میں احساس ہوجائے کہ فیصلہ غلط ہے تو اسے درست کرے تو ہمیں تو یہ اختیار نہیں ہے، ان کے فیصلے سے پاکستانی تاریخ پر دھبہ لگا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دوستوں کے لیے 2018 اور 9 مئی سے پہلے پاکستان وجود میں ہی نہیں تھا، ہم تو ہنستے ہیں، سندھ اسمبلی میں ایک ممبر اسمبلی ہیں جن کو گرفتار کر کے ڈال دیا گیا تھا جیل میں لیکن ہمیں یہ آزادی نہیں تھی کہ ہمیں 50 کیسز میں ضمانتیں ملیں، ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہمارے کیس کے فیصلے پشاور ہائی کورٹ میں ہوں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاپتا افراد کو بازیاب ہونا چاہیے، ایم کیو ایم کے 113 لاپتا افراد کے حوالے سے کوئی عدالت نوٹس لینے کو تیار نہیں، اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری شجاعت نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کے 30 کارکنان کو مار کر مارگلہ میں دفنا دیا، اب لے لیجئے نا نوٹس، ہمارا کام ہے نشاندہی کرنا ، پارلیمنٹ سپریم ہے تو ہم نشاندہی کریں گے ، آپ کی عزت ہماری عزت ہے لیکن آپ کی طرف سے پسند نا پسند کی بنیاد پر انصاف ہو گا تو لوگ آپ پر سوال اٹھائیں گے۔

ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، ذیشان خانزادہ

سینیٹ میں عدلیہ پر تنقید پر تحریک انصاف نے ایوان میں احتجاج کردیا، سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، اس پر شیری رحمن نے کہا کہ اگر رکن کا استحقاق مجروع ہو تا ہے تو بات ہو سکتی ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ریلوے کا 68 فیصد بجٹ ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں لگ جاتا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریلوے کے باقی 20 فیصد بجٹ سے ریلوے کا آپریشن چلتا ہے، پنشن ریلوے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، کرپشن پر کارروائی کی وجہ سے گزشتہ سال ریلوے آپریشنز سے کئی برسوں سے زیادہ آمدنی ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ریلوے نے اپنی آمدن میں اضافہ کیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے ریلوے میں بہت محنت کی، گزشتہ سالوں کی نصبت 2023- 2022 میں ریلوے آمدن میں 251 فیصد اضافہ کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں رائل پام سمیت ریلوے کی قیمتی اراضی کی غلط ڈیل کی گئی، ہم کہتے ہیں کہ حکومتیں کاروبار نہ کریں، برٹش ریلویز نے اپنا 90 فیصد کاروبار پرائیویٹائز کیا ہوا ہے، ریلوے کے اخراجات میں کمی پر کام ہورہا ہے، ریلوے قومی ادارہ ہے، ٹرین غریب کی سواری ہے ہم سب نے اسے بہتر بنانا ہے۔

ایک سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین تنخواہ نہیں لے رہے، وزرا بجلی اور گیس کے بلز بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں، وفاقی وزرا نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں چھوڑی ہیں ، وزرا کے پاس ایک سرکاری رہائش گاہ، 300 لیٹر پیٹرول ، ایک 1800 سی سی گاڑی، ایک ڈرائیور اور ایک سیکیورٹی گارڈ ہے، زیادہ تر وزرا اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی سینیٹر شہادت اعوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتنے لوگ 1965 کی جنگ میں نہیں مرے جتنے ٹرین حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ یہاں مینڈیٹ چوری ہوجاتا ہے آپ ریلوے میں چوری کی بات کررہے ہیں، ریلوے میں خسارے کا ذمہ دار کون ہے؟

جن کے لیے عیش و آرام ہے وہ کیوں ایوان میں نہیں آتے؟ زرقا سہروردی

بعد ازاں سنی اتحاد کونسل کی سینیٹر زرقا سہروردی نے کہا کہ ایوان میں وزرا نہیں آتے، ایوان کو بند کر دیں، ہم وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ کے خلاف کچھ نہیں کہتے کہ کہیں ڈالا نہ آ جائے، جن کے لیے عیش و آرام ہے وہ کیوں ایوان میں نہیں آتے؟

انہوں نے دریافت کیا کہ ریلوے کی نجکاری کرنی ہے، کیا این ایل سی کی نجکاری کی گئی؟ ریلوے کا سارا بزنس این ایل سی نے لے لیا ہے۔

بعد ازاں کامسیٹ یونیورسٹی میں عبوری تعیناتیوں پر سینٹر زرقا سہروردی نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی 60 جامعات کے وائس چانسلر نہیں ہیں کامسیٹ میں قوائد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کہ کامسیٹ ملک کی چند اچھی یونیورسٹیز میں سے ایک ہے، کامسیٹ کے سابق ریکٹر ڈاکٹر ساجد قمر ایک ماہ کی چھٹی پر کینیڈا گئے اور وہاں سے استعفی بھیج دیا، بعد ازاں سابق صدر عارف علوی نے ان کا استعفی منظور کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ریکٹر کے عہدے کے لیے 80 لوگ شارٹ لسٹ ہوئے اور ان کے انٹرویو کا مرحلہ گزشتہ ہفتے مکمل ہو گیا، 3 افراد کا پینل اب صدر کو بھیجا جائے گا جو کامسیٹ کے ریکٹر کی تعیناتی کر دیں گے، قائم مقام ریکٹر کامسیٹ نے رولز میں کوئی تبدیلی نہیں کی، ادارے کی سینیٹ کو رولز میں تبدیلی کا اختیار ہے، کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، وائس چانسلرز کا نہ ہونا تشویشناک ہے، پنجاب میں یونیورسٹیز کے وی سی کی تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹیاں قائم کر دی ہیں ، اشتہار دے دیے گئے ہیں۔

وزیر داخلہ ٹی وی پر نظر آتے ہیں ایوان میں نہیں، محسن عزیز

بعد ازاں سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہمارے وزیر داخلہ چلبل پانڈے کی طرح ہیں، وہ ٹی وی پر نظر آتے ہیں ایوان میں نہیں۔

بعد ازاں پی آئی اے کی نجکاری اور فروخت کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کیا گیا، پیپلز پارٹی کی سینیٹر عینی مری نے کہا کہ پی آئی اے نے ماضی میں کئی ائیر لائنز کو کھڑا کیا، پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد مسئلہ نہیں ہے، ملازمین کی تعداد دیگر ممالک کی ائیر لائنز سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں، پی آئی کو دانستہ طور پر تباہ کرنے کے لیے غلط انتظامی فیصلے کیے گیے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ اس وزیر پر آرٹیکل 6 کیوں نہیں لگا جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹ جعلی ہیں، ہمیں نجکاری کی جلدی پڑی ہے، کوئی شفافیت نہیں ہے، حکومت پی آئی اے نجکاری کے بارے میں شفافیت کرے۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت کرنے والی سینیٹر شیری رحمٰن نے بتایا کہ پی آئی اے کے بزنس پلانز میں بتایا گیا تھا کہ ملازمین بوجھ نہیں تھے بلکہ فلیٹس اور روٹس کی کمی نقصان کا باعث بنا۔

اس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سینیٹر پونجو نے کہا ہم اپنے قومی اداروں کو بیچتے جا رہے ہیں، باقی تمام نجی ائیرلائنز تو بالکل ٹھیک چل رہی ہیں، ائیر عربیہ کہہ رہی کہ پی آئی اے ہمیں دی جائے، کیا ہم یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ پاکستانی نااہل ہیں؟

بعد ازاں پیپلز پارٹی کے سینیٹر کاظم علی شاہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو فرخت نہ کریں بلکہ اسے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں دے دیں، یہ تو چاہیں گے کہ پاکستان کو بیچ دیں۔

استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما و وفاقی وزیر نجکاری علیم خان نے بتایا کہ بات درست ہے کہ نچلے طبقے کے ملازمین کا قصور نہیں، زیادہ بھرتیاں جس نے کی قصور تو اس کا ہے، انتظامیہ درست کام نہیں کر رہی تھی تو کس کا کام تھا کہ انہیں تبدیل کرتی؟ مختلف اداروں میں پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا گیا، پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب ہے، ہم نے دہائیاں لگائی ہیں پی آئی اے کو تباہ کرنے میں، پی آئی اے تباہی میں سب نے اپنا حصہ ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا کام بزنس کرنا نہیں ، سہولت دینا ہے، حکومت بزنس کرے تو یہی حال ہوتا ہے جو پی آئی اے کا ہے، آج ہمارے پاس جہاز نہ ہوں تو ملازمین زیادہ ہی لگتے ہیں، اس وقت صرف 18 جہاز چل رہے ہیں اور ان کے ساتھ دس ہزار ملازمین ہیں، یقین دلاتا ہوں جس دن نیلامی ہو گی یہ لائیو نشر ہو گی، نیلامی ساری قوم دیکھے گی، کسی کمپنی پر آپ کو لگتا ہے کہ قابل نہیں ہے تو آپ ہمیں کہیں، ابھی پری بڈنگ کا عمل چل رہا ہے ، اس کو شفاف رکھوں گا، ایک بھی چیز ایسی نہیں ہو گی جس پر شرمندہ ہوں۔

بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے کہا کہ اس اجلاس کا کاغذات میں ایجنڈا تو کچھ اور ہے لیکن لگ یوں رہا ہے کہ اجلاس اس لیے بلایا گیا ہے کہ اس ایوان سے عدلیہ سے جوابی کلامی کریں، یہ معزز ایوان استعمال ہو رہا ہے، جو استعمال کر رہے ہیں ہر طرف ان کی بات تو نہیں ہوگی۔

ایوان بالا میں رؤف حسن پر حملے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، رپورٹ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی، انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ تہران گئے ہیں، وزیر داخلہ نے مجھے بریف کیا اور آئی جی کو ذمہ داری سونپی، رؤف حسن کے اپنے بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اسپیشل انویس ٹیگیشن ٹیم بنادی گئی ہے، رؤف حسن نے بتایا کہ انہیں اور ان سے ملتے جلتے لوگوں کا ایک پہلے بھی واقعہ ہوا لیکن معمولی سمجھ کر انہوں نے رپورٹ نہیں کیا

ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک اور نادرا بھیج دی ہیں، حملہ آوروں کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت سنجیدگی سے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، سنجیدگی سے اس مقدمے کو لیا جا رہا ہے، ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں، عام طور پر ایسے مقدمات میں اقدام قتل کے دفعات شامل نہیں کیے جاتے، ہم اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر روف حسن پر حملہ کرنے والے خواجہ سرا ہی ہیں، کچھ چیزیں ایوان میں نہیں رکھ سکتا، حقائق سامنے رکھے تو لوگ بھاگ سکتے ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 24 جولائی 2024
کارٹون : 23 جولائی 2024