• KHI: Fajr 4:29am Sunrise 5:55am
  • LHR: Fajr 3:37am Sunrise 5:12am
  • ISB: Fajr 3:34am Sunrise 5:12am
  • KHI: Fajr 4:29am Sunrise 5:55am
  • LHR: Fajr 3:37am Sunrise 5:12am
  • ISB: Fajr 3:34am Sunrise 5:12am

خلوص سے کام کیا، الزام تراشی کے کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہتا، وہاب ریاض

شائع July 10, 2024
قومی ٹیم کے سابق سلیکٹر وہاب ریاض— فائل فوٹو: اے پی
قومی ٹیم کے سابق سلیکٹر وہاب ریاض— فائل فوٹو: اے پی

حال ہی میں سلیکٹر کے عہدے سے برطرف کیے گئے قومی ٹیم کے سابق سلیکٹر وہاب ریاض نے کہا ہے کہ میں اس الزام تراشی کے کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہتا، میں نے پورے خلوص سے اپنا کام کیا اور اپنا 100فیصد دیا لیکن سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے میرا کام ختم ہو گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن میں اس الزام تراشی کے کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

انہوں نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے میرا کام ختم ہو گیا ہے، میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے پورے خلوص کے ساتھ اس کھیل کی خدمت کی جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں اور میں نے پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے اپنا 100فیصد دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن پینل کے رکن کی حیثیت سے کام کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، سات رکنی پینل کے رکن کے طور پر باہمی اشتراک کے ساتھ فیصلے کرتے ہوئے قومی ٹیم کا انتخاب کرنا میرے لیے باعث افتخار ہے جس میں ہر شخص کا ووٹ یکساں اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بطور ٹیم فیصلے کیے اور ان فیصلوں کی ذمے داری بھی سب نے لی لہٰذا اس عمل کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

39سالہ سابق سلیکٹر نے کہا کہ گیری کرسٹن اور کوچنگ گروپ کو سپورٹ کرنا باعث اعزاز رہا جنہوں نے ٹیم کے ایک وژن بنایا تھا، مجھے اعتماد ہے کہ کوچز نے ٹیم کے لیے جو منصوبے بنائے ہیں اس سے یہ ٹیم آگے جا کر ایک بھرپور قوت بن کر ابھرے گی اور میں ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔

27 ٹیسٹ، 91 ون ڈے اور 36 ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وہاب نے ان کے لیے دعا کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بس مستقبل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کامیابی کا خواہاں ہوں۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی ابتر پرفارمنس کے بعد ’سرجری‘ کے عمل کا آغاز کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سلیکٹر وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

کرکٹ بورڈ کی جانب سے مختصر اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ’پی سی بی کو وہاب ریاض اور عبدالرزاق کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں، عبدالرزاق قومی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن تھے جب کہ وہاب ریاض مینز ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا حصہ تھے‘۔

بعدازاں وہاب ریاض نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا تھا کہ اس زیر بحث بیان سے اتفاق نہیں کرتا کہ سلیکشن کمیٹی کے باقی ارکان پر دباؤ ڈالتا تھا اور اس حوالے سے آج شام وضاحتی بیان جاری کروں گا۔

کارٹون

کارٹون : 20 جولائی 2024
کارٹون : 19 جولائی 2024