• KHI: Partly Cloudy 23.5°C
  • LHR: Clear 15.5°C
  • ISB: Clear 12.1°C
  • KHI: Partly Cloudy 23.5°C
  • LHR: Clear 15.5°C
  • ISB: Clear 12.1°C

ایلون مسک کے جیفری ایپسٹین کی کلائنٹ لسٹ پر سوالات، امریکی محکمہ انصاف کی وضاحتیں

شائع July 9, 2025
امریکا کی اٹارنی جنرل پام بونڈی وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے بعد سوالات کا جواب دے رہی تھیں — فوٹو: رائٹرز
امریکا کی اٹارنی جنرل پام بونڈی وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے بعد سوالات کا جواب دے رہی تھیں — فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محکمہ انصاف (جسٹس ڈپارٹمنٹ) نے منگل کے روز اس وقت وضاحتیں دینا شروع کردیں، جب اس کی قیادت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے جیفری ایپسٹین کی موت اور اس کے مبینہ مؤکلین کے بارے میں طویل عرصے سے پھیلائی جانے والی سازشی نظریات کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق قدامت پسند شخصیات جیسے لارا لومر اور ایلون مسک نے اٹارنی جنرل پام بونڈی اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل پر تنقید کی، جنہوں نے ان نتائج کا اعلان کئی مہینے بعد کیا، جب بونڈی نے ایپسٹین کے بارے میں بڑے انکشافات کرنے کا وعدہ کیا تھا، جن میں ’بہت سے نام‘ اور ’بہت سی فلائٹ لاگز‘ شامل تھیں۔

فروری میں ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب پام بونڈی سے پوچھا گیا کہ کیا جسٹس ڈپارٹمنٹ، ایپسٹین کی کلائنٹ لسٹ جاری کرے گا؟ تو پام بونڈی نے کہا تھا ’یہ اس وقت میری میز پر ہے تاکہ میں اس کا جائزہ لے سکوں‘۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں پام بونڈی نے اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا مطلب ایپسٹین کی ’مکمل فائل‘ سے تھا، جس میں جان ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق فائلیں بھی شامل ہیں، ’میرا مطلب وہی تھا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین کی تفتیشی فائل میں موجود ویڈیوز میں سے بہت سی ’چائلڈ پورن‘ ثابت ہوئیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ مواد ’کبھی بھی جاری نہیں کیا جائے گا‘، کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں آئے گا۔

جسٹس ڈپارٹمنٹ کی پیر کے روز جاری کردہ میمو میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ 300 گیگا بائٹس سے زائد ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد کوئی مجرمانہ کلائنٹ لسٹ موجود نہیں اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ ایپسٹین نے کسی نمایاں شخصیت کو بلیک میل کیا ہو۔

میمو میں ایف بی آئی کی پہلے کی گئی تحقیقات کی بھی تصدیق کی گئی، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین نے اپنی جیل کی کوٹھری میں خودکشی کی اور یہ کوئی مجرمانہ فعل (جیسے قتل) نہیں تھا۔

جسٹس ڈپارٹمنٹ کے انسپکٹر جنرل کی بعد ازاں رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ جیل میں موجود اہلکار، جنہیں ایپسٹین کی نگرانی پر تعینات کیا گیا تھا، انہوں نے اس کی کوٹھری کی تلاشی نہیں لی اور نہ ہی اس پر نظر رکھی، جس دوران اس نے خودکشی کی۔

کاش پٹیل اور ایف بی آئی کے نائب ڈائریکٹر ڈین بونجینو (جو پہلے ایک قدامت پسند پوڈکاسٹر تھے) دونوں نے ایف بی آئی میں شمولیت سے قبل متعدد مواقع پر مبینہ کلائنٹ لسٹ کا ذکر کیا تھا اور یہ تاثر دیا تھا کہ حکومت ایپسٹین سے متعلق معلومات کو امریکی عوام سے چھپا رہی ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ان دونوں کا دفاع کیا اور انہیں ’عظیم ترین قانون نافذ کرنے والے ماہرین‘ قرار دیا، حالانکہ ان کی میک امریکا گریٹ اگین (MAGA) حمایتی جماعت کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

منگل کو ایک کابینہ اجلاس کے دوران جب رپورٹرز نے ایپسٹین سے متعلق سوالات پوچھے، تو ٹرمپ نے جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ اب بھی جیفری ایپسٹین کی بات کر رہے ہیں؟‘

ٹرمپ کے سابق ساتھی بھی فائلز میں شامل

ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک، جو اب ٹرمپ کے سابق قریبی ساتھی سے ان کے مخالف بن چکے ہیں، نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ’لوگوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ٹرمپ پر یقین رکھیں گے اگر وہ ایپسٹین کی فائلز جاری نہیں کرتے؟‘

گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک، دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے دوران مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کا نام ایپسٹین فائلز میں شامل ہے، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی پوسٹس حذف کر دی تھیں۔

مسک نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیو بینن، جو ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت میں ان کے مشیر رہے، ’ایپسٹین فائلز میں شامل ہیں‘۔

وہ ایک پوسٹ کا جواب دے رہے تھے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین نے ’کیمرے پر اسٹیو بینن کے ساتھ گھنٹوں طویل انٹرویو دیا تھا‘۔

ایک اور پوسٹ میں ایلون مسک نے کہا کہ انہوں نے ’پینٹ نٹ‘ کو گرفتار (اور مار) دیا، لیکن ایپسٹین کی کلائنٹ لسٹ میں شامل کسی فرد پر بھی مقدمہ نہیں چلایا۔

(یہ حوالہ نیویارک کی ریاستی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال ضبط کی مشہور انسٹاگرام گلہری سے تھا۔)

ٹیسلا کے مالک نے مزید کہا کہ ’حکومت بری طرح ٹوٹ چکی ہے‘۔

کارٹون

کارٹون : 4 فروری 2026
کارٹون : 3 فروری 2026