خیبر پختونخوا میں 25 جون سے بارشوں اور سیلاب کے باعث 71 افراد جاں بحق، 86 زخمی
خیبر پختونخوا میں مون سون کے حالیہ موسم کے دوران اب تک بارش سے متعلقہ مختلف حادثات میں کم از کم 71 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں نصف سے زائد تعداد بچوں کی ہے، جبکہ مزید 86 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے جاری کیے ہیں۔
خطے میں ہر سال جون سے ستمبر تک مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں۔ رواں برس جون کے آخر سے شروع ہونے والی ان بارشوں نے ملک کے مختلف حصوں کو شدید متاثر کیا ہے، جن کے نتیجے میں مہلک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی دیکھی گئی، خاص طور پر ان علاقوں میں جو کمزور، ناقص نکاسی آب یا زیادہ گنجان آباد ہیں۔
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 25 جون سے بارشوں اور سیلاب کے باعث 40بچوں سمیت 71 افراد جاں بحق اور 86 زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں 14 خواتین اور 17 مرد بھی شامل ہیں، سب سے زیادہ جانی نقصان سوات میں ہوا جہاں 22 افراد لقمہ اجل بنے، زیادہ تر اموات سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور عمارتیں منہدم ہونے کے باعث ہوئیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق، 27 جون کو سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے علاقوں میں غیر معمولی سیلابی ریلوں کے بعد 17 افراد لاپتا ہوگئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے،ان میں سے 12 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، 4 کو زندہ بچایا گیا جبکہ ایک لاش تاحال نہیں ملی۔ امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، 21 جولائی کو ایک عورت نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی جبکہ 2 بچے بہہ گئے، اسی دن سوات کی تحصیل بحرین میں ایک گھر کی چھت گرنے سے 3 بچے جاں بحق ہو گئے۔
اضلاع کے لحاظ سے مجموعی ہلاکتیں کچھ یوں ہیں، سوات (22)، بونیر (4)، مالاکنڈ (5)، چارسدہ (3)، اپر دیر (3)، تورغر (2)، مانسہرہ (3)، ہنگو (2)، خیبر (3)، ایبٹ آباد (5)، شانگلہ (2)، باجوڑ (3)، لوئر کوہستان (2)، لکی مروت (3)، بٹگرام (2) جبکہ کرک، ہری پور، اپر کوہستان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے بھر میں بارش سے متاثر ہو کر زخمی ہونے والوں کی تعداد 86 ہے، جن میں 38 مرد، 15 خواتین اور 33 بچے شامل ہیں۔
انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیل کے مطابق مجموعی طور پر 358 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے 54 مکمل طور پر تباہ ہو گئے، سب سے زیادہ 63 مکانات سوات میں تباہ ہوئے، اس کے بعد کرک میں 38 اور بونیر میں 22 مکانات کو نقصان پہنچا۔
بارشوں کے باعث 142 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔
دریں اثنا، پی ڈی ایم اے نے آج خیبر پختونخوا میں بارش اور گرج چمک کے امکانات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کیا ہے، آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران چترال، دیر، سوات، کالام، مانسہرہ، بٹگرام، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان، نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، کوہاٹ، لکی مروت، پاراچنار، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ الرٹ رہیں کیونکہ محکمہ موسمیات نے 4 سے 7 اگست کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے تیز بارش، آندھی اور طوفان کی پیشگوئی کی ہے۔












لائیو ٹی وی