سیلابی صورتحال، ٹریفک جام اور طویل بجلی بریک ڈاؤن، کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ
شہر قائد میں بارش کے باعث شہریوں کو بجلی کی طویل بندش، ٹریفک جام سمیت دیگر پریشانیوں کا سامنا ہے، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رین ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج صبح 8 تا رات 8 بجے تک سب سے زیادہ 177 ملی میٹر بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی، اولڈ ایئرپورٹ 158،جناح ٹرمینل پر 153، ناظم آباد میں 149.6 ملی میٹر، سرجانی ٹاؤن میں 145.2، کیماڑی میں 140، سعدی ٹاؤن میں 140.2، ڈی ایچ اے فیز 7 میں 134، یونیورسٹی روڈ پر 133، پی اے ایف بیس فیصل پر 128، نارتھ کراچی میں 108.4، کورنگی میں 132.2، گلشن معمار میں 98، پی اے ایف مسرور بیس پر 87، اورنگی ٹاؤن میں 66.2 اور بحریہ ٹاؤن میں 4.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
رات دیر گئے تک شہر کے بڑے حصوں پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ بجلی کے طویل بریک ڈاؤن سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق میئر نے ضروری خدمات کے محکموں کے لیے ’ہفتہ وار تعطیلات سمیت‘ تمام چھٹیاں منسوخ کر دیں۔
انہوں نے کے ایم سی کے میونسپل سروسز، فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو (یو ایس اے آر) کے محکموں کو بھی ہدایت کی کہ وہ تمام ضروری خدمات کے محکموں کے ساتھ مل کر رین ایمرجنسی سیل قائم کریں۔
ڈی آئی جی کے میڈیا سیل نے ایک بیان میں کہا کہ کراچی ایسٹ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ڈاکٹر فرخ علی کی ہدایات پر ایسٹ زون کی پولیس بارشوں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تمام سب ڈویژنل پولیس افسران (ایس ڈی پی اوز) اور اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو واضح احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہیں، اور نکاسی آب، ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔’
اس میں مزید کہا گیا کہ ڈی آئی جی نے ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ریسکیو ٹیموں اور ہیلپ لائنز کو فعال رکھا جائے اور عوام کو بروقت رہنمائی اور مدد فراہم کی جائے۔
ڈی آئی جی کے بیان میں شہریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، انہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 15 یا قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ’پولیس ہر موسم میں ہر وقت عوام کے ساتھ ہے۔‘
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے مختلف ٹاؤن چیئرمینوں، میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور میونسپل کمشنرز سے فون پر رابطہ کرکے بارش کے بعد کی صورتحال سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔
انہوں نے ہدایت دی کہ تمام ٹاؤنز اور یونین کونسلز کے چیئرمین اور میونسپل کمشنر فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر سڑکوں سے پانی کی نکاسی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔
انہوں نے اپنے دفتر سے ایک بیان میں کہا کہ پہلے مرحلے میں تمام اہم شاہراہوں کو کلیئر کیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ علاقوں میں مشینری یا دیگر آلات کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی حادثے سے بچنے کے لیے سڑکوں پر پانی کی وجہ سے اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں، اور ان پر زور دیا کہ وہ بجلی کے کھمبوں اور بجلی کی دیگر تنصیبات سے دور رہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بندش کی وجہ سے سیوریج پمپنگ اسٹیشنز کو مشکلات کا سامنا ہے، جنہیں متبادل کے طور پرہنگامی جنریٹرز سے چلایا جا رہا ہے۔
گورنر ہاؤس میں رین ایمرجنسی سیل بھی قائم کیا گیا، بارش اور ٹریفک سے متاثر ہونے والے شہریوں کو فوری طور پر 1366 پر مدد کے لیے پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔
یہ سیل 24 گھنٹے فعال رہے گا اور متاثرین کو بروقت امداد فراہم کرے گا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایک بیان میں کہا کہ شہریوں کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا تھا کہ آنے والے مون سون کے اسپیل سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی اور صوبے کے دیگر حصوں پر متوقع مون سون بارشوں کی تیاریوں کی نگرانی کے لیے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔
ان کے دفتر سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے تمام بلدیاتی اداروں، انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کو ہائی الرٹ پر رکھا اور انہیں متعلقہ محکموں اور تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔












لائیو ٹی وی