• KHI: Clear 19.7°C
  • LHR: Clear 10.6°C
  • ISB: Partly Cloudy 11.2°C
  • KHI: Clear 19.7°C
  • LHR: Clear 10.6°C
  • ISB: Partly Cloudy 11.2°C

’خراب کارکردگی‘، مسلم لیگ (ن) کا میئر کراچی کی حمایت واپس لینے کا اعلان

شائع September 6, 2025
— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے باضابطہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں قائم بلدیاتی حکومت اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی حمایت واپس لینے کا اعلان کر دیا، جس کی وجہ ان کی ’خراب کارکردگی‘، وعدے پورے کرنے میں ناکامی اور انتظامی معاملات سے مسلم لیگ (ن) کو الگ رکھنا قرار دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سٹی کونسل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر فیروز خان نے پیپلزپارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میئر کے انتخاب سے قبل کیے گئے وعدوں کی ’مکمل خلاف ورزی‘ کی گئی ہے۔

سٹی کونسل میں مسلم لیگ (ن) 14کی نشستیں ہیں، فیروز خان نے شکوہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کے باوجود کراچی میں فیصلوں اور انتظامی امور میں مسلم لیگ (ن) کو نظرانداز کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے قائدین کے درمیان ایک واضح معاہدہ تھا، لیکن جیسے ہی مرتضیٰ وہاب نے عہدہ سنبھالا، اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے، لیکن کراچی میں صورتحال ایک ’نقطہ عروج‘ پر پہنچ چکی ہے، جبکہ مرکز کی سیاست مختلف ہے، لیکن مقامی سطح پر ہم ایسی حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتے جو ہمارے مینڈیٹ کو نظرانداز کرے، ہمیں حکومتی عمل سے باہر رکھے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اپوزیشن بنچز پر جانے کا فیصلہ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

پریس کانفرنس کے چند گھنٹے بعد فیروز خان اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر ارکان سٹی کونسل جماعت اسلامی کے پاس گئے، جس سے سٹی کونسل میں ممکنہ سیاسی اتحاد کا اشارہ ملا۔

مسلم لیگ (ن) کا وفد جماعت اسلامی کے ادارہ نورِ حق گیا اور سٹی کونسل کے اپوزیشن لیڈر ایڈووکیٹ سیف الدین سے ملاقات کی، دونوں جماعتوں نے مختلف آپشنز پر بات کی، جن میں میئر مرتضیٰ وہاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا امکان بھی شامل تھا۔

130 نشستوں کے ساتھ جماعت اسلامی سٹی کونسل کی دوسری بڑی جماعت ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کا اتحاد بھی بظاہر میئر مرتضیٰ وہاب کے عہدے کو خطرے میں نہیں ڈالے گا، کیونکہ وہ اپنی جماعت کے 155 اراکین، 2 درجن سے زائد پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اور دیگر کی حمایت سے سادہ اکثریت رکھتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے میئر اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی کارکردگی کو شہر کے مسائل حل کرنے میں ’انتہائی ناکام‘ قرار دیا۔

انہوں نے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں کی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ شہر کے حکام کی غفلت اور انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی کے عوام کو ناقابل قبول حالات میں جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ کے ایم سی صرف کھوکھلے دعوے کر رہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کو مرتضیٰ وہاب کو میئر منتخب کرانے کے لیے ہماری حمایت کی ضرورت تھی تو انہوں نے بڑے بڑے وعدے کیے، لیکن سیٹ حاصل کرنے کے بعد وہ تمام وعدے بھول گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو امید تھی کہ اتحاد کراچی کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، مگر پیپلز پارٹی کی شہری حکومت نے خود کو صرف ’فوٹو سیشنز اور پریس بیانات‘ تک محدود کر لیا اور زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

کارٹون

کارٹون : 5 فروری 2026
کارٹون : 4 فروری 2026