اندراج مقدمہ لازمی قانونی ذمہ داری، غفلت کا کوئی جواز نہیں دیا جاسکتا، سپریم کورٹ

شائع September 23, 2025
— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرنے میں پولیس کی جانب سے وسیع پیمانے اور منظم انداز میں انکار یا تاخیر کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس لازمی قانونی ذمہ داری سے غفلت کے لیے کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ اس طرح کی خلاف ورزیاں فوجداری انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیتی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے یہ بھی قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر کا اندراج مکمل طور پر انتظامی عمل ہے اور اس قانونی ذمہ داری کی خلاف ورزی فوجداری مقدمے میں شامل فریقین کے لیے نہایت سنگین نتائج مرتب کرتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایسا فوجداری انصاف کا نظام جو عام شہریوں کے لیے ناکارہ ہو، جب کہ بااختیار اور مراعات یافتہ طبقہ محفوظ ہو، آئینی حکمرانی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، یہ ذمہ داری متعلقہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ ہر شہری کے ساتھ آئین کے آرٹیکل 4 میں درج ذمہ داری کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔

یہ مشاہدات عدالت نے اس وقت دیے، جب وہ 2 قتل کے مجرموں کی فوجداری اپیل پر فیصلہ سنا رہی تھی، جنہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے تحریر کردہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ایک فعال اور مؤثر فوجداری انصاف کا نظام منصفانہ، دیانتدار اور غیر جانبدارانہ ایف آئی آر کے اندراج پر مبنی ہے، جو کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کے ارتکاب کے بارے میں دفعہ 154 کے تحت درج کی جاتی ہے اور اس کے بعد تفتیش آگے بڑھتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ یہ دونوں انتظامی ذمہ داریاں اتنی اہم ہیں کہ وہ یہ طے کرتی ہیں کہ آیا انصاف ہوگا یا نہیں، آیا اصل مجرم کو سزا ملے گی یا کسی بے گناہ شخص کو ملزم بن کر ناقابل برداشت اذیت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عدالت نے مزید کہا کہ جب ان دو قانونی ذمہ داریوں سے غفلت برتی جائے تو آئینی حکمرانی اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد بری طرح متاثر ہوتی ہے، ریاست اور اس کے اہلکاروں کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو جرائم کا شکار ہونے سے بچائیں اور اگر جرم ہوتا ہے تو مجرم کو جواب دہ بنائیں۔

بینچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مختلف عوامل ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پولیس اسٹیشن کا انچارج کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کی ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام یا انکار کر سکتا ہے، ان میں کام کا بوجھ بڑھنے سے بچنے کی کوشش، امن و امان کی خرابی کو چھپانا، جرائم کو روکنے میں ناکامی، یا پھر بدعنوانی اور سیاسی یا سماجی طور پر بااثر افراد یا گروہوں کے کہنے پر اختیارات کا غلط استعمال شامل ہوسکتا ہے۔

تاہم عدالت نے زور دیا کہ کوئی وجہ بھی دفعہ 154 کے تحت عائد لازمی قانونی ذمہ داری سے غفلت کو درست ثابت نہیں کرسکتی، اس ذمہ داری کی خلاف ورزی نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کو مجروح کرتی ہے بلکہ فوجداری انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر شہری یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ فوجداری انصاف کا نظام صرف بااختیار اور طاقتور افراد کے مفاد کے لیے ہے، تو یہ تصور بھی پیدا ہوگا کہ مقدمہ درج کرانے کے لیے اعلیٰ حکام یا بااثر افراد کی اجازت ضروری ہے، یہ عمل قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتا ہے اور لازمی قانونی ذمہ داری کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ہر صوبائی حکومت کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس تصور کو ختم کرے اور یقینی بنائے کہ ہر کیس میں دفعہ 154 کے تحت لازمی قانونی ذمہ داری سے غفلت نہ برتی جائے، اگر خلاف ورزی ہو تو مستقبل کے لیے روک تھام پیدا کرنے کے لیے مناسب کارروائی کی جائے۔

ایف آئی آر درج کرنے سے انکار یا تاخیر کے اس نظامی رجحان کے بارے میں بینچ نے مزید کہا کہ یہ رجحان وسیع پیمانے پر موجود ہے، کیوں کہ زیادہ تر فوجداری مقدمات میں اس کا مشاہدہ ہوتا رہا ہے اور خاص طور پر یہ رویہ کمزور اور محروم طبقات کے مقدمات میں عام دیکھا گیا ہے۔

بینچ نے اپنے دفتر کو ہدایت کی کہ اس فیصلے کی نقول وزارت داخلہ کے سیکریٹری اور صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو بھجوائی جائیں، تاکہ وہ ان مشاہدات پر غور کے لیے متعلقہ فورمز کے سامنے رکھیں اور لازمی قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے مؤثر اقدامات کریں۔

عدالت نے دونوں اپیل کنندگان کو بری کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ شکارپور کی ایک سیشن عدالت نے مئی 2013 میں غلام قادر نامی شخص کے قتل کے الزام میں میر محمد عرف کورارو اور اللہ ودھایو کو سزائے موت سنائی تھی، 2021 میں سندھ ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جسے ملزمان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 3 فروری 2026
کارٹون : 2 فروری 2026