• KHI: Partly Cloudy 27.2°C
  • LHR: Sunny 20.7°C
  • ISB: Sunny 16.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 27.2°C
  • LHR: Sunny 20.7°C
  • ISB: Sunny 16.8°C

ایچ پی وی ویکسینیشن ٹیموں پر حملوں کے بعد ہیلتھ ورکرز کا سیکیورٹی کا مطالبہ

شائع September 29, 2025
ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے پہلے مرحلے کا اختتام 27 ستمبر کو ہوا تھا — فوٹو: اے ایف پی
ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے پہلے مرحلے کا اختتام 27 ستمبر کو ہوا تھا — فوٹو: اے ایف پی

ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسی نیشن ٹیموں پر 3 دن میں دو پرتشدد حملوں کے بعد خوف و ہراس کی فضا طاری ہوگئی ہے جس کے باعث ہیلتھ ورکرز پولیس تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کے خدشات اور مزید تشدد کے خطرات اس اہم مہم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق بار بار ہونے والے حملوں نے ان ٹیموں میں خوف بٹھا دیا ہے جو نوعمر لڑکیوں کو رحم کے کینسر سے بچانے کے لیے کام کر رہی ہیں، صحت کے کارکنوں نے زور دے کر کہا ہے کہ مناسب پولیس تحفظ کے بغیر ان کا یہ اہم کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔

خواتین صحت کارکنوں کی ایک ٹیم پر ہفتے کے روز اس وقت حملہ کیا گیا تھا، جب وہ گاؤں رتووال کے ایک نان فارمل ایجوکیشن اسکول میں ایچ پی وی ویکسین لگا رہی تھیں، یہ حملہ صرف دو دن قبل اسی ضلع میں پیش آنے والے ایک اور واقعے کے بعد ہوا تھا۔

تازہ حملے میں ایک 55 سالہ شخص اسکول میں داخل ہوا اور ایک خاتون ہیلتھ سپروائزر پر حملے کی کوشش کی۔

اسسٹنٹ سب انسپکٹر صابر اقبال سندھو، ایس ایچ او کٹھیان شیخان پولیس کے مطابق ملزم نے ’سپروائزر پر ڈنڈے سے حملہ کرنے کی کوشش کی اور کرسی اٹھا کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور نازیبا زبان استعمال کی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اچانک حملے سے اسکول میں بھگدڑ مچ گئی اور ویکسی نیشن کا عمل فوری طور پر روکنا پڑا۔

ہیلتھ سپروائزر شمیم انجم نے بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم اپنی جان بچانے کے لیے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، انہوں نے واقعے کے بعد پولیس کو درخواست دی۔

شمیم انجم نے کہا کہ حکام کی طرف سے سیکیورٹی کی جو پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی وہ پوری نہیں ہوئی، 25 ستمبر کے پہلے واقعے پر صوبائی وزیر صحت کی جانب سے دی گئی سیکیورٹی کی یقین دہانی تاحال پوری نہیں ہوئی اور پولیس نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

پولیس نے شکایت پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 186 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جو سرکاری ملازم کو روکنے اور مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

پچھلا حملہ جمعرات کو منڈی بہاالدین کے چک نمبر 38 میں ہوا تھا، جہاں ایک ویکسی نیشن ٹیم کی خاتون کارکن کو مقامی افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعے کے بعد پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے نوٹس لیتے ہوئے صحت کارکنوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات دی تھیں۔

تاہم ویکسی نیشن ٹیموں کا کہنا ہے کہ یہ حکم کبھی نافذ نہیں کیا گیا، جب ایک رپورٹر نے منڈی بہاالدین کے چیف ایگزیکٹو افسر ہیلتھ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا اور فون بند کر دیا۔

ایچ پی وی ویکسین پورے ملک میں متعارف کرائی جا رہی ہے، اس مہم کو ویکسین کے بارے میں غلط فہمیوں، حفاظتی خدشات اور حکام پر عدم اعتماد کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

مہم کے پہلے مرحلے کا اختتام 27 ستمبر کو ہوا، جس کا ہدف 2025 کے آخر تک پنجاب اور دیگر علاقوں میں 9 سے 14 سال کی 90 فیصد لڑکیوں کو ویکسین لگانا ہے۔

یہ پروگرام 2026 اور 2027 میں دیگر صوبوں تک توسیع پائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 7 فروری 2026
کارٹون : 6 فروری 2026