مبینہ طور پر اپوزیشن لیڈر کو نوبیل انعام دینے پر وینزویلا نے ناروے میں سفارت خانہ بند کردیا
جنوبی امریکی ملک وینزویلا نے مبینہ طور پر اپنے ملک کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچادو کو نوبیل انعام دیے جانے پر یورپی ملک ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا۔
امن کا نوبیل انعام ناروے جب کہ باقی تمام انعامات سوئیڈن کی حکومت دیتی ہے لیکن ناروے کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نوبیل انعام کمیٹی پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں، کمیٹی آزادانہ فیصلے کرتی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق وینزویلا کی حکومت نے اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچادو کو 2025 کا نوبیل امن انعام ملنے کے چند دن بعد ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کردیا۔
وینزویلا کی حکومت کے مطابق مذکورہ قدم ان کی خارجہ پالیسی کی ’دوبارہ تشکیل‘ کا حصہ ہے لیکن یہ اقدام مبینہ طور پر نوبیل انعام کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ سے جڑا ہوا لگتا ہے۔
اوسلو میں وینزویلا کے سفارت خانہ بند کیے جانے کو ناروے کی وزارت خارجہ نے ’افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
نوبیل انعام کا اعلان 10 اکتوبر 2025 کو ناروے کی نوبیل کمیٹی نے کیا تھا، کمیٹی نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر خاتون ماریا کورینا مچادو کو امن انعام دیا تھا۔
کمیٹی نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وینزویلا میں جمہوری حقوق کی لگن اور آمریت سے جمہوریت کی طرف پرامن منتقلی کی جدوجہد پر یہ انعام حاصل کر رہی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کو نوبیل انعام دیے جانے پر وینزویلا کے صدر نکولس مدورو نے مچادو کو ’شیطانی جادوگرنی‘ قرار دیا لیکن انعام کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔
ماریا کورینا مچادو کو نوبیل انعام دینے کے اعلان کے تین دن بعد 13 اکتوبر کو وینزویلا کی حکومت نے ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا۔
ماریا کورینا مچادو وینزویلا کی اہم اپوزیشن لیڈر ہیں جو صدر نکولس مدورو کی 12 سالہ حکومت کے خلاف کئی سال سے جدوجہد کر رہی ہیں۔
نوبیل انعام کی وجہ سے ناروے میں دوسرے ممالک کی جانب سے سفارت خانہ بند کرنے کا واقعہ پہلے بھی ہوچکا ہے، 2010 میں چین مخالف رہنما لیو شیاؤ بو کو انعام دیے جانے پر چین نے ناروے میں سفارت خانہ بند کرکے اس کے ساتھ تجارت اور تعلقات معطل کر دیے تھے جو چھ سال بعد بحال ہوئے تھے۔












لائیو ٹی وی