• KHI: Sunny 19°C
  • LHR: Partly Cloudy 9°C
  • ISB: Partly Cloudy 10.1°C
  • KHI: Sunny 19°C
  • LHR: Partly Cloudy 9°C
  • ISB: Partly Cloudy 10.1°C

وفاق نے نئی گندم پالیسی منظور کرلی، کم از کم امدادی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی من مقرر

شائع October 20, 2025
وفاق نے گزشتہ سال آئی ایم ایف کے مطالبے پر گندم کی قیمت کے نظام کو ختم کر دیا تھا — فائل فوٹو: ڈان
وفاق نے گزشتہ سال آئی ایم ایف کے مطالبے پر گندم کی قیمت کے نظام کو ختم کر دیا تھا — فائل فوٹو: ڈان

سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے وفاقی حکومت نے نئی گندم پالیسی منظور کرلی ہے، جس کے تحت 40 کلو گرام گندم کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) 3 ہزار 500 روپے مقرر کی گئی ہے، جب کہ صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ پالیسی اُس وقت سامنے آئی ہے، جب وفاقی حکومت نے گزشتہ سال عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطالبے پر گندم کی قیمت کے نظام کو ختم کر دیا تھا، تاکہ گندم کی منڈی کو آزاد کیا جا سکے۔

تاہم رواں سال ستمبر میں پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد وفاقی وزیرِ قومی خوراک نے اعلان کیا تھا کہ گندم کی پیداوار کے تحفظ کے لیے آئی ایم ایف سے کم از کم امدادی قیمت کے نظام کی بحالی کی اجازت طلب کی جائے گی۔

کم از کم قیمت کی بحالی کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں پنجاب، سندھ، اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبر پختونخوا کے نمائندے اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (ایم این ایف ایس آر) نے ’گندم پالیسی 26-2025 منڈی پر مبنی نظام کی جانب منتقلی‘ کے عنوان سے ایک مسودہ پیش کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گندم پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، گندم نہ صرف پاکستانی عوام کی بنیادی غذا ہے بلکہ یہ ملک کے کسانوں کے لیے سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیونکہ وہ ملکی معیشت کی بنیاد ہیں۔

پالیسی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے تمام متعلقہ فریقین، بشمول صوبائی حکومتوں، کسان تنظیموں، صنعتی نمائندوں، اور کاشتکار برادری کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی ہے، ان مشاورتوں کی بنیاد پر حکومت قومی گندم پالیسی 26-2025 کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہی ہے، جس کا مقصد کسانوں کے منافع کو یقینی بنانا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

اسٹریٹجک ذخائر

گندم پالیسی کی نمایاں خصوصیات کے مطابق، وفاقی اور صوبائی حکومتیں 26-2025 کی گندم کی فصل سے تقریباً 62 لاکھ ٹن گندم بطور اسٹریٹجک ذخیرہ خریدیں گی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ خریداری 40 کلو گرام کے حساب سے 3 ہزار 500 روپے کی اشاریہ قیمت پر کی جائے گی، تاکہ کسانوں کو منصفانہ معاوضہ مل سکے اور منڈی میں مسابقت برقرار رہے۔

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

منڈی کے نظم و نسق کے لیے پالیسی میں ایک قومی نگران کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کی سربراہی وفاقی وزیرِ خوراک کریں گے اور اس میں تمام صوبوں اور خطوں کے نمائندے شامل ہوں گے، یہ کمیٹی ہر ہفتے اجلاس کرے گی اور براہِ راست وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ذرائع نے بتایا کہ گندم پالیسی کا معاملہ وزیراعظم شہباز شریف اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات میں بھی زیرِ بحث آیا تھا، جہاں بلاول بھٹو نے وزیراعظم سے سیلاب زدہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کے وزیرِ زراعت محمد بخش خان مہر نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت صوبوں کو وفاقی منظوری کے بغیر گندم کی امدادی قیمت کے اعلان سے روکا گیا تھا، اس کے نتیجے میں کم از کم امدادی قیمت کے تعین میں تاخیر کسانوں کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

سندھ کے وزیر نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت گندم کی کم از کم امدادی قیمت 40 کلو کے حساب سے کم از کم 4 ہزار 200 روپے مقرر کرے، اگر منصفانہ قیمت نہ دی گئی تو کسان گندم کی کاشت چھوڑ کر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف رخ کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں ملکی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

کارٹون

کارٹون : 5 فروری 2026
کارٹون : 4 فروری 2026