اداریہ: ’کراچی کے کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی بےحسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں‘

شائع December 5, 2025
—تصویر: میٹا اے آئی
—تصویر: میٹا اے آئی

کراچی میں ڈھکن کے بغیر کھلے مین ہولز شہری انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جوکہ شہریوں کو روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہے۔

رواں ہفتے معمول کی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے والے خاندان کو عمر بھر کا روگ مل گیا۔ گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر نوعمر ابراہیم جان سے چلا گیا جس کی لاش سانحے کے 15 گھنٹوں بعد ملی۔ بچے کی موت اور سرچ آپریشن میں تاخیر نے عوامی غصے کو بھڑکایا۔

وہیں ریسکیو ہیلپ لائن نے دعویٰ کیا کہ شہری اداروں اور ٹاؤن انتظامیہ نے سیوریج کے راستوں کے داخلے اور اخراج کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔ عوامی احتجاج، دھرنوں اور مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر جواب دہی کے مطالبات کے باوجود، میئر کے دفتر کی جانب سے معذرت تاخیر سے سامنے آئی۔

تاہم روایت کے مطابق، کچھ افسران کی معطلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے وعدے کے ساتھ ساتھ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ادارہ جاتی تبدیلیوں کی یقین دہانی ضرور کروائی گئی۔

میٹروپول شہر میں سیوریج میں گرنے کے واقعات نہایت عام ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 68 افراد مبینہ طور پر کھلے مین ہولز کی نذر ہوگئے۔ رواں سال رپورٹس کے مطابق، کھلے نالوں اور سیوریج نے 24 رہائشیوں کی جانوں کو نگل لیا جن میں 5 بچے شامل تھے۔ وہ بے حسی جس کی سندھ حکومت عادی ہو چکی ہے، اسے عوام کے جذبات سمجھنے اور ان کے دکھ کا ادراک کرنے سے قاصر بنائے ہوئے ہے۔

سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال کے لیے کروڑوں کے بجٹ کے باوجود، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر اداروں کی مبینہ غفلت نے کراچی کے تقریباً 50 فیصد کم آمدنی والے علاقوں کو کھلے موت کے گڑھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کھلے نالوں اور مین ہولز کا معاملہ بھی نہایت سنگین ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ معیار کے ایسے ڈھکنوں کی ضرورت ہے جو نشے کے عادی افراد ہٹا نہ سکیں اور نہ ہی بھاری گاڑیاں انہیں نقصان پہنچا سکیں جبکہ ایسے ڈھکن ہر مین ہول پر لگائے جائیں۔ فنڈز کو بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والے مین ہول اسکیننگ سسٹمز کی تنصیب پر بھی خرچ کیا جانا چاہیے جو ساختی حالت کا ڈیٹا اکٹھا اور نقشہ بندی کرتے ہیں۔

دیگر بڑے شہروں کے برعکس، کراچی کی سڑکیں موت کے جال بن چکی ہیں۔ زندگی سے بھرپور یہ شہر، بیک وقت زندہ رہنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔


یہ تحریر انگریزی میں پڑھیے۔

اداریہ

کارٹون

کارٹون : 23 جنوری 2026
کارٹون : 22 جنوری 2026