اوپن اے آئی نے آسٹریلیا میں 4.6 ارب ڈالر مالیت کے اے آئی سینٹر کے قیام کا معاہدہ کرلیا
چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی اور ایک آسٹریلوی ڈیٹا سینٹر آپریٹر نے سڈنی میں اربوں ڈالر مالیت کے اے آئی مرکز کے قیام کا معاہدہ کیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق برسبین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والی کمپنی نیکسٹ ڈی سی نے جمعہ کو کہا کہ اس نے اوپن اے آئی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کیمپس اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس کے ’سپر کلسٹر‘ کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
نیکسٹ ڈی سی کے مطابق دونوں کمپنیاں مغربی سڈنی میں اے آئی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، ترقی اور آپریشن پر تعاون کریں گی۔
نیکسٹ ڈی سی کے حصص جمعے کے ابتدائی اوقات میں 4.1 فیصد بڑھ گئے۔
آسٹریلوی حکومت نے کہا کہ یہ 7 ارب آسٹریلوی ڈالر (4.6 ارب امریکی ڈالر) کا منصوبہ تعمیراتی مراحل کے دوران ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا، اور بعد ازاں تکنیکی، مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ اور آپریشنل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کرے گا۔
حکومت نے بتایا کہ اس منصوبے میں نئی قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے لیے طویل مدتی پاور پرچیز ایگریمنٹس استعمال کیے جائیں گے اور ایسے نیکسٹ جنریشن فیچرز شامل ہوں گے جن میں ٹھنڈک کے لیے پینے کے پانی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
خزانچی جم چالمرز نے کہا کہ ’یہ مزید ثبوت ہے کہ آسٹریلیا کے پاس ٹیلنٹ، صاف توانائی کی صلاحیت، تجارتی شراکت داری، اور پالیسی کے انتظامات موجود ہیں جو اسے اے آئی کے شعبے میں بڑے کامیاب ممالک میں شامل کر سکتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس قسم کی شراکت داریاں اچھی ملازمتیں پیدا کرنے، مہارتیں بڑھانے، اور اے آئی کو ہماری معیشت میں وسیع پیمانے پر اپنانے میں مدد کریں گی‘۔












لائیو ٹی وی