ہڑتال کے باوجود رجب بٹ کی نمائندگی پر وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل
لاہور: پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کے باوجود کراچی سٹی کورٹ میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا پریکٹس لائسنس معطل کر دیا۔
یہ ہڑتال کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی گئی تھی، جس کے دوران شہر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائیاں مکمل طور پر ممنوع تھیں۔
پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین زبیع اللہ نگری کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ اقدام کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد اٹھایا گیا۔
خط میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا گیا، جس میں ایڈووکیٹ اشفاق کو وکلا کی جاری ہڑتال کے دوران رجب بٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی سٹی کورٹ میں پیش ہوتے دیکھا گیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اشفاق مبینہ طور پر نجی گارڈز یا افراد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جو ہڑتال کی پابندیوں اور قانونی پیشہ ورانہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مزید کہا گیا کہ اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران انہوں نے قانونی برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پنجاب بار کونسل نے سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی قرار دیا۔
حکم کے مطابق ان بیانات کے باعث وکلا برادری میں تقسیم، تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے قانونی برادری کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا۔
کونسل نے کہا کہ ایڈووکیٹ اشفاق کا طرزِ عمل اختلاف اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے کا باعث بنا۔
ریکارڈ کے جائزے میں بتایا گیا کہ میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ کونسل کے مطابق ایک پریکٹس کرنے والے وکیل پر لازم ہے کہ وہ ہر وقت قانونی پیشے کے وقار اور بلند معیار کو برقرار رکھے۔
ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ قانون کے مطابق لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔
ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے زبیع اللہ نگری نے کہا کہ پنجاب بار کونسل ایک قانونی و ضابطہ جاتی ادارہ ہے اور پیشہ ورانہ بدسلوکی کے معاملات میں لائسنس معطل کرنے سے قبل نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر اندراج شدہ وکیل کو بار کونسل کے قواعد میں درج ضابطہ اخلاق کا مکمل علم ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ پیر کو یوٹیوبر رجب بٹ کو کراچی کی سیشنز کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں ان کی نمائندگی میاں علی اشفاق کر رہے تھے۔
یہ سماعت تشدد اور بدنظمی کا شکار ہو گئی تھی۔
واضح رہے کہ میاں علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے مقدمے میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔












لائیو ٹی وی