اداریہ: صحافیوں، بلاگرز کو عمر قید، ریاست کا اقدام زیادہ سخت نہیں؟

شائع January 4, 2026

انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی 2023 کے واقعات میں مبینہ کردار پر بلاگرز اور صحافیوں کو دی جانے والی عمر قید کی سزائیں سزا اور جرم کے تناسب، شفاف عدالتی عمل اور پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے مستقبل سے متعلق سوالات کو جنم دیتی ہیں۔

بلاشبہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والا تشدد، جس میں فوجی اور ریاستی تنصیبات پر حملے شامل تھے، کئی ریڈ لائنز کو عبور کرگیا۔ اسی طرح اس دوران گردش کرنے والا بہت سا ڈیجیٹل تبصرہ حد سے بڑھا ہوا، قیاس آرائی پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور بعض صورتوں میں حقائق کے منافی تھا۔

سزا پانے والوں میں سے کچھ کی تنقید اگرچہ قابلِ قبول حدود سے باہر نہیں گئی، تاہم دیگر افراد نے سنسنی خیزی، آدھے سچ اور جارحانہ لہجے کے ذریعے اپنی آڈیئنس کو مشتعل کیا، جس سے رائے اور اشتعال انگیزی کے درمیان لکیر دھندلا گئی۔ اس رویے پر تنقید کرنی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کسی بحران کے وقت غلط معلومات پھیلانے یا جذبات بھڑکانے کا لائسنس نہیں دیتی۔

یہ پہلو بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان میں سے کئی آوازیں پی ٹی آئی کے عروج کے دور میں اس کی نمایاں حامی تھیں اور اس وقت انہوں نے نواز شریف اور ان کی جماعت سمیت سیاسی مخالفین پر سخت حملے کیے، مگر انہیں ریاست کی جانب سے اسی نوعیت کی قانونی جانچ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ احتساب کی یہ انتخابی نوعیت ریاستی اقدام کی اخلاقی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔ تاہم ان حقائق کا اعتراف بھی ان سزاؤں کو کم تشویشناک نہیں بناتا۔

غیر حاضری میں ہونے والی سماعتوں اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے وسیع دائرۂ اختیار کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کو عمر قید دینا مبینہ طور پر اظہار اور تبصرے جیسے جرائم کے مقابلے میں غیر متناسب ہے۔

قانونی طور پر زیادہ نپی تلی راہیں موجود تھیں۔ جہاں مواد ہتک آمیز، ثابت شدہ طور پر غلط یا بدنیتی پر مبنی تھا، وہاں دیوانی ہتکِ عزت کے مقدمات یا محدود فوجداری دفعات کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا تھا، بغیر اس کے کہ ریاست کے سخت ترین ہتھیار استعمال کیے جاتے۔

سخت ترین راستہ اختیار کر کے حکام ایک ایسی مثال قائم کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں جو متعلقہ افراد سے کہیں آگے بڑھ کر جائز صحافت اور اختلافِ رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔

استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام منصفانہ رہے۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو غیر ذمہ دارانہ باتوں اور اظہارِ رائے کا مقابلہ حد سے زیادہ سخت سزائیں دیے بغیر بھی کر سکے۔

اداریہ کو انگریزی میں پڑھیں۔

اداریہ

کارٹون

کارٹون : 5 جنوری 2026
کارٹون : 4 جنوری 2026