بنگلہ دیش نے آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی لگادی
بنگلہ دیش کی حکومت نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی نشریات اور اس کی تشہیر پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی۔ یہ فیصلہ بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمٰن کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے اسکواڈ سے نکالے جانے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔
بنگلہ دیش کی ٹیم کو آئندہ ماہ کولکتہ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تین میچ کھیلنے ہے۔ 7 فروری سے 8 مارچ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ کے بھارت اور سری لنکا مشترکہ میزبان ہیں۔
اتوار کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اس نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا کہ مستفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل سے نکالنے کے فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، جس سے بنگلہ دیشی عوام میں شدید اضطراب پیدا ہوا ہے۔
بیان کے مطابق اس تناظر میں آئی پی ایل میچز کی نشریات سے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے، جو عوامی مفاد میں ہے۔
یہ بیان وزارت کے اسسٹنٹ سیکریٹری فیروز خان کے دستخط سے جاری کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کی کوئی منطقی وجہ نہیں اور اس نے بنگلہ دیشی عوام کو پریشان، حیران اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ مزید احکامات تک آئی پی ایل کے تمام میچز اور ایونٹس کی تشہیر اور نشریات بند کر دی جائیں۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 2008 میں آئی پی ایل کے آغاز سے اب تک بنگلہ دیش میں اس کی نشریات ٹی وی چینلز اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ہوتی رہی ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے دنیا میں کہیں بھی کسی بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹ کی نشریات پر پابندی عائد کی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبُل نے ہفتے کی شب صحافیوں سے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کی عزت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔
مستفیض الرحمٰن، جو اس سے قبل بھی مختلف ٹیموں کی جانب سے آئی پی ایل کھیل چکے ہیں، کو دسمبر میں ہونے والی نیلامی میں کولکتہ نے ایک ملین ڈالر سے زائد رقم میں خریدا تھا۔











لائیو ٹی وی